Poetry
Poet
Meter
- آزادؔ! ذرا دیکھ تو یہ عالم ارژنگموسم کے یہ انداز بہاروں کے یہ نیرنگJagan Nath Azad (1918–2004)
- اس دور میں تو کیوں ہے پریشان و ہراساںکیا بات ہے کیوں ہے متزلزل تیرا ایماںJagan Nath Azad (1918–2004)
- اس طرح آج پھر آباد ہے ویرانۂ دلکہ ہے لبریز مئے شوق سے پیمانۂ دلJagan Nath Azad (1918–2004)
- السلام اے عظمت ہندوستاں کی یادگاراے شہنشاہ دیار دل فقیر بے دیارJagan Nath Azad (1918–2004)
- باد و باراں سے الجھتا خندہ زن گرداب پراک جزیرہ تیرتا جاتا ہے سطح آب پرJagan Nath Azad (1918–2004)
- جو بھی مشکل راہ میں آئی پل میں تھی آساناپنی ہمت سے انساں نے مارا وہ میدانJagan Nath Azad (1918–2004)
- خواب کی طرح سے ہے یاد کہ تم آئے تھےجس طرح دامن مشرق میں سحر ہوتی ہےJagan Nath Azad (1918–2004)
- دامن لالہ زار میںعالم پر بہار دیکھJagan Nath Azad (1918–2004)
- رات پھر تیرے خیالوں نے جگایا مجھ کوٹمٹماتی ہوئی یادوں کا ذرا سا شعلہJagan Nath Azad (1918–2004)
- سن لو ایک کہانی بچو سن لو ایک کہانیتین برس کی اک بچی ہے نام ہے جس کا پونمJagan Nath Azad (1918–2004)
- فاصلے کی تو خیر بات ہے اورحیدرآباد دل سے دور نہیںJagan Nath Azad (1918–2004)
- کتنی روشن کیوں نہ ہو آزادؔ آخر ایک دنشمع ہستی موت کے جھونکوں سے گل ہو جائے گیJagan Nath Azad (1918–2004)
- میں اس خیال میں تھا بجھ چکی ہے آتش دردبھڑک رہی تھی مرے دل میں جو زمانے سےJagan Nath Azad (1918–2004)
- وہ خاک بوئے تھے حالات نے شرر جس میںاب اس میں پھول تمنا کے کھلنے والے ہیںJagan Nath Azad (1918–2004)
- ذرے ذرے پہ بجلی سی برسا گئیںچلتے چلتے جو پنکھا ذرا رک گیاJagan Nath Azad (1918–2004)
- آؤ بچو دو پیسے میں دنیا بھر کی سیر کرونظارے دکھلانے والاJagan Nath Azad (1918–2004)
- ابتدا یہ تھی کہ میں تھا اور دعویٰ علم کاانتہا یہ ہے کہ اس دعوے پہ شرمایا بہتJagan Nath Azad (1918–2004)
- اصل میں ہم تھے تمہارے ساتھ محو گفتگوجب خود اپنے آپ سے ہم گفتگو کرتے رہےJagan Nath Azad (1918–2004)
- اک بار اگر قفس کی ہوا راس آ گئیاے خود فریب پھر ہوس بال و پر کہاںJagan Nath Azad (1918–2004)
- بہار آتے ہی ٹکرانے لگے کیوں ساغر و مینابتا اے پیر مے خانہ یہ مے خانوں پہ کیا گزریJagan Nath Azad (1918–2004)
- بہار آئی ہے اور میری نگاہیں کانپ اٹھیں ہیںیہی تیور تھے موسم کے جب اجڑا تھا چمن اپناJagan Nath Azad (1918–2004)
- تری دوری کا مجھ کو غم نہیں ہےکہ فرقت میں بھی لذت کم نہیں ہےJagan Nath Azad (1918–2004)
- تمہیں کچھ اس کی خبر بھی ہے اے چمن والوسحر کے بعد نسیم سحر پہ کیا گزریJagan Nath Azad (1918–2004)
- چلتے رہے ہم تند ہواؤں کے مقابلآزادؔ چراغ تہ داماں نہ رہے ہمJagan Nath Azad (1918–2004)
- ڈھونڈھنے پر بھی نہ ملتا تھا مجھے اپنا وجودمیں تلاش دوست میں یوں بے نشاں تھا دوستوJagan Nath Azad (1918–2004)
