نہ لازم توقع ہے اہل محل سے

Deepak Purohit (b. 1954)

نہ لازم توقع ہے اہل محل سے

کرو زیست شاداب علم و عمل سے

حجاب و حیا سوچتے رہ گئے ہیں

ملی عشق میں کامیابی پہل سے

یوں ناکامیاں ہم سفر ہیں مسلسل

کہ لے دے کے امید ہے اب اجل سے

حیات و فنا کا یہ کیا سلسلہ ہے

نہیں راز افشاں ہوا یہ ازل سے

یتیمی و لا وارثی بیوگی کے

بجز کچھ نہ حاصل ہے جنگ و جدل سے