Poetry
Hazaj Musamman Salim
ہزج مثمن سالم- بہار آئی ہے مستانہ گھٹا کچھ اور کہتی ہےمگر ان شوخ نظروں کی حیا کچھ اور کہتی ہےAkhtar Shirani (1905–1948)
- تمناؤں کو زندہ آرزوؤں کو جواں کر لوںیہ شرمیلی نظر کہہ دے تو کچھ گستاخیاں کر لوںAkhtar Shirani (1905–1948)
- مری آنکھوں سے ظاہر خوں فشانی اب بھی ہوتی ہےنگاہوں سے بیاں دل کی کہانی اب بھی ہوتی ہےAkhtar Shirani (1905–1948)
- ننھا قاصدAkhtar Shirani (1905–1948)
- انگوٹھیAkhtar Shirani (1905–1948)
- ایک حسن فروش سےAkhtar Shirani (1905–1948)
- مجھے لے چلAkhtar Shirani (1905–1948)
- جہاں ریحانہؔ رہتی تھیAkhtar Shirani (1905–1948)
- سبھی کی تھی نظر اس پر گریبانوں پہ کیا گزریکسی نے یہ نہیں دیکھا کہ دیوانوں پہ کیا گزریFaiyaz Gwaliari (1906–1980)
- وہی کچھ زندگی میں زندگی کا بھید پاتے ہیںجو پیہم جستجو کرتے ہیں برسوں غم اٹھاتے ہیںKaif Moradaabadi (1907–1976)
- جوانی زندگانی ہے نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھےیہ اک ایسی کہانی ہے نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھےSaba Akbarabadi (1908–1991)
- یگانہ بن کے ہو جائے وہ بیگانہ تو کیا ہوگاجو پہچانا تو کیا ہوگا نہ پہچانا تو کیا ہوگاSaba Akbarabadi (1908–1991)
- ازل سے آج تک سجدے کئے اور یہ نہیں سوچاکسی کا آستاں کیوں ہے کسی کا سنگ در کیا ہےSaba Akbarabadi (1908–1991)
- نہیں کہتے کسی سے حال دل خاموش رہتے ہیںکہ اپنی داستاں میں تیرے افسانے بھی آتے ہیںDavarka Das Shola (1910–1983)
- یونہی بیٹھے رہو بس درد دل سے بے خبر ہو کربنو کیوں چارہ گر تم کیا کروگے چارہ گر ہو کرMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- اندھیری رات کا مسافرMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- سرمایہ داریMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- ساقی (مجاز لکھنوی)Majaz Lakhnawi (1911–1955)
- ایک غمگین یادMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- مجبوریاںMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- ہر اک جنت کے رستے ہو کے دوزخ سے نکلتے ہیںانہیں کا حق ہے پھولوں پر جو انگاروں پہ چلتے ہیںAale Ahmad Suroor (1911–2002)
- ہمیں تو مے کدے کا یہ نظام اچھا نہیں لگتانہ ہو سب کے لیے گردش میں جام اچھا نہیں لگتاAale Ahmad Suroor (1911–2002)
- ابھی آتے نہیں اس رند کو آداب مے خانہجو اپنی تشنگی کو فیض ساقی کی کمی سمجھےAale Ahmad Suroor (1911–2002)
- غریبی کس بلا کا نام ہے ان کی بلا جانےخدا ہے جن کی دولت جن کا شیوہ زر پرستی ہےFaiz Ludhianvi (1911–1995)
- بہار آئی ہے عالم میں عجب وحشت کا ساماں ہےبیاباں میں کبھی گھر ہے کبھی گھر میں بیاباں ہےAali Gopalpuri (1912–1980)
- یہ کس نے فون پہ دی سال نو کی تہنیت مجھ کوتمنا رقص کرتی ہے تخیل گنگناتا ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- رہے جو زندگی میں زندگی کا آسرا ہو کروہی نکلے سریر آرا قیامت میں خدا ہو کرEhsan Danish (1914–1982)
