Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. یوں تو نہ تیرے جسم میں ہیں زینہار ہاتھدینے کے اے کریم مگر ہیں ہزار ہاتھNazm Tabatabai (1854–1933)
  2. یوں میں سیدھا گیا وحشت میں بیاباں کی طرفہاتھ جس طرح سے آتا ہے گریباں کی طرفNazm Tabatabai (1854–1933)
  3. یہ آہ بے اثر کیا ہو یہ نخل بے ثمر کیا ہونہ ہو جب درد ہی یا رب تو دل کیا ہو جگر کیا ہوNazm Tabatabai (1854–1933)
  4. یہ ہوا مآل حباب کا جو ہوا میں بھر کے ابھر گیاکہ صدا ہے لطمۂ موج کی سر پر غرور کدھر گیاNazm Tabatabai (1854–1933)
  5. گور غریباںNazm Tabatabai (1854–1933)
  6. شرکت محفلNazm Tabatabai (1854–1933)
  7. نزول وحیNazm Tabatabai (1854–1933)
  8. ساقی نامہ (نظم طباطبائی)Nazm Tabatabai (1854–1933)
  9. جوش گلNazm Tabatabai (1854–1933)
  10. آہ کرنا دل حزیں نہ کہیںآگ لگ جائے گی کہیں نہ کہیںBekhud Badayuni (1857–1912)
  11. اس بزم میں نہ ہوش رہے گا ذرا مجھےاے شوق ہرزہ تاز کہاں لے چلا مجھےBekhud Badayuni (1857–1912)
  12. ان کو دماغ پرسش اہل محن کہاںیہ بھی سہی تو ہم کو مجال سخن کہاںBekhud Badayuni (1857–1912)
  13. پیام لے کے جو پیغام بر روانہ ہواحسد کو حیلہ ملا اشک کو بہانہ ہواBekhud Badayuni (1857–1912)
  14. جس میں سودا نہیں وہ سر ہی نہیںدرد جس میں نہیں جگر ہی نہیںBekhud Badayuni (1857–1912)
  15. حاصل اس مہ لقا کی دید نہیںعید ہے اور ہم کو عید نہیںBekhud Badayuni (1857–1912)
  16. حشر پر وعدۂ دیدار ہے کس کا تیرالاکھ انکار اک اقرار ہے کس کا تیراBekhud Badayuni (1857–1912)
  17. درد دل میں کمی نہ ہو جائےدوستی دشمنی نہ ہو جائےBekhud Badayuni (1857–1912)
  18. رقیبوں کا مجھ سے گلا ہو رہا ہےیہ کیا کر رہے ہو یہ کیا ہو رہا ہےBekhud Badayuni (1857–1912)
  19. ساتھ ساتھ اہل تمنا کا وہ مضطر جانااللہ اللہ ترا بزم سے اٹھ کر جاناBekhud Badayuni (1857–1912)
  20. شکوہ سن کر جو مزاج بت بد خو بدلاہم نے بھی ساتھ ہی تقریر کا پہلو بدلاBekhud Badayuni (1857–1912)
  21. کبھی حیا انہیں آئی کبھی غرور آیاہمارے کام میں سو سو طرح فتور آیاBekhud Badayuni (1857–1912)
  22. کیوں مرا حال قصہ خواں سے سنویہ کہانی مری زباں سے سنوBekhud Badayuni (1857–1912)
  23. کیوں میں اب قابل جفا نہ رہاکیا ہوا کہیے مجھ میں کیا نہ رہاBekhud Badayuni (1857–1912)
  24. گردش چشم یار نے مارادور لیل و نہار نے ماراBekhud Badayuni (1857–1912)
  25. نالے میں کبھی اثر نہ آیااس نخل میں کچھ ثمر نہ آیاBekhud Badayuni (1857–1912)
  26. ہیں وصل میں شوخی سے پابند حیا آنکھیںاللہ رے ظالم کی مظلوم نما آنکھیںBekhud Badayuni (1857–1912)
  27. یوں ہی رہا جو بتوں پر نثار دل میراکرے گا مجھ کو زمانے میں خوار دل میراBekhud Badayuni (1857–1912)
