Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Hazaj Musamman Salim

ہزج مثمن سالم
Poet
Meter
Clear
  1. بہار آئی ہے مستانہ گھٹا کچھ اور کہتی ہےمگر ان شوخ نظروں کی حیا کچھ اور کہتی ہےAkhtar Shirani (1905–1948)
  2. تمناؤں کو زندہ آرزوؤں کو جواں کر لوںیہ شرمیلی نظر کہہ دے تو کچھ گستاخیاں کر لوںAkhtar Shirani (1905–1948)
  3. مری آنکھوں سے ظاہر خوں فشانی اب بھی ہوتی ہےنگاہوں سے بیاں دل کی کہانی اب بھی ہوتی ہےAkhtar Shirani (1905–1948)
  4. ننھا قاصدAkhtar Shirani (1905–1948)
  5. انگوٹھیAkhtar Shirani (1905–1948)
  6. ایک حسن فروش سےAkhtar Shirani (1905–1948)
  7. مجھے لے چلAkhtar Shirani (1905–1948)
  8. جہاں ریحانہؔ رہتی تھیAkhtar Shirani (1905–1948)
  9. سبھی کی تھی نظر اس پر گریبانوں پہ کیا گزریکسی نے یہ نہیں دیکھا کہ دیوانوں پہ کیا گزریFaiyaz Gwaliari (1906–1980)
  10. وہی کچھ زندگی میں زندگی کا بھید پاتے ہیںجو پیہم جستجو کرتے ہیں برسوں غم اٹھاتے ہیںKaif Moradaabadi (1907–1976)
  11. جوانی زندگانی ہے نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھےیہ اک ایسی کہانی ہے نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھےSaba Akbarabadi (1908–1991)
  12. یگانہ بن کے ہو جائے وہ بیگانہ تو کیا ہوگاجو پہچانا تو کیا ہوگا نہ پہچانا تو کیا ہوگاSaba Akbarabadi (1908–1991)
  13. ازل سے آج تک سجدے کئے اور یہ نہیں سوچاکسی کا آستاں کیوں ہے کسی کا سنگ در کیا ہےSaba Akbarabadi (1908–1991)
  14. نہیں کہتے کسی سے حال دل خاموش رہتے ہیںکہ اپنی داستاں میں تیرے افسانے بھی آتے ہیںDavarka Das Shola (1910–1983)
  15. یونہی بیٹھے رہو بس درد دل سے بے خبر ہو کربنو کیوں چارہ گر تم کیا کروگے چارہ گر ہو کرMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  16. اندھیری رات کا مسافرMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  17. سرمایہ داریMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  18. ساقی (مجاز لکھنوی)Majaz Lakhnawi (1911–1955)
  19. ایک غمگین یادMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  20. مجبوریاںMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  21. ہر اک جنت کے رستے ہو کے دوزخ سے نکلتے ہیںانہیں کا حق ہے پھولوں پر جو انگاروں پہ چلتے ہیںAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  22. ہمیں تو مے کدے کا یہ نظام اچھا نہیں لگتانہ ہو سب کے لیے گردش میں جام اچھا نہیں لگتاAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  23. ابھی آتے نہیں اس رند کو آداب مے خانہجو اپنی تشنگی کو فیض ساقی کی کمی سمجھےAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  24. غریبی کس بلا کا نام ہے ان کی بلا جانےخدا ہے جن کی دولت جن کا شیوہ زر پرستی ہےFaiz Ludhianvi (1911–1995)
  25. بہار آئی ہے عالم میں عجب وحشت کا ساماں ہےبیاباں میں کبھی گھر ہے کبھی گھر میں بیاباں ہےAali Gopalpuri (1912–1980)
  26. یہ کس نے فون پہ دی سال نو کی تہنیت مجھ کوتمنا رقص کرتی ہے تخیل گنگناتا ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
  27. رہے جو زندگی میں زندگی کا آسرا ہو کروہی نکلے سریر آرا قیامت میں خدا ہو کرEhsan Danish (1914–1982)
