ترے سِینے میں دَم ہے، دل نہیں ہے

Allama Iqbal (1877–1938)

ترے سِینے میں دَم ہے، دل نہیں ہے

ترا دَم گرمیِ محفل نہیں ہے

گزر جا عقل سے آگے کہ یہ نُور

چراغِ راہ ہے، منزل نہیں ہے