Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. کوچۂ جاناں میں جا نکلے جو غلماں بھول کریاد ہو اس کو نہ پھر گلزار رضواں بھول کرFani Badayuni (1879–1941)
  2. کیا چھپاتے کسی سے حال اپناجی ہی جب ہو گیا نڈھال اپناFani Badayuni (1879–1941)
  3. کیا کہیے کہ بیداد ہے تیری بیدادطوفان محبت کی ہے زد میں فریادFani Badayuni (1879–1941)
  4. کی وفا یار سے ایک ایک جفا کے بدلےہم نے گن گن کے لیے خون وفا کے بدلےFani Badayuni (1879–1941)
  5. کیوں نہ نیرنگ جنوں پر کوئی قرباں ہو جائےگھر وہ صحرا کہ بہار آئے تو زنداں ہو جائےFani Badayuni (1879–1941)
  6. گزر گیا انتظار حد سے یہ وعدۂ ناتمام کب تکنہ مرنے دے گی مجھے ستم گر تری تمنائے خام کب تکFani Badayuni (1879–1941)
  7. لطف و کرم کے پتلے ہو اب قہر و ستم کا نام نہیںدل پہ خدا کی مار کہ پھر بھی چین نہیں آرام نہیںFani Badayuni (1879–1941)
  8. لے اعتبار وعدۂ فردا نہیں رہااب یہ بھی زندگی کا سہارا نہیں رہاFani Badayuni (1879–1941)
  9. مآل سوز غم ہائے نہانی دیکھتے جاؤبھڑک اٹھی ہے شمع زندگانی دیکھتے جاؤFani Badayuni (1879–1941)
  10. مایۂ ناز راز ہیں ہم لوگمحرم راز ناز ہیں ہم لوگFani Badayuni (1879–1941)
  11. مجھ پہ رکھتے ہیں حشر میں الزامآ نہ جائے زباں پہ تیرا نامFani Badayuni (1879–1941)
  12. مجھ کو مرے نصیب نے روز ازل سے کیا دیادولت دو جہاں نہ دی اک دل مبتلا دیاFani Badayuni (1879–1941)
  13. محتاج اجل کیوں ہے خود اپنی قضا ہو جاغیرت ہو تو مرنے سے پہلے ہی فنا ہو جاFani Badayuni (1879–1941)
  14. مر کر ترے خیال کو ٹالے ہوئے تو ہیںہم جان دے کے دل کو سنبھالے ہوئے تو ہیںFani Badayuni (1879–1941)
  15. مر کر مریض غم کی وہ حالت نہیں رہییعنی وہ اضطراب کی صورت نہیں رہیFani Badayuni (1879–1941)
  16. مزاج دہر میں ان کا اشارہ پائے جاجو ہو سکے تو بہرحال مسکرائے جاFani Badayuni (1879–1941)
  17. میرے لب پر کوئی دعا ہی نہیںاس کرم کی کچھ انتہا ہی نہیںFani Badayuni (1879–1941)
  18. نام بدنام ہے ناحق شب تنہائی کاوہ بھی اک رخ ہے تری انجمن آرائی کاFani Badayuni (1879–1941)
  19. نہ ابتدا کی خبر ہے نہ انتہا معلومرہا یہ وہم کہ ہم ہیں سو وہ بھی کیا معلومFani Badayuni (1879–1941)
  20. نہیں منظور تپ ہجر کا رسوا ہوناتیرے بیمار کا اچھا نہیں اچھا ہوناFani Badayuni (1879–1941)
  21. وادئ شوق میں وارفتۂ رفتار ہیں ہمبے خودی کچھ تو بتا کس کے طلب گار ہیں ہمFani Badayuni (1879–1941)
  22. واہمہ کی یہ مشق پیہم کیایاس و امید شادی و غم کیاFani Badayuni (1879–1941)
  23. وائے نادانی یہ حسرت تھی کہ ہوتا در کھلاہم قفس راز اسیری کیا کہیں کیونکر کھلاFani Badayuni (1879–1941)
  24. وہ پوچھتے ہیں ہجر میں ہے اضطراب کیاحیران ہوں کہ دوں انہیں اس کا جواب کیاFani Badayuni (1879–1941)
