Poetry
Muzari' Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف- سال نو کا ہنگامہZafar Ali Khan (1873–1956)
- ہندوستانZafar Ali Khan (1873–1956)
- آنکھوں کو انتظار سے گرویدہ کر چلےتم یہ تو خوب کارِ پسندیدہ کر چلےHasrat Mohani (1875–1951)
- اپنا سا شوق اوروں میں لائیں کہاں سے ہمگھبرا گئے ہیں بے دلئ ہم رہاں سے ہمHasrat Mohani (1875–1951)
- ان کو جو شغل ناز سے فرصت نہ ہو سکیہم نے یہ کہہ دیا کہ محبت نہ ہو سکیHasrat Mohani (1875–1951)
- پیہم دیا پیالۂ مے برملا دیاساقی نے التفات کا دریا بہا دیاHasrat Mohani (1875–1951)
- تاباں جو نور حسن بہ سیمائے عشق ہےکس درجہ دل پذیر تماشائے عشق ہےHasrat Mohani (1875–1951)
- حائل تھی بیچ میں جو رضائی تمام شباس غم سے ہم کو نیند نہ آئی تمام شبHasrat Mohani (1875–1951)
- دل کو خیال یار نے مخمور کر دیاساغر کو رنگ بادہ نے پر نور کر دیاHasrat Mohani (1875–1951)
- روشن جمال یار سے ہے انجمن تمامدہکا ہوا ہے آتش گل سے چمن تمامHasrat Mohani (1875–1951)
- وہ قامتِ بلند نہیں در قبائے نازاک سروِ ناز ہے جو بنا ہو برائے نازHasrat Mohani (1875–1951)
- ہر حال میں رہا جو ترا آسرا مجھےمایوس کر سکا نہ ہجوم بلا مجھےHasrat Mohani (1875–1951)
- آئینے میں وہ دیکھ رہے تھے بہار حسنآیا مرا خیال تو شرما کے رہ گئےHasrat Mohani (1875–1951)
- اس نا خدا کے ظلم و ستم ہائے کیا کروںکشتی مری ڈبوئی ہے ساحل کے آس پاسHasrat Mohani (1875–1951)
- اقرار ہے کہ دل سے تمہیں چاہتے ہیں ہمکچھ اس گناہ کی بھی سزا ہے تمہارے پاسHasrat Mohani (1875–1951)
- حسرتؔ کی بھی قبول ہو متھرا میں حاضریسنتے ہیں عاشقوں پہ تمہارا کرم ہے آجHasrat Mohani (1875–1951)
- دیکھا کیے وہ مست نگاہوں سے بار بارجب تک شراب آئی کئی دور ہو گئےHasrat Mohani (1875–1951)
- ملتے ہیں اس ادا سے کہ گویا خفا نہیںکیا آپ کی نگاہ سے ہم آشنا نہیںHasrat Mohani (1875–1951)
- ہم کیا کریں اگر نہ تری آرزو کریںدنیا میں اور بھی کوئی تیرے سوا ہے کیاHasrat Mohani (1875–1951)
- اللہ رے فیض ایک جہاں مستفید ہےہر مست میرے پیر مغاں کا مرید ہےBedam Warsi (1876–1936)
- پاس ادب مجھے انہیں شرم و حیا نہ ہونظارہ گاہ میں اثر ماسوا نہ ہوBedam Warsi (1876–1936)
- ہم میکدے سے مر کے بھی باہر نہ جائیں گےمیکش ہماری خاک کے ساغر بنائیں گےBedam Warsi (1876–1936)
- شمع و پروانہAllama Iqbal (1877–1938)
- آفتابAllama Iqbal (1877–1938)
- شمعAllama Iqbal (1877–1938)
- درد عشقAllama Iqbal (1877–1938)
- گُلزارِ ہست و بود نہ بیگانہ وار دیکھہے دیکھنے کی چیز اسے بار بار دیکھAllama Iqbal (1877–1938)
- ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئیہو دیکھنا تو دیدہء دل وا کرے کوئیAllama Iqbal (1877–1938)
- مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دےنظّارے کی ہوس ہو تو لیلیٰ بھی چھوڑ دےAllama Iqbal (1877–1938)
- رامAllama Iqbal (1877–1938)
- موٹرAllama Iqbal (1877–1938)
- شفاخانہ حجازAllama Iqbal (1877–1938)
- محاصرہ ادرنہAllama Iqbal (1877–1938)
- بلالAllama Iqbal (1877–1938)
- ڈالی گئی جو فصلِ خزاں میں شَجر سے ٹُوٹمُمکن نہیں ہری ہو سحابِ بہار سےAllama Iqbal (1877–1938)
- کیا عشق ایک زندگیِ مستعار کاکیا عشق پائدار سے ناپائدار کاAllama Iqbal (1877–1938)
- چیونٹی اورعقابAllama Iqbal (1877–1938)
- جہادAllama Iqbal (1877–1938)
- سلطان ٹیپو کی وصیتAllama Iqbal (1877–1938)
- ابی سینیاAllama Iqbal (1877–1938)
- ابلیس کا فرمان اپنے سیاسی فرزندوں کے نامAllama Iqbal (1877–1938)
- آگ اس کی پھُونک دیتی ہے برنا و پیر کولاکھوں میں ایک بھی ہو اگر صاحبِ یقیںAllama Iqbal (1877–1938)
- ناداں تھے اس قدر کہ نہ جانی عرب کی قدرحاصل ہوا یہی، نہ بچے مار پِیٹ سےAllama Iqbal (1877–1938)
- ہاتھوں سے اپنے دامنِ دُنیا نکل گیارُخصت ہُوا دلوں سے خیالِ معاد بھیAllama Iqbal (1877–1938)
- ہندوستاں میں جزوِ حکومت ہیں کونسلیںآغاز ہے ہمارے سیاسی کمال کاAllama Iqbal (1877–1938)
- یہ کوئی دن کی بات ہے اے مردِ ہوش مند!غیرت نہ تجھ میں ہو گی، نہ زن اوٹ چاہے گیAllama Iqbal (1877–1938)
- “اصلِ شہود و شاہد و مشہود ایک ہے”غالبؔ کا قول سچ ہے تو پھر ذکرِ غیر کیاAllama Iqbal (1877–1938)
- تکرار تھی مزارع و مالک میں ایک روزدونوں یہ کہہ رہے تھے، مرا مال ہے زمیںAllama Iqbal (1877–1938)
- تہذیب کے مریض کو گولی سے فائدہ!دفعِ مَرض کے واسطے پِل پیش کیجیےAllama Iqbal (1877–1938)
- ناظرین سے (ضربِ کلیم)Allama Iqbal (1877–1938)