Poetry
Hazaj Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf
ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف- دل میں ہے غم و رنج و الم حرص و ہوا بنددنیا میں مخمس کا ہمارے نہ کھلا بندDagh Dehlvi (1831–1905)
- سب لوگ جدھر وہ ہیں ادھر دیکھ رہے ہیںہم دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیںDagh Dehlvi (1831–1905)
- سودا ہے جو دل دے کے خریدار سے الجھےسلجھے ہوئے ہم سے نہ کبھی یار سے الجھےDagh Dehlvi (1831–1905)
- کیا چاک کیا تو نے مری جاں مرے دل کومیرا ہی بنایا ہے گریباں مرے دل کوDagh Dehlvi (1831–1905)
- کیوں کرتے ہو دنیا کی ہر اک بات سے توبہمنظور تو ہے میری ملاقات سے توبہDagh Dehlvi (1831–1905)
- گر میرے بت ہوش ربا کو نہیں دیکھااس دیکھنے والے نے خدا کو نہیں دیکھاDagh Dehlvi (1831–1905)
- ہم اپنے ہی سر لیں گے مصیبت ہو کسی کیآئے گی اسی جان پہ آفت ہو کسی کیDagh Dehlvi (1831–1905)
- ہے طرفہ تماشہ سر بازار محبتسر بیچتے پھرتے ہیں خریدار محبتDagh Dehlvi (1831–1905)
- بے باک نہ دیکھا کوئی قاتل کے برابرشرم آنکھ میں پائی نہ گئی تل کے برابرJalal Lakhnavi (1832–1909)
- کیوں وصل میں بھی آنکھ ملائی نہیں جاتیوہ فرق دلوں کا وہ جدائی نہیں جاتیJalal Lakhnavi (1832–1909)
- یاد آ کے تری ہجر میں سمجھائے گی کس کودل ہی نہیں سینہ میں تو بہلائے گی کس کوJalal Lakhnavi (1832–1909)
- پہنچے نہ وہاں تک یہ دعا مانگ رہا ہوںقاصد کو ادھر بھیج کے دھیان آئے ہے کیا کیاJalal Lakhnavi (1832–1909)
- بیگانہ ادائی ہے ستم جور و ستم میںہم چھپنے نہ پائے کہ چھپا آپ وہ ہم میںQalaq Meerathi (1835–1880)
- بت خانے کی الفت ہے نہ کعبے کی محبتجویائی نیرنگ ہے جب تک کہ نظر ہےQalaq Meerathi (1835–1880)
- کیا خانہ خرابوں کا لگے تیرے ٹھکانااس شہر میں رہتے ہیں جہاں گھر نہیں ہوتاQalaq Meerathi (1835–1880)
- وہ سنگ دل انگشت بدنداں نظر آوےایسا کوئی صدمہ مری جاں پر نہیں ہوتاQalaq Meerathi (1835–1880)
- ہر سنگ میں کعبہ کے نہاں عشوۂ بت ہےکیا بانیٔ اسلام بھی غارت گر دیں تھاQalaq Meerathi (1835–1880)
- ایسے کی محبت کو محبت نہ کہیں گےاس عام عنایت کو عنایت نہ کہیں گےZaheer Dehlvi (1835–1911)
- دے حشر کے وعدے پہ اسے کون بھلا قرضتم لے کے نہ دیتے ہو کسی کا نہ دیا قرضZaheer Dehlvi (1835–1911)
- رہتا تو ہے اس بزم میں چرچا مرے دل کااچھا ہے یہ اچھا ہو نہ سودا مرے دل کاZaheer Dehlvi (1835–1911)
- ملنے کا نہیں رزق مقدر سے سوا اورکیا گھر میں خدا اور ہے غربت میں خدا اورZaheer Dehlvi (1835–1911)
- کس کا ہے جگر جس پہ یہ بیداد کرو گےلو دل تمہیں ہم دیتے ہیں کیا یاد کرو گےZaheer Dehlvi (1835–1911)
- کہہ دو کوئی ساقی سے کہ ہم مرتے ہیں پیاسےگر مے نہیں دے زہر ہی کا جام بلا سےAltaf Hussain Hali (1837–1914)
- نکلے چلے آتے ہیں تہ خاک سے کھانےیہ خوان کرم کس نے بچھایا ہے خدا نےIsmail Meeruthi (1844–1917)
- وہ پیرہن جان میں جاں حجلۂ تن میںہوں وہم جدائی سے عجب رنج و محن میںIsmail Meeruthi (1844–1917)