  28. آج او نالہ شرر بار ہو تاثیر کے ساتھہم نے میدان بدا ہے فلک پیر کے ساتھNadir Kakorvi (1857–1912)
  29. آج ہم اس کو لڑا دیں گے ترے تیر کے ساتھآہ بھی تیر ہے گر آہ ہو تاثیر کے ساتھNadir Kakorvi (1857–1912)
  30. اب نہ حسرت نہ پاس ہے دل میںکوئی بھی اس مکان میں نہ رہاNadir Kakorvi (1857–1912)
  31. بڑھاؤ وعدۂ فردا پہ تم اپنی عبادت بھیکہ فردا کیا نہ بھولوں گا میں فردائے قیامت بھیNadir Kakorvi (1857–1912)
  32. پھیر لیتا ہے مکدر ہو کے منہ جس سے کہیںہائے جو جی پر گزرتی ہے وہ ہم کس سے کہیںNadir Kakorvi (1857–1912)
  33. زاہد کو اپنے زہد پہ کس درجہ ناز ہےاس نے سنا نہیں کہ خدا بے نیاز ہےNadir Kakorvi (1857–1912)
  34. شکایت کر کے غصہ اور ان کا تیز کرنا ہےابھی تو گفتگوئے مصلحت آمیز کرنا ہےNadir Kakorvi (1857–1912)
  35. کدورت بڑھ کے آخر کو نکلتی ہے فغاں ہو کرزمیں یہ سر پر آ جاتی ہے اک دن آسماں ہو کرNadir Kakorvi (1857–1912)
  36. مضموں نہیں ہے صاف نو آہنگ راز ہےہر حرف شعر کا لب خاموش ساز ہےNadir Kakorvi (1857–1912)
  37. یہ وضع قومیت آئندہ رخصت ہونے والی ہےنئی تہذیب سے تجدید ملت ہونے والی ہےNadir Kakorvi (1857–1912)
  38. دھرتی ماتاNadir Kakorvi (1857–1912)
  39. اطوار ترے اہل زمیں سے نہیں ملتےانداز کسی اور حسیں سے نہیں ملتےMirza Hadi Ruswa (1857–1931)
  40. بہت سے مدعی نکلے مگر جاں باز کم نکلےپس مجنوں ہزاروں عاشقوں میں ایک ہم نکلےMirza Hadi Ruswa (1857–1931)
  41. نالہ رکتا ہے تو سر گرم جفا ہوتا ہےدرد تھمتا ہے تو بے درد خفا ہوتا ہےMirza Hadi Ruswa (1857–1931)
  42. آرام کسے دیتی ہے ایام کی گردشسیدھا کوئی ہلچل میں کھڑا ہو نہیں سکتاIbrat Gorakhpuri (1859–1918)
  43. زندگانی کی حقیقت سے نہیں ہم واقفموت کا نام جو سنتے ہیں تو مر جاتے ہیںIbrat Gorakhpuri (1859–1918)
  44. وہ دل ہے مرا ہو نہیں سکتا جو شگفتہوہ باغ مرا ہے جو ہرا ہو نہیں سکتاIbrat Gorakhpuri (1859–1918)
  45. تڑپ کے رات بسر کی جو اک مہم سر کیچھری تھی میرے لیے جو شکن تھی بستر کیSafi Lakhnavi (1862–1950)
  46. جانا جانا جلدی کیا ہے ان باتوں کو جانے دوٹھہرو ٹھہرو دل تو ٹھہرے مجھ کو ہوش میں آنے دوSafi Lakhnavi (1862–1950)
  47. درد آغاز محبت کا اب انجام نہیںزندگی کیا ہے اگر موت کا پیغام نہیںSafi Lakhnavi (1862–1950)
  48. طالب دید پہ آنچ آئے یہ منظور نہیںدل میں ہے ورنہ وہ بجلی جو سر طور نہیںSafi Lakhnavi (1862–1950)
  49. کوئی آباد منزل ہم جو ویراں دیکھ لیتے ہیںبہ حسرت سوئے چرخ فتنہ ساماں دیکھ لیتے ہیںSafi Lakhnavi (1862–1950)
  50. وہ عالم ہے کہ منہ پھیرے ہوئے عالم نکلتا ہےشب فرقت کے غم جھیلے ہوؤں کا دم نکلتا ہےSafi Lakhnavi (1862–1950)