ہاتھوں سے اپنے دامنِ دُنیا نکل گیا
Allama Iqbal (1877–1938)ہاتھوں سے اپنے دامنِ دُنیا نکل گیا
رُخصت ہُوا دلوں سے خیالِ معاد بھی
قانونِ وقف کے لیے لڑتے تھے شیخ جی
پُوچھو تو، وقف کے لیے ہے جائداد بھی!
ہاتھوں سے اپنے دامنِ دُنیا نکل گیا
رُخصت ہُوا دلوں سے خیالِ معاد بھی
قانونِ وقف کے لیے لڑتے تھے شیخ جی
پُوچھو تو، وقف کے لیے ہے جائداد بھی!