لگی آگ دل کی بجھائیں گے کیوں کر
Vafa Barahi (1917–1993)لگی آگ دل کی بجھائیں گے کیوں کر
طبیعت کو رستے پہ لائیں گے کیوں کر
جو بے درد ہیں رحم کھائیں گے کیوں کر
وہ بھولے سے گھر میرے آئیں گے کیوں کر
بلا سے کوئی عشق میں خار بھی ہو
غم و رنج پیہم سے ناچار بھی ہو
سلامت رہیں دل کے تڑپانے والے
تمنائیں میری نہ بر لانے والے
سوال محبت کو ٹھکرانے والے
نہ پاس آنے والے نہ کام آنے والے
انہیں کیا تعلق فغاں و بکا سے
فقط کام رہتا ہے قہر و جفا سے