Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Hazaj Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf

ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف
Poet
Meter
Clear
  1. دل میں ہے غم و رنج و الم حرص و ہوا بنددنیا میں مخمس کا ہمارے نہ کھلا بندDagh Dehlvi (1831–1905)
  2. سب لوگ جدھر وہ ہیں ادھر دیکھ رہے ہیںہم دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیںDagh Dehlvi (1831–1905)
  3. سودا ہے جو دل دے کے خریدار سے الجھےسلجھے ہوئے ہم سے نہ کبھی یار سے الجھےDagh Dehlvi (1831–1905)
  4. کیا چاک‌ کیا تو نے مری جاں مرے دل کومیرا ہی بنایا ہے گریباں مرے دل کوDagh Dehlvi (1831–1905)
  5. کیوں کرتے ہو دنیا کی ہر اک بات سے توبہمنظور تو ہے میری ملاقات سے توبہDagh Dehlvi (1831–1905)
  6. گر میرے بت ہوش ربا کو نہیں دیکھااس دیکھنے والے نے خدا کو نہیں دیکھاDagh Dehlvi (1831–1905)
  7. ہم اپنے ہی سر لیں گے مصیبت ہو کسی کیآئے گی اسی جان پہ آفت ہو کسی کیDagh Dehlvi (1831–1905)
  8. ہے طرفہ تماشہ سر بازار محبتسر بیچتے پھرتے ہیں خریدار محبتDagh Dehlvi (1831–1905)
  9. بے باک نہ دیکھا کوئی قاتل کے برابرشرم آنکھ میں پائی نہ گئی تل کے برابرJalal Lakhnavi (1832–1909)
  10. کیوں وصل میں بھی آنکھ ملائی نہیں جاتیوہ فرق دلوں کا وہ جدائی نہیں جاتیJalal Lakhnavi (1832–1909)
  11. یاد آ کے تری ہجر میں سمجھائے گی کس کودل ہی نہیں سینہ میں تو بہلائے گی کس کوJalal Lakhnavi (1832–1909)
  12. پہنچے نہ وہاں تک یہ دعا مانگ رہا ہوںقاصد کو ادھر بھیج کے دھیان آئے ہے کیا کیاJalal Lakhnavi (1832–1909)
  13. بیگانہ ادائی ہے ستم جور و ستم میںہم چھپنے نہ پائے کہ چھپا آپ وہ ہم میںQalaq Meerathi (1835–1880)
  14. بت خانے کی الفت ہے نہ کعبے کی محبتجویائی نیرنگ ہے جب تک کہ نظر ہےQalaq Meerathi (1835–1880)
  15. کیا خانہ خرابوں کا لگے تیرے ٹھکانااس شہر میں رہتے ہیں جہاں گھر نہیں ہوتاQalaq Meerathi (1835–1880)
  16. وہ سنگ دل انگشت بدنداں نظر آوےایسا کوئی صدمہ مری جاں پر نہیں ہوتاQalaq Meerathi (1835–1880)
  17. ہر سنگ میں کعبہ کے نہاں عشوۂ بت ہےکیا بانیٔ اسلام بھی غارت گر دیں تھاQalaq Meerathi (1835–1880)
  18. ایسے کی محبت کو محبت نہ کہیں گےاس عام عنایت کو عنایت نہ کہیں گےZaheer Dehlvi (1835–1911)
  19. دے حشر کے وعدے پہ اسے کون بھلا قرضتم لے کے نہ دیتے ہو کسی کا نہ دیا قرضZaheer Dehlvi (1835–1911)
  20. رہتا تو ہے اس بزم میں چرچا مرے دل کااچھا ہے یہ اچھا ہو نہ سودا مرے دل کاZaheer Dehlvi (1835–1911)
  21. ملنے کا نہیں رزق مقدر سے سوا اورکیا گھر میں خدا اور ہے غربت میں خدا اورZaheer Dehlvi (1835–1911)
  22. کس کا ہے جگر جس پہ یہ بیداد کرو گےلو دل تمہیں ہم دیتے ہیں کیا یاد کرو گےZaheer Dehlvi (1835–1911)
  23. کہہ دو کوئی ساقی سے کہ ہم مرتے ہیں پیاسےگر مے نہیں دے زہر ہی کا جام بلا سےAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  24. نکلے چلے آتے ہیں تہ خاک سے کھانےیہ خوان کرم کس نے بچھایا ہے خدا نےIsmail Meeruthi (1844–1917)
