خرد سے راہرو روشن بصر ہے
Allama Iqbal (1877–1938)خرد سے راہرو روشن بصر ہے
خرد کیا ہے، چراغِ رہ گزر ہے
درُونِ خانہ ہنگامے ہیں کیا کیا
چراغِ رہ گزر کو کیا خبر ہے!
خرد سے راہرو روشن بصر ہے
خرد کیا ہے، چراغِ رہ گزر ہے
درُونِ خانہ ہنگامے ہیں کیا کیا
چراغِ رہ گزر کو کیا خبر ہے!