Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. آزادؔ! ذرا دیکھ تو یہ عالم ارژنگموسم کے یہ انداز بہاروں کے یہ نیرنگJagan Nath Azad (1918–2004)
  2. اس دور میں تو کیوں ہے پریشان و ہراساںکیا بات ہے کیوں ہے متزلزل تیرا ایماںJagan Nath Azad (1918–2004)
  3. اس طرح آج پھر آباد ہے ویرانۂ دلکہ ہے لبریز مئے شوق سے پیمانۂ دلJagan Nath Azad (1918–2004)
  4. السلام اے عظمت‌ ہندوستاں کی یادگاراے شہنشاہ دیار دل فقیر بے دیارJagan Nath Azad (1918–2004)
  5. باد و باراں سے الجھتا خندہ زن گرداب پراک جزیرہ تیرتا جاتا ہے سطح آب پرJagan Nath Azad (1918–2004)
  6. جو بھی مشکل راہ میں آئی پل میں تھی آساناپنی ہمت سے انساں نے مارا وہ میدانJagan Nath Azad (1918–2004)
  7. خواب کی طرح سے ہے یاد کہ تم آئے تھےجس طرح دامن مشرق میں سحر ہوتی ہےJagan Nath Azad (1918–2004)
  8. دامن لالہ زار میںعالم پر بہار دیکھJagan Nath Azad (1918–2004)
  9. رات پھر تیرے خیالوں نے جگایا مجھ کوٹمٹماتی ہوئی یادوں کا ذرا سا شعلہJagan Nath Azad (1918–2004)
  10. سن لو ایک کہانی بچو سن لو ایک کہانیتین برس کی اک بچی ہے نام ہے جس کا پونمJagan Nath Azad (1918–2004)
  11. فاصلے کی تو خیر بات ہے اورحیدرآباد دل سے دور نہیںJagan Nath Azad (1918–2004)
  12. کتنی روشن کیوں نہ ہو آزادؔ آخر ایک دنشمع ہستی موت کے جھونکوں سے گل ہو جائے گیJagan Nath Azad (1918–2004)
  13. میں اس خیال میں تھا بجھ چکی ہے آتش دردبھڑک رہی تھی مرے دل میں جو زمانے سےJagan Nath Azad (1918–2004)
  14. وہ خاک بوئے تھے حالات نے شرر جس میںاب اس میں پھول تمنا کے کھلنے والے ہیںJagan Nath Azad (1918–2004)
  15. ذرے ذرے پہ بجلی سی برسا گئیںچلتے چلتے جو پنکھا ذرا رک گیاJagan Nath Azad (1918–2004)
  16. آؤ بچو دو پیسے میں دنیا بھر کی سیر کرونظارے دکھلانے والاJagan Nath Azad (1918–2004)
  17. ابتدا یہ تھی کہ میں تھا اور دعویٰ علم کاانتہا یہ ہے کہ اس دعوے پہ شرمایا بہتJagan Nath Azad (1918–2004)
  18. اصل میں ہم تھے تمہارے ساتھ محو گفتگوجب خود اپنے آپ سے ہم گفتگو کرتے رہےJagan Nath Azad (1918–2004)
  19. اک بار اگر قفس کی ہوا راس آ گئیاے خود فریب پھر ہوس بال و پر کہاںJagan Nath Azad (1918–2004)
  20. بہار آتے ہی ٹکرانے لگے کیوں ساغر و مینابتا اے پیر مے خانہ یہ مے خانوں پہ کیا گزریJagan Nath Azad (1918–2004)
  21. بہار آئی ہے اور میری نگاہیں کانپ اٹھیں ہیںیہی تیور تھے موسم کے جب اجڑا تھا چمن اپناJagan Nath Azad (1918–2004)
  22. تری دوری کا مجھ کو غم نہیں ہےکہ فرقت میں بھی لذت کم نہیں ہےJagan Nath Azad (1918–2004)
  23. تمہیں کچھ اس کی خبر بھی ہے اے چمن والوسحر کے بعد نسیم سحر پہ کیا گزریJagan Nath Azad (1918–2004)
  24. چلتے رہے ہم تند ہواؤں کے مقابلآزادؔ چراغ تہ داماں نہ رہے ہمJagan Nath Azad (1918–2004)
  25. ڈھونڈھنے پر بھی نہ ملتا تھا مجھے اپنا وجودمیں تلاش دوست میں یوں بے نشاں تھا دوستوJagan Nath Azad (1918–2004)