  25. وہ جی گیا جو عشق میں جی سے گزر گیاعیسیٰ کو ہو نوید کہ بیمار مر گیاFani Badayuni (1879–1941)
  26. وہ کہتے ہیں کہ ہے ٹوٹے ہوئے دل پر کرم میرامگر منجملۂ آداب غم خواری ہے غم میراFani Badayuni (1879–1941)
  27. وہ مشق خوئے تغافل پھر ایک بار رہےبہت دنوں مرے ماتم میں سوگوار رہےFani Badayuni (1879–1941)
  28. ہر تبسم کو چمن میں گریہ ساماں دیکھ کرجی لرز جاتا ہے ان غنچوں کو خنداں دیکھ کرFani Badayuni (1879–1941)
  29. ہر گھڑی انقلاب میں گزریزندگی کس عذاب میں گزریFani Badayuni (1879–1941)
  30. ہم موت بھی آئے تو مسرور نہیں ہوتےمجبور غم اتنے بھی مجبور نہیں ہوتےFani Badayuni (1879–1941)
  31. ہو کاش وفا وعدۂ فردائے قیامتآئے گی مگر دیکھیے کب آئے قیامتFani Badayuni (1879–1941)
  32. یاں ہوش سے بے زار ہوا بھی نہیں جاتااس بزم میں ہشیار ہوا بھی نہیں جاتاFani Badayuni (1879–1941)
  33. یوں نظم جہاں درہم و برہم نہ ہوا تھاایسا بھی ترے حسن کا عالم نہ ہوا تھاFani Badayuni (1879–1941)
  34. یہ کس قیامت کی بیکسی ہے زمیں ہی اپنا نہ یار میرانہ خاطر بے قرار میری نہ دیدۂ اشک بار میراFani Badayuni (1879–1941)
  35. اب یہ بھی نہیں کہ نام تو لیتے ہیںدامن فقط اشکوں سے بھگو لیتے ہیںFani Badayuni (1879–1941)
  36. کتنوں کو جگر کا زخم سیتے دیکھادیکھا جسے خون دل ہی پیتے دیکھاFani Badayuni (1879–1941)
  37. وہ حور کو چاہا کہ پری کو چاہاچاہا اسے ہم نے جس کسی کو چاہاFani Badayuni (1879–1941)
  38. اپنی جنت مجھے دکھلا نہ سکا تو واعظکوچۂ یار میں چل دیکھ لے جنت میریFani Badayuni (1879–1941)
  39. اے بے خودی ٹھہر کہ بہت دن گزر گئےمجھ کو خیال یار کہیں ڈھونڈتا نہ ہوFani Badayuni (1879–1941)
  40. بیداد کے خوگر تھے فریاد تو کیا کرتےکرتے تو ہم اپنا ہی کچھ تم سے گلہ کرتےFani Badayuni (1879–1941)
  41. تاکید ہے کہ دیدۂ دل وا کرے کوئیمطلب یہ ہے کہ دور سے دیکھا کرے کوئیFani Badayuni (1879–1941)
  42. جلوۂ عشق حقیقت تھی حسن مجاز بہانہ تھاشمع جسے ہم سمجھے تھے شمع نہ تھی پروانہ تھاFani Badayuni (1879–1941)
  43. یوم یادگار سر سیدؔ در دکنFani Badayuni (1879–1941)
  44. دل اور دل میں یاد کسی خوش خرام کیسینے میں حشر لے کے چلے ہیں جہاں سے ہمFani Badayuni (1879–1941)
  45. دل کی طرف حجاب تکلف اٹھا کے دیکھآئینہ دیکھ اور ذرا مسکرا کے دیکھFani Badayuni (1879–1941)
  46. دل کی کایا غم نے وہ پلٹی کہ تجھ سا بن گیادرد میں دل ڈوب کر قطرے سے دریا بن گیاFani Badayuni (1879–1941)
  47. دنیا میری بلا جانے مہنگی ہے یا سستی ہےموت ملے تو مفت نہ لوں ہستی کی کیا ہستی ہےFani Badayuni (1879–1941)
  48. مر کے ٹوٹا ہے کہیں سلسلۂ قید حیاتمگر اتنا ہے کہ زنجیر بدل جاتی ہےFani Badayuni (1879–1941)
  49. ہر سانس کے ساتھ جا رہا ہوںمیں تیرے قریب آ رہا ہوںFani Badayuni (1879–1941)