Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. نہیں چھپتا ترے عتاب کا رنگکہ بدلنے لگا نقاب کا رنگRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  2. نیا کھلا ہے شگوفہ کوئی بہار میں کیاگندھا ہوا ہے مرا دل کسی کے ہار میں کیاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  3. وعدہ تھا جس کا حشر میں وہ بات بھی تو ہویہ سن کے کس ادا سے کہا رات بھی تو ہوRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  4. وعدہ کبھی سچا کوئی کرتا ہی نہیں ہےاندیشۂ فردا تو گزرتا ہی نہیں ہےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  5. وہ کون لوگ ہیں جو مے ادھار لیتے ہیںیہ مے فروش تو ٹوپی اتار لیتے ہیںRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  6. وہ کون ہے دنیا میں جسے غم نہیں ہوتاکس گھر میں خوشی ہوتی ہے ماتم نہیں ہوتاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  7. وہ گل ہیں نہ ان کی وہ ہنسی ہےدیکھو جدھر اس سی پڑی ہےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  8. وہ ہوں مٹھی میں ان کی دل ہو ہم ہوںیوں ہی پردہ سا کچھ حائل ہو ہم ہوںRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  9. ہمارے دل میں کوئی آرزو نہیں باقیہمارے پھول میں اب رنگ و بو نہیں باقیRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  10. ہم بھی پئیں تمہیں بھی پلائیں تمام راتجاگیں تمام رات جگائیں تمام راتRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  11. ہم سے وفا کریں کہ وہ ہم پر جفا کریںپائیں خدا سے ہم جو بتوں سے دغا کریںRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  12. ہم غریبوں پر جفا اچھی نہیںبیکسوں کی بد دعا اچھی نہیںRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  13. ہمیں پینے پلانے کا مزا اب تک نہیں آیاکہ بزم مے میں کوئی پارسا اب تک نہیں آیاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  14. ہنس کے پیمانہ دیا ظالم نے ترسانے کے بعدآج نازک سے لب ساقی ہیں پیمانے کے بعدRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  15. ہنگام نزع گریہ یہاں بے کسی کا تھاتم ہنس پڑے یہ کون سا موقع ہنسی کا تھاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  16. ہو کے بیتاب بدل لیتے تھے اکثر کروٹاب یہ ہے ضعف کہ قابو سے ہے باہر کروٹRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  17. ہوگی وہ دل میں جو ٹھانی جائے گیکیا ہماری بات مانی جائے گیRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  18. یہ بلا میرے سر چڑھی ہی نہیںمیں نے کچے گھڑے کی پی ہی نہیںRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  19. یہ جتنی دیر ہوئی شیخ کو وضو کرتےہم اتنی دیر میں خالی خم و سبو کرتےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  20. یہ سر بہ مہر بوتلیں ہیں جو شراب کیراتیں ہیں ان میں بند ہماری شباب کیRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  21. یہ سیدھے جو اب زلفوں والے ہوئے ہیںہمارے ہی سب بل نکالے ہوئے ہیںRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  22. یہ کافر بت جنہیں دعویٰ ہے دنیا میں خدائی کاملیں محشر میں مجھ عاصی کو صدقہ کبریائی کاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  23. یہ کوئی بات ہے سنتا نہ باغباں میریکہاں اثر میں وہ ڈوبی ہوئی فغاں میریRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  