تہذیب کے مریض کو گولی سے فائدہ!
Allama Iqbal (1877–1938)تہذیب کے مریض کو گولی سے فائدہ!
دفعِ مَرض کے واسطے پِل پیش کیجیے
تھے وہ بھی دن کہ خدمتِ استاد کے عوَض
دل چاہتا تھا ہدیۂ دِل پیش کیجیے
بدلا زمانہ ایسا کہ لڑکا پس از سبَق
کہتا ہے ماسٹر سے کہ “بِل پیش کیجیے!”