دعا (مسجد قرطبہ میں لکھی گئی)

Allama Iqbal (1877–1938)

ہے یہی میری نماز، ہے یہی میرا وضو

میری نواؤں میں ہے میرے جگر کا لہُو

صُحبتِ اہلِ صفا، نُور و حضور و سُرور

سر خوش و پُرسوز ہے لالہ لبِ آبُجو

راہِ محبّت میں ہے کون کسی کا رفیق

ساتھ مرے رہ گئی ایک مری آرزو

میرا نشیمن نہیں درگہِ میر و وزیر

میرا نشیمن بھی تُو، شاخِ نشیمن بھی تُو

تجھ سے گریباں مرا مطلعِ صُبحِ نشور

تجھ سے مرے سینے میں آتشِ ’اَﷲ ھو‘

تجھ سے مری زندگی سوز و تب و درد و داغ

تُو ہی مری آرزو، تُو ہی مری جُستجو

پاس اگر تُو نہیں، شہر ہے ویراں تمام

تُو ہے تو آباد ہیں اُجڑے ہُوئے کاخ و کُو

پھر وہ شرابِ کُہن مجھ کو عطا کر کہ مَیں

ڈھُونڈ رہا ہوں اُسے توڑ کے جام و سُبو

چشمِ کرم ساقیا! دیر سے ہیں منتظر

جلوَتیوں کے سُبو، خلوَتیوں کے کُدو

تیری خدائی سے ہے میرے جُنوں کو گِلہ

اپنے لیے لامکاں، میرے لیے چار سُو!

فلسفہ و شعر کی اور حقیقت ہے کیا

حرفِ تمنّا، جسے کہہ نہ سکیں رُو بُرو