  26. سکون دل جہان بیش و کم میں ڈھونڈنے والےیہاں ہر چیز ملتی ہے سکون دل نہیں ملتاJagan Nath Azad (1918–2004)
  27. کنارے ہی سے طوفاں کا تماشا دیکھنے والےکنارے سے کبھی اندازۂ طوفاں نہیں ہوتاJagan Nath Azad (1918–2004)
  28. میں کیا کروں کہ ضبط تمنا کے باوجودبے اختیار لب پہ ترا نام آ گیاJagan Nath Azad (1918–2004)
  29. نیند کیا ہے ذرا سی دیر کی موتموت کیا کیا ہے تمام عمر کی نیندJagan Nath Azad (1918–2004)
  30. ہم نے برا بھلا ہی سہی کام تو کیاتم کو تو اعتراض ہی کرنے کا شوق تھاJagan Nath Azad (1918–2004)
  31. دریا میں ہے سراب عجب ابتلا میں ہوںمیں بھی حسین ہی کی طرح کربلا میں ہوںIbraheem Hosh (1918–1988)
  32. دیر و حرم میں دشت و بیابان و باغ میںڈھونڈو نہ مجھ کو میں ہوں خود اپنے سراغ میںIbraheem Hosh (1918–1988)
  33. میں وہ نہیں کہ زمانے سے بے عمل جاؤںمزاج پوچھ کے دار و رسن کا ٹل جاؤںIbraheem Hosh (1918–1988)
  34. آج زنداں میں اسے بھی لے گئےجو کبھی اک لفظ تک بولا نہیںIbraheem Hosh (1918–1988)
  35. ان ہزاروں میں اور آپ، یہ کیا؟آپ، جو ایک تھے ہزاروں میںIbraheem Hosh (1918–1988)
  36. جو چپ لگاؤں تو صحرا کی خامشی جاگےجو مسکراؤں تو آزردگی بھی شرمائےIbraheem Hosh (1918–1988)
  37. روتے روتے مرے ہنسنے پہ تعجب نہ کروہے وہی چیز مگر دوسرے انداز میں ہےIbraheem Hosh (1918–1988)
  38. طے کر کے دل کا زینہ وہ اک قطرہ خون کاپلکوں کی چھت تک آیا تو لیکن گرا نہیںIbraheem Hosh (1918–1988)
  39. کرتا ہوں ایک خواب کے مبہم نقوش یادجب سے کھلی ہے آنکھ اسی مشغلے میں ہوںIbraheem Hosh (1918–1988)
  40. لفظوں سے بنا انساں لفظوں ہی میں رہتا ہےلفظوں سے سنورتا ہے لفظوں سے بگڑتا ہےIbraheem Hosh (1918–1988)
  41. مری نظر میں ہے انجام اس تعاقب کاجہاں بھی دوستی جاتی ہے دشمنی جائےIbraheem Hosh (1918–1988)
  42. یادوں نے لے لیا مجھے اپنے حصار میںمیرا وجود حافظہ بن کر سکڑ گیاIbraheem Hosh (1918–1988)
  43. ان کو پھر دیکھنے کی آس نہیںچاک اب دامن حواس نہیںZabih Allahabadi (1918–1987)
  44. جانے والے پھر نہ لوٹے کچھ تو اس میں راز ہےکیا طلسم خاک میں بھی جاں فزا انداز ہےZabih Allahabadi (1918–1987)
  45. ختم اپنی گردش ایام کر کے آئے ہیںصبح کے نکلے ہوئے جو شام کر کے آئے ہیںZabih Allahabadi (1918–1987)
  46. ساقی مئے وحدت کا وہ جام پلا مجھ کومٹ جائے خودی دل سے مل جائے خدا مجھ کوZabih Allahabadi (1918–1987)
  47. قدرت نے دی ہے مجھ کو بہار آفریں نظرکتنی حسیں نظر ہے یہ کتنی حسیں نظرZabih Allahabadi (1918–1987)
  48. مجھ کو نہیں دماغ گلوں کی شمیم کااحسان کیوں اٹھاؤں قفس میں نسیم کاZabih Allahabadi (1918–1987)
  49. محشر امید پہلے دل میں پیدا کیجئےاس کا جلوہ دیکھنے کی پھر تمنا کیجئےZabih Allahabadi (1918–1987)
  50. ہجر کی شب دراز ہے دور ابھی سحر بھی ہےاور ہماری زندگی شمع سے مختصر بھی ہےZabih Allahabadi (1918–1987)