- ہے جان حزیں ایک لب روح فزا دواے کاش کہ اس ایک کی ہو جائیں دوا دوIsmail Meeruthi (1844–1917)
- ملمع کی انگوٹھیIsmail Meeruthi (1844–1917)
- قلعۂ اکبرآبادIsmail Meeruthi (1844–1917)
- آنکھیں مجھے تلووں سے وہ ملنے نہیں دیتےارمان مرے دل کے نکلنے نہیں دیتےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- الجھا نہ مرے آج کا دامن کبھی کل سےمانگی نہ مرے دل نے مدد طول امل سےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- بے نالہ و فریاد و فغاں رہ نہیں سکتےقہر اس پہ یہ ہے اس کا سبب کہہ نہیں سکتےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوںبازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوںAkbar Allahabadi (1846–1921)
- روشن دل عارف سے فزوں ہے بدن ان کارنگیں ہے طبیعت کی طرح پیرہن ان کاAkbar Allahabadi (1846–1921)
- سینے سے لگائیں تمہیں ارمان یہی ہےجینے کا مزہ ہے تو مری جان یہی ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- ضد ہے انہیں پورا مرا ارماں نہ کریں گےمنہ سے جو نہیں نکلی ہے اب ہاں نہ کریں گےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- غمزہ نہیں ہوتا کہ اشارا نہیں ہوتاآنکھ ان سے جو ملتی ہے تو کیا کیا نہیں ہوتاAkbar Allahabadi (1846–1921)
- کچھ آج علاج دل بیمار تو کر لیںاے جان جہاں آؤ ذرا پیار تو کر لیںAkbar Allahabadi (1846–1921)
- کیا جانیے سید تھے حق آگاہ کہاں تکسمجھے نہ کہ سیدھی ہے مری راہ کہاں تکAkbar Allahabadi (1846–1921)
- معنی کو بھلا دیتی ہے صورت ہے تو یہ ہےنیچر بھی سبق سیکھ لے زینت ہے تو یہ ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- ہستی کے شجر میں جو یہ چاہو کہ چمک جاؤکچے نہ رہو بلکہ کسی رنگ میں پک جاؤAkbar Allahabadi (1846–1921)
- جس روشنی میں لوٹ ہی کی آپ ہمیں سوجھےتہذیب کی میں اس کو تجلی نہ کہوں گاAkbar Allahabadi (1846–1921)
- جو لوگ طرف دار علی گڑھ کے رہیں گےاس دور میں بے شک وہی بڑھ چڑھ کے رہیں گےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- میں نے کہا کیوں لاش پہ آقا کی ہے مرتاہوٹل کی طرف جا کہ غذا بھی ہے کوئی چیزAkbar Allahabadi (1846–1921)
- رہتا ہے عبادت میں ہمیں موت کا کھٹکاہم یاد خدا کرتے ہیں کر لے نہ خدا یادAkbar Allahabadi (1846–1921)
- عشوہ بھی ہے شوخی بھی تبسم بھی حیا بھیظالم میں اور اک بات ہے اس سب کے سوا بھیAkbar Allahabadi (1846–1921)
- کھینچو نہ کمانوں کو نہ تلوار نکالوجب توپ مقابل ہو تو اخبار نکالوAkbar Allahabadi (1846–1921)
- کعبہ بھی ہے ٹوٹا ہوا بت خانہ ہمارایا رب رہے آباد یہ ویرانہ ہماراShad Azimabadi (1846–1927)
- اس عشق جنوں خیز میں کیا کیا نہیں ہوتاکچھ حشر لحد پر ابھی برپا نہیں ہوتاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- الفت میں عیاں سوز بتاں ہو نہیں سکتایہ آگ ہے ایسی کہ دھواں ہو نہیں سکتاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- پیمانے میں وہ زہر نہیں گھول رہے تھےمیرے لئے میخانے کا در کھول رہے تھےRiyaz Khairabadi (1853–1934)