اب یہ بھی نہیں کہ نام تو لیتے ہیں

Fani Badayuni (1879–1941)

اب یہ بھی نہیں کہ نام تو لیتے ہیں

دامن فقط اشکوں سے بھگو لیتے ہیں

اب ہم ترا نام لے کے روتے بھی نہیں

سنتے ہیں ترا نام تو رو لیتے ہیں