Poetry
- کچھ دنوں تو شہر سارا اجنبی سا ہو گیاپھر ہوا یوں وہ کسی کی میں کسی کا ہو گیاNida Fazli (1938–2016)
- کچھ طبیعت ہی ملی تھی ایسی چین سے جینے کی صورت نہ ہوئیجس کو چاہا اسے اپنا نہ سکے جو ملا اس سے محبت نہ ہوئیNida Fazli (1938–2016)
- کچے بخیے کی طرح رشتے ادھڑ جاتے ہیںلوگ ملتے ہیں مگر مل کے بچھڑ جاتے ہیںNida Fazli (1938–2016)
- کسی بھی شہر میں جاؤ کہیں قیام کروکوئی فضا کوئی منظر کسی کے نام کروNida Fazli (1938–2016)
- کسی سے خوش ہے کسی سے خفا خفا سا ہےوہ شہر میں ابھی شاید نیا نیا سا ہےNida Fazli (1938–2016)
- کوشش کے باوجود یہ الزام رہ گیاہر کام میں ہمیشہ کوئی کام رہ گیاNida Fazli (1938–2016)
- کوئی کسی سے خوش ہو اور وہ بھی بارہا ہو یہ بات تو غلط ہےرشتہ لباس بن کر میلا نہیں ہوا ہو یہ بات تو غلط ہےNida Fazli (1938–2016)
- کوئی کسی کی طرف ہے کوئی کسی کی طرفکہاں ہے شہر میں اب کوئی زندگی کی طرفNida Fazli (1938–2016)
- کوئی نہیں ہے آنے والا پھر بھی کوئی آنے کو ہےآتے جاتے رات اور دن میں کچھ تو جی بہلانے کو ہےNida Fazli (1938–2016)
- کوئی ہندو کوئی مسلم کوئی عیسائی ہےسب نے انسان نہ بننے کی قسم کھائی ہےNida Fazli (1938–2016)
- کوئی ہنگامہ اٹھایا جائےبے سبب شور مچایا جائےNida Fazli (1938–2016)
- گرجا میں مندروں میں اذانوں میں بٹ گیاہوتے ہی صبح آدمی خانوں میں بٹ گیاNida Fazli (1938–2016)
- گرج برس پیاسی دھرتی پر پھر پانی دے مولاچڑیوں کو دانے بچوں کو گڑ دھانی دے مولاNida Fazli (1938–2016)
- گھر سے نکلے تو ہو سوچا بھی کدھر جاؤ گےہر طرف تیز ہوائیں ہیں بکھر جاؤ گےNida Fazli (1938–2016)
- مٹھی بھر لوگوں کے ہاتھوں میں لاکھوں کی تقدیریں ہیںجدا جدا ہیں دھرم علاقے ایک سی لیکن زنجیریں ہیںNida Fazli (1938–2016)
- محبت میں وفاداری سے بچئےجہاں تک ہو اداکاری سے بچئےNida Fazli (1938–2016)
- من بیراگی تن انوراگی قدم قدم دشواری ہےجیون جینا سہل نہ جانو بہت بڑی فن کاری ہےNida Fazli (1938–2016)
- منہ کی بات سنے ہر کوئی دل کے درد کو جانے کونآوازوں کے بازاروں میں خاموشی پہچانے کونNida Fazli (1938–2016)
- میری تیری دوریاں ہیں اب عبادت کے خلافہر طرف ہے فوج آرائی محبت کے خلافNida Fazli (1938–2016)
- میں اپنے اختیار میں ہوں بھی نہیں بھی ہوںدنیا کے کاروبار میں ہوں بھی نہیں بھی ہوںNida Fazli (1938–2016)
- نزدیکیوں میں دور کا منظر تلاش کرجو ہاتھ میں نہیں ہے وہ پتھر تلاش کرNida Fazli (1938–2016)
- نشہ نشہ کے لئے ہے عذاب میں شاملکسی کی یاد کو کیجے شراب میں شاملNida Fazli (1938–2016)
- نہ جانے کون سا منظر نظر میں رہتا ہےتمام عمر مسافر سفر میں رہتا ہےNida Fazli (1938–2016)
