ہستی کو مری مستئ پیمانہ بنا دے
Seemab Akbarabadi (1882–1951)ہستی کو مری مستئ پیمانہ بنا دے
اے بے خبری حاصل مے خانہ بنا دے
طالب ہوں میں اس ایک نگاہ دو اثر کا
جو ہوش میں لا کر مجھے دیوانہ بنا دے
اے برہمن اک دن بت پندار کو اپنے
توڑ اور چراغ در بت خانہ بنا دے
کہہ دو کہ بہار آئے تو بیکار نہ بیٹھے
یہ اس کا کرم ہے جسے دیوانہ بنا دے