سب نقش اس فلک کے نگینے پہ آ رہے

Mir Hasan (1727–1786)

سب نقش اس فلک کے نگینے پہ آ رہے

کار جہاں تمام کمینے پہ آ رہے

آگے جو دلبری تھی سو عاشق کشی ہے اب

جو کام مہر کے تھے سو کینے پہ آ رہے

غصے میں جوش مارا جو دریائے حسن نے

جلوے نزاکتوں کے پسینے پہ آ رہے

ڈرتا ہے دل کہ اس پہ ترقی نہ ہو کہیں

ملنے کے وقت اب تو مہینے پہ آ رہے

تو کچھ نہ بولے اور مزہ ہو کہ میرا ہاتھ

کاندھے سے تیرے مستی میں سینے پہ آ رہے

دریائے دل کی موج سے خطرہ ہے چشم کو

مت یہ کہیں اچھل کے سفینے پہ آ رہے

پولی تلے گزر گئی لاکھوں کی عمر اب

گنبد میں کوئی کون سے جینے پہ آ رہے

جن کا دماغ عرش پہ تھا اب ہیں پائمال

کوٹھے پہ جو کہ رہتے تھے زینے پہ آ رہے

گنج نہاں سے دل کے تو واقف ہوے نہ ہم

کیا فائدہ جو زر کے دفینے پہ آ رہے

دو دن کے چاؤ چوز حسنؔ کے وہ ہو چکے

پھر رفتہ رفتہ اپنے قرینے پہ آ رہے