- کہاں محفل میں مجھ تک بادۂ گلفام آتا ہےجو میرا نام آتا ہے تو خالی جام آتا ہےEhsan Danish (1914–1982)
- میں جس رفتار سے طوفاں کی جانب بڑھتا جاتا ہوںاسی رفتار سے نزدیک ساحل ہوتا جاتا ہےEhsan Danish (1914–1982)
- میں حیراں ہوں کہ کیوں اس سے ہوئی تھی دوستی اپنیمجھے کیسے گوارہ ہو گئی تھی دشمنی اپنیEhsan Danish (1914–1982)
- بہت دل کر کے ہونٹوں کی شگفتہ تازگی دی ہےچمن مانگا تھا پر اس نے بمشکل اک کلی دی ہےJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- زمیں ہوگی کسی قاتل کا داماں ہم نہ کہتے تھےاکارت جائے گا خون شہیداں ہم نہ کہتے تھےJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- مجھے معلوم ہے میں ساری دنیا کی امانت ہوںمگر وہ لمحہ جب میں صرف اپنا ہو سا جاتا ہوںJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- دیار شرق کی آبادیوں کے اونچے ٹیلوں پرکبھی آموں کے باغوں میں کبھی کھیتوں کی مینڈوں پرAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
- کراماً کاتبین اعمال نامہ لکھ کے لے جائیںدکھائیں خالق کون و مکاں کو اور سمجھائیںAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
- نمایاں دونوں جانب شان فطرت ہوتی جاتی ہےانہیں مجھ سے مجھے ان سے محبت ہوتی جاتی ہےShakeel Badayuni (1916–1970)
- نہ ملتا غم تو بربادی کے افسانے کہاں جاتےاگر دنیا چمن ہوتی تو ویرانے کہاں جاتےShakeel Badayuni (1916–1970)
- ہوئی ہم سے یہ نادانی تری محفل میں آ بیٹھےزمیں کی خاک ہو کر آسماں سے دل لگا بیٹھےShakeel Badayuni (1916–1970)
- یہ دنیا ہے یہاں دل کو لگانا کس کو آتا ہےہزاروں پیار کرتے ہیں نبھانا کس کو آتا ہےShakeel Badayuni (1916–1970)
- اٹھو اس شان سے کہ وقت کے دھارے بدل ڈالونگاہیں تھک چکیں جن سے وہ نظارے بدل ڈالوIbraheem Khaleel (1916–1992)
- وہ دن بھی ہائے کیا دن تھے جب اپنا بھی تعلق تھادشہرے سے دوالی سے بسنتوں سے بہاروں سےKaif Bhopali (1917–1991)
- قسم کھاتا ہوں میں ہندوستاں کی شان و شوکت کیقسم کھاتا ہوں ہمت کی دلیری کی شجاعت کیVafa Barahi (1917–1993)
- بہار آتے ہی ٹکرانے لگے کیوں ساغر و مینابتا اے پیر مے خانہ یہ مے خانوں پہ کیا گزریJagan Nath Azad (1918–2004)
- کنارے ہی سے طوفاں کا تماشا دیکھنے والےکنارے سے کبھی اندازۂ طوفاں نہیں ہوتاJagan Nath Azad (1918–2004)
- تمہاری انجمن سے اٹھ کے دیوانے کہاں جاتےجو وابستہ ہوئے تم سے وہ افسانے کہاں جاتےQateel Shifai (1919–2001)
- چلو یوں ہی سہی ترک تعلق کر ہی لیتے ہیںجو تم خوش ہو تو ہم مرنے سے پہلے مر ہی لیتے ہیںQateel Shifai (1919–2001)
- طرب خانوں کے نغمے غم کدوں کو بھا نہیں سکتےہم اپنے جام میں اپنا لہو چھلکا نہیں سکتےQateel Shifai (1919–2001)
- فراز بے خودی سے تیرا تشنہ لب نہیں اتراابھی تک اس کی آنکھوں سے خمار شب نہیں اتراQateel Shifai (1919–2001)
- گریباں در گریباں نکتہ آرائی بھی ہوتی ہےبہار آئے تو دیوانوں کی رسوائی بھی ہوتی ہےQateel Shifai (1919–2001)
- نگاہوں میں چمک دل میں خوشی محسوس کرتا ہوںکہ تیرے بس میں اپنی زندگی محسوس کرتا ہوںQateel Shifai (1919–2001)