Poetry
- رہ و رسمِ حرم نا محرمانہکلیسا کی ادا سوداگرانہAllama Iqbal (1877–1938)
- ظلامِ بحر میں کھو کر سنبھل جاتڑپ جا، پیچ کھا کھا کر بدل جاAllama Iqbal (1877–1938)
- مکانی ہُوں کہ آزادِ مکاں ہُوںجہاںبِیں ہُوں کہ خود سارا جہاں ہُوںAllama Iqbal (1877–1938)
- خودی کی خلوتوں میں گُم رہا مَیںخدا کے سامنے گویا نہ تھا مَیںAllama Iqbal (1877–1938)
- پریشاں کاروبارِ آشنائیپریشاں تر مری رنگیں نوائی!Allama Iqbal (1877–1938)
- یقیں، مثلِ خلیل آتش نشینییقیں، اللہ مستی، خود گُزینیAllama Iqbal (1877–1938)
- عرب کے سوز میں سازِ عجم ہےحرم کا راز توحیدِ اُمَم ہےAllama Iqbal (1877–1938)
- کوئی دیکھے تو میری نَے نوازینفس ہندی، مقامِ نغمہ تازیAllama Iqbal (1877–1938)
- ہر اک ذرّے میں ہے شاید مکیں دلاسی جلوَت میں ہے خلوَت نشیں دلAllama Iqbal (1877–1938)
- ترا اندیشہ افلاکی نہیں ہےتری پرواز لولاکی نہیں ہےAllama Iqbal (1877–1938)
- نہ مومن ہے نہ مومن کی امیریرہا صُوفی، گئی روشن ضمیریAllama Iqbal (1877–1938)
- خودی کی جلوَتوں میں مُصطفائیخودی کی خلوَتوں میں کبریائیAllama Iqbal (1877–1938)
- نِگہ اُلجھی ہوئی ہے رنگ و بُو میںخرد کھوئی گئی ہے چار سُو میںAllama Iqbal (1877–1938)
- جمالِ عشق و مستی نَے نوازیجلالِ عشق و مستی بے نیازیAllama Iqbal (1877–1938)
- وہ میرا رونقِ محفل کہاں ہےمری بجلی، مرا حاصل کہاں ہےAllama Iqbal (1877–1938)
- سوارِ ناقہ و محمل نہیں مَیںنشانِ جادہ ہوں، منزل نہیں مَیںAllama Iqbal (1877–1938)
- ترے سِینے میں دَم ہے، دل نہیں ہےترا دَم گرمیِ محفل نہیں ہےAllama Iqbal (1877–1938)
- ترا جوہر ہے نوری ، پاک ہے توفروغ دیدئہ افلاک ہے توAllama Iqbal (1877–1938)
- محبّت کا جُنوں باقی نہیں ہےمسلمانوں میں خُوں باقی نہیں ہےAllama Iqbal (1877–1938)
- خودی کے زور سے دُنیا پہ چھا جامقامِ رنگ و بُو کا راز پا جاAllama Iqbal (1877–1938)
- چمن میں رختِ گُل شبنم سے تر ہےسمن ہے، سبزہ ہے، بادِ سحَر ہےAllama Iqbal (1877–1938)
- خرد سے راہرو روشن بصر ہےخرد کیا ہے، چراغِ رہ گزر ہےAllama Iqbal (1877–1938)
- جوانوں کو مری آہِ سحَر دےپھر ان شاہیں بچوں کو بال و پر دےAllama Iqbal (1877–1938)
- تری دنیا جہانِ مُرغ و ماہیمری دنیا فُغانِ صبح گاہیAllama Iqbal (1877–1938)
- کرم تیرا کہ بے جوہر نہیں مَیںغلامِ طغرل و سنجر نہیں مَیںAllama Iqbal (1877–1938)
- وہی اصلِ مکان و لامکاں ہےمکاں کیا شے ہے، اندازِ بیاں ہےAllama Iqbal (1877–1938)
- کبھی آوارہ و بے خانماں عشقکبھی شاہِ شہاں نوشیرواں عشقAllama Iqbal (1877–1938)
- کبھی تنہائیِ کوہ و دمن عشقکبھی سوز و سرُور و انجمن عشقAllama Iqbal (1877–1938)
- عطا اسلاف کا جذب دروں کرشریک زمرئہ لا یحزنوں ، کرAllama Iqbal (1877–1938)
- یہ نکتہ میں نے سیکھا بُوالحسن سےکہ جاں مرتی نہیں مرگِ بدن سےAllama Iqbal (1877–1938)
- خرد واقف نہیں ہے نیک و بد سےبڑھی جاتی ہے ظالم اپنی حد سےAllama Iqbal (1877–1938)
- خدائی اہتمامِ خشک و تر ہےخداوندا! خدائی دردِ سر ہےAllama Iqbal (1877–1938)
- یہی آدم ہے سُلطاں بحر و بَر کاکہوں کیا ماجرا اس بے بصر کاAllama Iqbal (1877–1938)
- دمِ عارف نسیمِ صبح دم ہےاسی سے ریشۂ معنی میں نَم ہےAllama Iqbal (1877–1938)
- رگوں میں وہ لہُو باقی نہیں ہےوہ دل، وہ آرزو باقی نہیں ہےAllama Iqbal (1877–1938)
- کھُلے جاتے ہیں اسرارِ نہانیگیا دَورِ حدیثِ ’لن ترانی‘Allama Iqbal (1877–1938)
- زمانے کی یہ گردش جاودانہحقیقت ایک تُو، باقی فسانہAllama Iqbal (1877–1938)
- حکیمی، نامسلمانی خودی کیکلیمی، رمزِ پنہانی خودی کیAllama Iqbal (1877–1938)
- ترا تن رُوح سے ناآشنا ہےعجب کیا! آہ تیری نارسا ہےAllama Iqbal (1877–1938)
- اقبال نے کل اہل خیاباں کو سنایایہ شعر نشاط آور و پر سوز طرب ناکAllama Iqbal (1877–1938)
- دعا (مسجد قرطبہ میں لکھی گئی)Allama Iqbal (1877–1938)
- مسجد قرطبہAllama Iqbal (1877–1938)
- قید خانے میں معتمدکی فریادAllama Iqbal (1877–1938)
- عبد الرحمن اول کا بویا ہوا کھجور کا پہلا درختAllama Iqbal (1877–1938)
- ہسپانیہAllama Iqbal (1877–1938)
- طارق کی دعاAllama Iqbal (1877–1938)
- لیننAllama Iqbal (1877–1938)
- فرشتوں کاگیتAllama Iqbal (1877–1938)
- ذوق و شوقAllama Iqbal (1877–1938)
- پروانہ اور جگنوAllama Iqbal (1877–1938)