اخفا کے لئے ہے اس قدر جوش و خروش

Ismail Meeruthi (1844–1917)

اخفا کے لئے ہے اس قدر جوش و خروش

یاں ہوش کا مقتضا ہے بننا مدہوش

حسن ازلی تو ہے ازل سے ظاہر

یعنی ہے تجلیوں میں اپنی روپوش