عشوہ بھی ہے شوخی بھی تبسم بھی حیا بھی

Akbar Allahabadi (1846–1921)

عشوہ بھی ہے شوخی بھی تبسم بھی حیا بھی

ظالم میں اور اک بات ہے اس سب کے سوا بھی