دمِ عارف نسیمِ صبح دم ہے

Allama Iqbal (1877–1938)

دمِ عارف نسیمِ صبح دم ہے

اسی سے ریشۂ معنی میں نَم ہے

اگر کوئی شعیب آئے میَسّر

شبانی سے کِلیمی دو قدم ہے