  28. کہاں محفل میں مجھ تک بادۂ گلفام آتا ہےجو میرا نام آتا ہے تو خالی جام آتا ہےEhsan Danish (1914–1982)
  29. میں جس رفتار سے طوفاں کی جانب بڑھتا جاتا ہوںاسی رفتار سے نزدیک ساحل ہوتا جاتا ہےEhsan Danish (1914–1982)
  30. میں حیراں ہوں کہ کیوں اس سے ہوئی تھی دوستی اپنیمجھے کیسے گوارہ ہو گئی تھی دشمنی اپنیEhsan Danish (1914–1982)
  31. بہت دل کر کے ہونٹوں کی شگفتہ تازگی دی ہےچمن مانگا تھا پر اس نے بمشکل اک کلی دی ہےJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  32. زمیں ہوگی کسی قاتل کا داماں ہم نہ کہتے تھےاکارت جائے گا خون شہیداں ہم نہ کہتے تھےJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  33. مجھے معلوم ہے میں ساری دنیا کی امانت ہوںمگر وہ لمحہ جب میں صرف اپنا ہو سا جاتا ہوںJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  34. دیار شرق کی آبادیوں کے اونچے ٹیلوں پرکبھی آموں کے باغوں میں کبھی کھیتوں کی مینڈوں پرAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  35. کراماً کاتبین اعمال نامہ لکھ کے لے جائیںدکھائیں خالق کون و مکاں کو اور سمجھائیںAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  36. نمایاں دونوں جانب شان فطرت ہوتی جاتی ہےانہیں مجھ سے مجھے ان سے محبت ہوتی جاتی ہےShakeel Badayuni (1916–1970)
  37. نہ ملتا غم تو بربادی کے افسانے کہاں جاتےاگر دنیا چمن ہوتی تو ویرانے کہاں جاتےShakeel Badayuni (1916–1970)
  38. ہوئی ہم سے یہ نادانی تری محفل میں آ بیٹھےزمیں کی خاک ہو کر آسماں سے دل لگا بیٹھےShakeel Badayuni (1916–1970)
  39. یہ دنیا ہے یہاں دل کو لگانا کس کو آتا ہےہزاروں پیار کرتے ہیں نبھانا کس کو آتا ہےShakeel Badayuni (1916–1970)
  40. اٹھو اس شان سے کہ وقت کے دھارے بدل ڈالونگاہیں تھک چکیں جن سے وہ نظارے بدل ڈالوIbraheem Khaleel (1916–1992)
  41. وہ دن بھی ہائے کیا دن تھے جب اپنا بھی تعلق تھادشہرے سے دوالی سے بسنتوں سے بہاروں سےKaif Bhopali (1917–1991)
  42. قسم کھاتا ہوں میں ہندوستاں کی شان و شوکت کیقسم کھاتا ہوں ہمت کی دلیری کی شجاعت کیVafa Barahi (1917–1993)
  43. بہار آتے ہی ٹکرانے لگے کیوں ساغر و مینابتا اے پیر مے خانہ یہ مے خانوں پہ کیا گزریJagan Nath Azad (1918–2004)
  44. کنارے ہی سے طوفاں کا تماشا دیکھنے والےکنارے سے کبھی اندازۂ طوفاں نہیں ہوتاJagan Nath Azad (1918–2004)
  45. تمہاری انجمن سے اٹھ کے دیوانے کہاں جاتےجو وابستہ ہوئے تم سے وہ افسانے کہاں جاتےQateel Shifai (1919–2001)
  46. چلو یوں ہی سہی ترک تعلق کر ہی لیتے ہیںجو تم خوش ہو تو ہم مرنے سے پہلے مر ہی لیتے ہیںQateel Shifai (1919–2001)
  47. طرب خانوں کے نغمے غم کدوں کو بھا نہیں سکتےہم اپنے جام میں اپنا لہو چھلکا نہیں سکتےQateel Shifai (1919–2001)
  48. فراز بے خودی سے تیرا تشنہ لب نہیں اتراابھی تک اس کی آنکھوں سے خمار شب نہیں اتراQateel Shifai (1919–2001)
  49. گریباں در گریباں نکتہ آرائی بھی ہوتی ہےبہار آئے تو دیوانوں کی رسوائی بھی ہوتی ہےQateel Shifai (1919–2001)
  50. نگاہوں میں چمک دل میں خوشی محسوس کرتا ہوںکہ تیرے بس میں اپنی زندگی محسوس کرتا ہوںQateel Shifai (1919–2001)