Poetry
Poet
Meter
- یوں تو نہ تیرے جسم میں ہیں زینہار ہاتھدینے کے اے کریم مگر ہیں ہزار ہاتھNazm Tabatabai (1854–1933)
- یوں میں سیدھا گیا وحشت میں بیاباں کی طرفہاتھ جس طرح سے آتا ہے گریباں کی طرفNazm Tabatabai (1854–1933)
- یہ آہ بے اثر کیا ہو یہ نخل بے ثمر کیا ہونہ ہو جب درد ہی یا رب تو دل کیا ہو جگر کیا ہوNazm Tabatabai (1854–1933)
- یہ ہوا مآل حباب کا جو ہوا میں بھر کے ابھر گیاکہ صدا ہے لطمۂ موج کی سر پر غرور کدھر گیاNazm Tabatabai (1854–1933)
- گور غریباںNazm Tabatabai (1854–1933)
- شرکت محفلNazm Tabatabai (1854–1933)
- نزول وحیNazm Tabatabai (1854–1933)
- ساقی نامہ (نظم طباطبائی)Nazm Tabatabai (1854–1933)
- جوش گلNazm Tabatabai (1854–1933)
- آہ کرنا دل حزیں نہ کہیںآگ لگ جائے گی کہیں نہ کہیںBekhud Badayuni (1857–1912)
- اس بزم میں نہ ہوش رہے گا ذرا مجھےاے شوق ہرزہ تاز کہاں لے چلا مجھےBekhud Badayuni (1857–1912)
- ان کو دماغ پرسش اہل محن کہاںیہ بھی سہی تو ہم کو مجال سخن کہاںBekhud Badayuni (1857–1912)
- پیام لے کے جو پیغام بر روانہ ہواحسد کو حیلہ ملا اشک کو بہانہ ہواBekhud Badayuni (1857–1912)
- جس میں سودا نہیں وہ سر ہی نہیںدرد جس میں نہیں جگر ہی نہیںBekhud Badayuni (1857–1912)
- حاصل اس مہ لقا کی دید نہیںعید ہے اور ہم کو عید نہیںBekhud Badayuni (1857–1912)
- حشر پر وعدۂ دیدار ہے کس کا تیرالاکھ انکار اک اقرار ہے کس کا تیراBekhud Badayuni (1857–1912)
- درد دل میں کمی نہ ہو جائےدوستی دشمنی نہ ہو جائےBekhud Badayuni (1857–1912)
- رقیبوں کا مجھ سے گلا ہو رہا ہےیہ کیا کر رہے ہو یہ کیا ہو رہا ہےBekhud Badayuni (1857–1912)
- ساتھ ساتھ اہل تمنا کا وہ مضطر جانااللہ اللہ ترا بزم سے اٹھ کر جاناBekhud Badayuni (1857–1912)
- شکوہ سن کر جو مزاج بت بد خو بدلاہم نے بھی ساتھ ہی تقریر کا پہلو بدلاBekhud Badayuni (1857–1912)
- کبھی حیا انہیں آئی کبھی غرور آیاہمارے کام میں سو سو طرح فتور آیاBekhud Badayuni (1857–1912)
- کیوں مرا حال قصہ خواں سے سنویہ کہانی مری زباں سے سنوBekhud Badayuni (1857–1912)
- کیوں میں اب قابل جفا نہ رہاکیا ہوا کہیے مجھ میں کیا نہ رہاBekhud Badayuni (1857–1912)
- گردش چشم یار نے مارادور لیل و نہار نے ماراBekhud Badayuni (1857–1912)
- نالے میں کبھی اثر نہ آیااس نخل میں کچھ ثمر نہ آیاBekhud Badayuni (1857–1912)
- ہیں وصل میں شوخی سے پابند حیا آنکھیںاللہ رے ظالم کی مظلوم نما آنکھیںBekhud Badayuni (1857–1912)
- یوں ہی رہا جو بتوں پر نثار دل میراکرے گا مجھ کو زمانے میں خوار دل میراBekhud Badayuni (1857–1912)