- نیل گگن میں تیر رہا ہے اجلا اجلا پورا چاندماں کی لوری سا بچے کے دودھ کٹورے جیسا چاندNida Fazli (1938–2016)
- نئی نئی آنکھیں ہوں تو ہر منظر اچھا لگتا ہےکچھ دن شہر میں گھومے لیکن اب گھر اچھا لگتا ہےNida Fazli (1938–2016)
- وقت بنجارا صفت لمحہ بہ لمحہ اپناکس کو معلوم یہاں کون ہے کتنا اپناNida Fazli (1938–2016)
- وہ خوش لباس بھی خوش دل بھی خوش ادا بھی ہےمگر وہ ایک ہے کیوں اس سے یہ گلہ بھی ہےNida Fazli (1938–2016)
- ہر اک رستہ اندھیروں میں گھرا ہےمحبت اک ضروری حادثہ ہےNida Fazli (1938–2016)
- ہر ایک بات کو چپ چاپ کیوں سنا جائےکبھی تو حوصلہ کر کے نہیں کہا جائےNida Fazli (1938–2016)
- ہر ایک گھر میں دیا بھی جلے اناج بھی ہواگر نہ ہو کہیں ایسا تو احتجاج بھی ہوNida Fazli (1938–2016)
- ہر چمکتی قربت میں ایک فاصلہ دیکھوںکون آنے والا ہے کس کا راستہ دیکھوںNida Fazli (1938–2016)
- ہر طرف ہر جگہ بے شمار آدمیپھر بھی تنہائیوں کا شکار آدمیNida Fazli (1938–2016)
- ہر گھڑی خود سے الجھنا ہے مقدر میرامیں ہی کشتی ہوں مجھی میں ہے سمندر میراNida Fazli (1938–2016)
- ہوش والوں کو خبر کیا بے خودی کیا چیز ہےعشق کیجے پھر سمجھئے زندگی کیا چیز ہےNida Fazli (1938–2016)
- ہوئے سب کے جہاں میں ایک جب اپنا جہاں اور ہممسلسل لڑتے رہتے ہیں زمین و آسماں اور ہمNida Fazli (1938–2016)
- یقین چاند پہ سورج میں اعتبار بھی رکھمگر نگاہ میں تھوڑا سا انتظار بھی رکھNida Fazli (1938–2016)
- یوں لگ رہا ہے جیسے کوئی آس پاس ہےوہ کون ہے جو ہے بھی نہیں اور اداس ہےNida Fazli (1938–2016)
- یہ جو پھیلا ہوا زمانہ ہےاس کا رقبہ غریب خانہ ہےNida Fazli (1938–2016)
- یہ کیسی کشمکش ہے زندگی میںکسی کو ڈھونڈتے ہیں ہم کسی میںNida Fazli (1938–2016)
- یہ نہ پوچھو کہ واقعہ کیا ہےکس کی نظروں کا زاویہ کیا ہےNida Fazli (1938–2016)
- آؤکہیں سے تھوڑی سی مٹی بھر لائیںNida Fazli (1938–2016)
- اگر قبرستان میںالگ الگ کتبے نہ ہوںNida Fazli (1938–2016)
- بیٹھے بیٹھے یوں ہی قلم لے کرمیں نے کاغذ کے ایک کونے پرNida Fazli (1938–2016)
- تم نےشاید کسی رسالے میںNida Fazli (1938–2016)
- تو اس طرح سے مری زندگی میں شامل ہےجہاں بھی جاؤں یہ لگتا ہے تیری محفل ہےNida Fazli (1938–2016)
- جامن کی اک شاخ پہ بیٹھی اک چڑیاہرے ہرے پتوں میں چھپ کر گاتی ہےNida Fazli (1938–2016)
- دور شاداب پہاڑی پہ بنا اک بنگلہلال کھپریلوں پہ پھیلی ہوئی انگور کی بیلNida Fazli (1938–2016)
- دیوتا ہے کوئی ہم میںنہ فرشتہ کوئیNida Fazli (1938–2016)
- سنا ہے میں نے!کئی دن سے تم پریشاں ہوNida Fazli (1938–2016)
- سورج!اک نٹ کھٹ بالک ساNida Fazli (1938–2016)