کہو یہ مغنی سے گائے چلا جا

Vafa Barahi (1917–1993)

کہو یہ مغنی سے گائے چلا جا

نوائے مسرت سنائے چلا جا

مسرت کے مژدے کو لائے چلا جا

زمانے کو بے خود بنائے چلا جا

زمانے پہ چھائی ہے عید مسرت

دلہن بن کے آئی ہے عید مسرت

مناسب ہے کچھ انتظام مسرت

کروں خلق کو شاد کام مسرت

لئے جاؤں میں دل سے نام مسرت

سلام مسرت کلام مسرت

مسرت بھی اپنی جگہ جھومتی ہے

قدم عید کا اب خوشی چومتی ہے

وطن کی محبت کے نغمے کو گا کر

حریفوں کو اپنے گلے سے لگا کر

محبت سے غیروں کو قابو میں لا کر

جو روٹھے ہوئے ہیں انہیں بھی منا کر

مناؤ خوشی عید کی روزہ دارو

دکھاؤ خوشی عید کی روزہ دارو