- آج او نالہ شرر بار ہو تاثیر کے ساتھہم نے میدان بدا ہے فلک پیر کے ساتھNadir Kakorvi (1857–1912)
- آج ہم اس کو لڑا دیں گے ترے تیر کے ساتھآہ بھی تیر ہے گر آہ ہو تاثیر کے ساتھNadir Kakorvi (1857–1912)
- اب نہ حسرت نہ پاس ہے دل میںکوئی بھی اس مکان میں نہ رہاNadir Kakorvi (1857–1912)
- بڑھاؤ وعدۂ فردا پہ تم اپنی عبادت بھیکہ فردا کیا نہ بھولوں گا میں فردائے قیامت بھیNadir Kakorvi (1857–1912)
- پھیر لیتا ہے مکدر ہو کے منہ جس سے کہیںہائے جو جی پر گزرتی ہے وہ ہم کس سے کہیںNadir Kakorvi (1857–1912)
- زاہد کو اپنے زہد پہ کس درجہ ناز ہےاس نے سنا نہیں کہ خدا بے نیاز ہےNadir Kakorvi (1857–1912)
- شکایت کر کے غصہ اور ان کا تیز کرنا ہےابھی تو گفتگوئے مصلحت آمیز کرنا ہےNadir Kakorvi (1857–1912)
- کدورت بڑھ کے آخر کو نکلتی ہے فغاں ہو کرزمیں یہ سر پر آ جاتی ہے اک دن آسماں ہو کرNadir Kakorvi (1857–1912)
- مضموں نہیں ہے صاف نو آہنگ راز ہےہر حرف شعر کا لب خاموش ساز ہےNadir Kakorvi (1857–1912)
- یہ وضع قومیت آئندہ رخصت ہونے والی ہےنئی تہذیب سے تجدید ملت ہونے والی ہےNadir Kakorvi (1857–1912)
- دھرتی ماتاNadir Kakorvi (1857–1912)
- اطوار ترے اہل زمیں سے نہیں ملتےانداز کسی اور حسیں سے نہیں ملتےMirza Hadi Ruswa (1857–1931)
- بہت سے مدعی نکلے مگر جاں باز کم نکلےپس مجنوں ہزاروں عاشقوں میں ایک ہم نکلےMirza Hadi Ruswa (1857–1931)
- نالہ رکتا ہے تو سر گرم جفا ہوتا ہےدرد تھمتا ہے تو بے درد خفا ہوتا ہےMirza Hadi Ruswa (1857–1931)
- آرام کسے دیتی ہے ایام کی گردشسیدھا کوئی ہلچل میں کھڑا ہو نہیں سکتاIbrat Gorakhpuri (1859–1918)
- زندگانی کی حقیقت سے نہیں ہم واقفموت کا نام جو سنتے ہیں تو مر جاتے ہیںIbrat Gorakhpuri (1859–1918)
- وہ دل ہے مرا ہو نہیں سکتا جو شگفتہوہ باغ مرا ہے جو ہرا ہو نہیں سکتاIbrat Gorakhpuri (1859–1918)
- تڑپ کے رات بسر کی جو اک مہم سر کیچھری تھی میرے لیے جو شکن تھی بستر کیSafi Lakhnavi (1862–1950)
- جانا جانا جلدی کیا ہے ان باتوں کو جانے دوٹھہرو ٹھہرو دل تو ٹھہرے مجھ کو ہوش میں آنے دوSafi Lakhnavi (1862–1950)
- درد آغاز محبت کا اب انجام نہیںزندگی کیا ہے اگر موت کا پیغام نہیںSafi Lakhnavi (1862–1950)
- طالب دید پہ آنچ آئے یہ منظور نہیںدل میں ہے ورنہ وہ بجلی جو سر طور نہیںSafi Lakhnavi (1862–1950)
- کوئی آباد منزل ہم جو ویراں دیکھ لیتے ہیںبہ حسرت سوئے چرخ فتنہ ساماں دیکھ لیتے ہیںSafi Lakhnavi (1862–1950)
- وہ عالم ہے کہ منہ پھیرے ہوئے عالم نکلتا ہےشب فرقت کے غم جھیلے ہوؤں کا دم نکلتا ہےSafi Lakhnavi (1862–1950)