فرض اور قرض
Zafar Ali Khan (1873–1956)جو مسلم ہے تو جاں ناموس ملت پر فدا کر دے
خدا کا فرض اور اس کے نبی کا قرض ادا کر دے
بھری محفل میں لا سکتا نہ ہو گر کفر تاب اس کی
تو زنداں ہی میں جا کر روشن ایماں کا دیا کر دے
شہادت کی تمنا ہو تو انگریزی حکومت پر
کسی مجلس کے اندر نکتہ چینی برملا کر دے
تمہارا قافلہ کچھ لٹ چکا اور کچھ ہے لٹنے کو
رسول اللہ کو اس کی خبر باد صبا کر دے
ضرورت ہے اب اس ایجاد کی دانائے مغرب کو
جو اہل ہند کے دامن کو چولی سے جدا کر دے
نکل آنے کو ہے سورج کہ مشرق میں اجالا ہو
برس جانے کو ہے بادل کہ گلشن کو ہرا کر دے
قفس کی تیلیوں پر آشیاں کا کاٹ کر چکر
فلک سے گر پڑے بجلی کہ بلبل کو رہا کر دے
یہ ہے پہچان خاصان خدا کی ہر زمانے میں
کہ خوش ہو کر خدا ان کو گرفتار بلا کر دے