انجام ہر اک شے کا بجز خاک نہیں ہے
Seemab Akbarabadi (1882–1951)انجام ہر اک شے کا بجز خاک نہیں ہے
کیا ہے جو یہ عالم خس و خاشاک نہیں ہے
کہہ دو وہ ستا کر مجھے بے فکر نہ بیٹھیں
میرے ہی لئے گردش افلاک نہیں ہے
آنکھوں سے ہر اک پردۂ موہوم ہٹا دے
اتنی نگہ شوق ابھی چالاک نہیں ہے
کر چاک گریباں سے نہ اندازۂ وحشت
سیمابؔ دعا کیجئے کیا صبر و سکوں کی
شائستۂ تسکیں دل غم ناک نہیں ہے