24. یہ کہاں سے ہم گئے ہیں کہاں کہیں کیا تری تگ و تاز میںکہ یہ آسمان و زمیں جہاں نہ نشیب میں نہ فراز میںRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  25. یہ کہاں لگی یہ کہاں لگی جو قفس سے شور فغاں اٹھاجلے آشیانے کچھ اس طرح کہ ہر ایک دل سے دھواں اٹھاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  26. یہ گوارا کہ مرا دست تمنا باندھےاپنی محرم کو نہ کس کر کوئی اتنا باندھےRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  27. یہی ہے ان کی نزاکت تو حال کیا ہوگامجھے یہ ڈر ہے کہ وقت وصال کیا ہوگاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  28. صبح محشر بھی گوارا نہیں فرقت میریمجھ سے رہ رہ کے لپٹ جاتی ہے تربت میںRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  29. آ کے مجھ تک کشتیٔ مے ساقیا الٹی پھریآج کیا ندی بہی الٹی ہوا الٹی پھریNazm Tabatabai (1854–1933)
  30. آ گیا پھر رمضاں کیا ہوگاہائے اے پیر مغاں کیا ہوگاNazm Tabatabai (1854–1933)
  31. احسان لے نہ ہمت مردانہ چھوڑ کررستہ بھی چل تو سبزۂ بیگانہ چھوڑ کرNazm Tabatabai (1854–1933)
  32. اڑا کر کاگ شیشہ سے مے گلگوں نکلتی ہےشرابی جمع ہیں مے خانہ میں ٹوپی اچھلتی ہےNazm Tabatabai (1854–1933)
  33. اس مہینہ بھر کہاں تھا ساقیا اچھی طرحآ ادھر آ عید تو مل لیں ذرا اچھی طرحNazm Tabatabai (1854–1933)
  34. اس واسطے عدم کی منزل کو ڈھونڈتے ہیںمدت سے دوستوں کی محفل کو ڈھونڈتے ہیںNazm Tabatabai (1854–1933)
  35. بدعت مسنون ہو گئی ہےامت مطعون ہو گئی ہےNazm Tabatabai (1854–1933)
  36. پرسش جو ہوگی تجھ سے جلاد کیا کرے گالے خون میں نے بخشا تو یاد کیا کرے گاNazm Tabatabai (1854–1933)
  37. پھری ہوئی مری آنکھیں ہیں تیغ زن کی طرفچلا ہے چھوڑ کے بسمل مجھے ہرن کی طرفNazm Tabatabai (1854–1933)
  38. تنہا نہیں ہوں گر دل دیوانہ ساتھ ہےوہ ہرزہ گرد ہوں کہ پری خانہ ساتھ ہےNazm Tabatabai (1854–1933)
  39. جنوں کے ولولے جب گھٹ گئے دل میں نہاں ہو کرتو اٹھے ہیں دھواں ہو کر گرے ہیں بجلیاں ہو کرNazm Tabatabai (1854–1933)
  40. سبحہ ہے زنار کیوں کیسی کہیزاہد عیار کیوں کیسی کہیNazm Tabatabai (1854–1933)
  41. سنگ جفا کا غم نہیں دست طلب کا ڈر نہیںاپنا ہے اس پر آشیاں نخل جو بارور نہیںNazm Tabatabai (1854–1933)
  42. عبث ہے ناز استغنا پہ کل کی کیا خبر کیا ہوخدا معلوم یہ سامان کیا ہو جائے سر کیا ہوNazm Tabatabai (1854–1933)
  43. کس لیے پھرتے ہیں یہ شمس و قمر دونوں ساتھکس کو یہ ڈھونڈتے ہیں برہنہ سر دونوں ساتھNazm Tabatabai (1854–1933)
  44. کسی سے بس کہ امید کشود کار نہیںمجھے اجل کے بھی آنے کا اعتبار نہیںNazm Tabatabai (1854–1933)
  45. کوئی مے دے یا نہ دے ہم رند بے پروا ہیں آپساقیا اپنی بغل میں شیشۂ صہبا ہیں آپNazm Tabatabai (1854–1933)
  46. کیا کاروان ہستی گزرا روا روی میںفردا کو میں نے دیکھا گرد و غبار دی میںNazm Tabatabai (1854–1933)
  47. کیا کہیں کس سے پیار کر بیٹھےاپنے دل کو فگار کر بیٹھےNazm Tabatabai (1854–1933)
  48. مجھ کو سمجھو یادگار رفتگان لکھنؤہوں قد آدم غبار کاروان لکھنؤNazm Tabatabai (1854–1933)
  49. ندامت ہے بنا کر اس چمن میں آشیاں مجھ کوملا ہمدم یہاں کوئی نہ کوئی ہم زباں مجھ کوNazm Tabatabai (1854–1933)
  50. ہنسی میں وہ بات میں نے کہہ دی کہ رہ گئے آپ دنگ ہو کرچھپا ہوا تھا جو راز دل میں کھلا وہ چہرہ کا رنگ ہو کرNazm Tabatabai (1854–1933)