بے نالہ و فریاد و فغاں رہ نہیں سکتے

Akbar Allahabadi (1846–1921)

بے نالہ و فریاد و فغاں رہ نہیں سکتے

قہر اس پہ یہ ہے اس کا سبب کہہ نہیں سکتے

موجیں ہیں طبیعت میں مگر اٹھ نہیں سکتیں

دریا ہیں مرے دل میں مگر بہہ نہیں سکتے

پتوار شکستہ ہے نہیں طاقت گرمی

ہے ناؤ میں سوراخ مگر کہہ نہیں سکتے

کہہ دو گے کہ ہے تجربہ اس بات کے برعکس

کیوں کر یہ کہیں ظلم و ستم سہ نہیں سکتے

عزت کبھی وہ تھی کہ بھلائے سے نہ بھولے

تحقیر اب ایسی ہے جسے سہ نہیں سکتے