- سکون دل جہان بیش و کم میں ڈھونڈنے والےیہاں ہر چیز ملتی ہے سکون دل نہیں ملتاJagan Nath Azad (1918–2004)
- کنارے ہی سے طوفاں کا تماشا دیکھنے والےکنارے سے کبھی اندازۂ طوفاں نہیں ہوتاJagan Nath Azad (1918–2004)
- میں کیا کروں کہ ضبط تمنا کے باوجودبے اختیار لب پہ ترا نام آ گیاJagan Nath Azad (1918–2004)
- نیند کیا ہے ذرا سی دیر کی موتموت کیا کیا ہے تمام عمر کی نیندJagan Nath Azad (1918–2004)
- ہم نے برا بھلا ہی سہی کام تو کیاتم کو تو اعتراض ہی کرنے کا شوق تھاJagan Nath Azad (1918–2004)
- دریا میں ہے سراب عجب ابتلا میں ہوںمیں بھی حسین ہی کی طرح کربلا میں ہوںIbraheem Hosh (1918–1988)
- دیر و حرم میں دشت و بیابان و باغ میںڈھونڈو نہ مجھ کو میں ہوں خود اپنے سراغ میںIbraheem Hosh (1918–1988)
- میں وہ نہیں کہ زمانے سے بے عمل جاؤںمزاج پوچھ کے دار و رسن کا ٹل جاؤںIbraheem Hosh (1918–1988)
- آج زنداں میں اسے بھی لے گئےجو کبھی اک لفظ تک بولا نہیںIbraheem Hosh (1918–1988)
- ان ہزاروں میں اور آپ، یہ کیا؟آپ، جو ایک تھے ہزاروں میںIbraheem Hosh (1918–1988)
- جو چپ لگاؤں تو صحرا کی خامشی جاگےجو مسکراؤں تو آزردگی بھی شرمائےIbraheem Hosh (1918–1988)
- روتے روتے مرے ہنسنے پہ تعجب نہ کروہے وہی چیز مگر دوسرے انداز میں ہےIbraheem Hosh (1918–1988)
- طے کر کے دل کا زینہ وہ اک قطرہ خون کاپلکوں کی چھت تک آیا تو لیکن گرا نہیںIbraheem Hosh (1918–1988)
- کرتا ہوں ایک خواب کے مبہم نقوش یادجب سے کھلی ہے آنکھ اسی مشغلے میں ہوںIbraheem Hosh (1918–1988)
- لفظوں سے بنا انساں لفظوں ہی میں رہتا ہےلفظوں سے سنورتا ہے لفظوں سے بگڑتا ہےIbraheem Hosh (1918–1988)
- مری نظر میں ہے انجام اس تعاقب کاجہاں بھی دوستی جاتی ہے دشمنی جائےIbraheem Hosh (1918–1988)
- یادوں نے لے لیا مجھے اپنے حصار میںمیرا وجود حافظہ بن کر سکڑ گیاIbraheem Hosh (1918–1988)
- ان کو پھر دیکھنے کی آس نہیںچاک اب دامن حواس نہیںZabih Allahabadi (1918–1987)
- جانے والے پھر نہ لوٹے کچھ تو اس میں راز ہےکیا طلسم خاک میں بھی جاں فزا انداز ہےZabih Allahabadi (1918–1987)
- ختم اپنی گردش ایام کر کے آئے ہیںصبح کے نکلے ہوئے جو شام کر کے آئے ہیںZabih Allahabadi (1918–1987)
- ساقی مئے وحدت کا وہ جام پلا مجھ کومٹ جائے خودی دل سے مل جائے خدا مجھ کوZabih Allahabadi (1918–1987)
- قدرت نے دی ہے مجھ کو بہار آفریں نظرکتنی حسیں نظر ہے یہ کتنی حسیں نظرZabih Allahabadi (1918–1987)
- مجھ کو نہیں دماغ گلوں کی شمیم کااحسان کیوں اٹھاؤں قفس میں نسیم کاZabih Allahabadi (1918–1987)
- محشر امید پہلے دل میں پیدا کیجئےاس کا جلوہ دیکھنے کی پھر تمنا کیجئےZabih Allahabadi (1918–1987)
- ہجر کی شب دراز ہے دور ابھی سحر بھی ہےاور ہماری زندگی شمع سے مختصر بھی ہےZabih Allahabadi (1918–1987)