  25. وہ پیرہن جان میں جاں حجلۂ تن میںہوں وہم جدائی سے عجب رنج و محن میںIsmail Meeruthi (1844–1917)
  26. ہے جان حزیں ایک لب روح فزا دواے کاش کہ اس ایک کی ہو جائیں دوا دوIsmail Meeruthi (1844–1917)
  27. ملمع کی انگوٹھیIsmail Meeruthi (1844–1917)
  28. قلعۂ اکبرآبادIsmail Meeruthi (1844–1917)
  29. آنکھیں مجھے تلووں سے وہ ملنے نہیں دیتےارمان مرے دل کے نکلنے نہیں دیتےAkbar Allahabadi (1846–1921)
  30. الجھا نہ مرے آج کا دامن کبھی کل سےمانگی نہ مرے دل نے مدد طول امل سےAkbar Allahabadi (1846–1921)
  31. بے نالہ و فریاد و فغاں رہ نہیں سکتےقہر اس پہ یہ ہے اس کا سبب کہہ نہیں سکتےAkbar Allahabadi (1846–1921)
  32. دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوںبازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوںAkbar Allahabadi (1846–1921)
  33. روشن دل عارف سے فزوں ہے بدن ان کارنگیں ہے طبیعت کی طرح پیرہن ان کاAkbar Allahabadi (1846–1921)
  34. سینے سے لگائیں تمہیں ارمان یہی ہےجینے کا مزہ ہے تو مری جان یہی ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
  35. ضد ہے انہیں پورا مرا ارماں نہ کریں گےمنہ سے جو نہیں نکلی ہے اب ہاں نہ کریں گےAkbar Allahabadi (1846–1921)
  36. غمزہ نہیں ہوتا کہ اشارا نہیں ہوتاآنکھ ان سے جو ملتی ہے تو کیا کیا نہیں ہوتاAkbar Allahabadi (1846–1921)
  37. کچھ آج علاج دل بیمار تو کر لیںاے جان جہاں آؤ ذرا پیار تو کر لیںAkbar Allahabadi (1846–1921)
  38. کیا جانیے سید تھے حق آگاہ کہاں تکسمجھے نہ کہ سیدھی ہے مری راہ کہاں تکAkbar Allahabadi (1846–1921)
  39. معنی کو بھلا دیتی ہے صورت ہے تو یہ ہےنیچر بھی سبق سیکھ لے زینت ہے تو یہ ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
  40. ہستی کے شجر میں جو یہ چاہو کہ چمک جاؤکچے نہ رہو بلکہ کسی رنگ میں پک جاؤAkbar Allahabadi (1846–1921)
  41. جس روشنی میں لوٹ ہی کی آپ ہمیں سوجھےتہذیب کی میں اس کو تجلی نہ کہوں گاAkbar Allahabadi (1846–1921)
  42. جو لوگ طرف دار علی گڑھ کے رہیں گےاس دور میں بے شک وہی بڑھ چڑھ کے رہیں گےAkbar Allahabadi (1846–1921)
  43. میں نے کہا کیوں لاش پہ آقا کی ہے مرتاہوٹل کی طرف جا کہ غذا بھی ہے کوئی چیزAkbar Allahabadi (1846–1921)
  44. رہتا ہے عبادت میں ہمیں موت کا کھٹکاہم یاد خدا کرتے ہیں کر لے نہ خدا یادAkbar Allahabadi (1846–1921)
  45. عشوہ بھی ہے شوخی بھی تبسم بھی حیا بھیظالم میں اور اک بات ہے اس سب کے سوا بھیAkbar Allahabadi (1846–1921)
  46. کھینچو نہ کمانوں کو نہ تلوار نکالوجب توپ مقابل ہو تو اخبار نکالوAkbar Allahabadi (1846–1921)
  47. کعبہ بھی ہے ٹوٹا ہوا بت خانہ ہمارایا رب رہے آباد یہ ویرانہ ہماراShad Azimabadi (1846–1927)
  48. اس عشق جنوں خیز میں کیا کیا نہیں ہوتاکچھ حشر لحد پر ابھی برپا نہیں ہوتاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  49. الفت میں عیاں سوز بتاں ہو نہیں سکتایہ آگ ہے ایسی کہ دھواں ہو نہیں سکتاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
  50. پیمانے میں وہ زہر نہیں گھول رہے تھےمیرے لئے میخانے کا در کھول رہے تھےRiyaz Khairabadi (1853–1934)