Poetry
Muzari' Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف- جب تجھ عرق کے وصف میں جاری قلم ہواعالم میں اس کا ناؤں جواہر رقم ہواWali Dakani (1667–1707)
- جس دل ربا سوں دل کوں مرے اتحاد ہےدیدار اس کا میری انکھاں کی مراد ہےWali Dakani (1667–1707)
- آیا ہے صبح نیند سوں اٹھ رسمسا ہواجامہ گلے میں رات کے پھولوں بسا ہواShah Mubarak Abru (1683–1733)
- اس زلف جاں کوں صنم کی بلا کہوافعی کہو سیاہ کہو اژدہا کہوShah Mubarak Abru (1683–1733)
- انسان ہے تو کبر سیں کہتا ہے کیوں اناآدم تو ہم سنا ہے کہ وہ خاک سے بناShah Mubarak Abru (1683–1733)
- جلتے تھے تم کوں دیکھ کے غیر انجمن میں ہمپہنچے تھے رات شمع کے ہو کر برن میں ہمShah Mubarak Abru (1683–1733)
- دلی کے بیچ ہائے اکیلے مریں گے ہمتم آگرے چلے ہو سجن کیا کریں گے ہمShah Mubarak Abru (1683–1733)
- کوئل نیں آ کے کوک سنائی بسنت رتبورائے خاص و عام کہ آئی بسنت رتShah Mubarak Abru (1683–1733)
- یہ باؤ کیا پھری کہ تری لٹ پلٹ گئیناگن کی بھانت ڈس کے مرا دل الٹ گئیShah Mubarak Abru (1683–1733)
- جاگیر اگر بہت نہ ملی ہم کوں غم نہیںحاصل ہمارے ملک قناعت کا کم نہیںFaez Dehlvi (1690–1738)
- آب حیات جا کے کسو نے پیا تو کیامانند خضر جگ میں اکیلا جیا تو کیاShah Hatim (1699–1783)
- آئی عید و دل میں نہیں کچھ ہوائے عیداے کاش میرے پاس تو آتا بجائے عیدShah Hatim (1699–1783)
- اس دکھ میں ہائے یار یگانے کدھر گئےسب چھوڑ ہم کو غم میں نہ جانے کدھر گئےShah Hatim (1699–1783)
- اس دور کے اثر کا جو پوچھو بیاں نہیںہے کون سی زمیں کہ جہاں آسماں نہیںShah Hatim (1699–1783)
- اوقات شیخ گو کہ سجود و قیام ہےمیرے کنے تو ایک خدا ہی کا نام ہےShah Hatim (1699–1783)
- اے دل نہ کر تو فکر پڑے گا بلا کے ہاتھآئینہ ہو کے جا کے لگ اب دل ربا کے ہاتھShah Hatim (1699–1783)
- بندہ اگر جہاں میں بجائے خدا نہیںلیکن نظر کرو تو خدا سے جدا نہیںShah Hatim (1699–1783)
- دنیا خیال و خواب ہے میری نگاہ میںآباد سب خراب ہے میری نگاہ میںShah Hatim (1699–1783)
- دورا ہے جب سے بزم میں تیری شراب کابازار گرم ہے مرے دل کے کباب کاShah Hatim (1699–1783)
- ساقی مجھے خمار ستائے ہے لا شرابمرتا ہوں تشنگی سے اے ظالم پلا شرابShah Hatim (1699–1783)
- وحشت سے ہر سخن مرا گویا غزالہ ہےبو سے نشہ ہو یہ وہ مے دیر سالہ ہےShah Hatim (1699–1783)
- ہووے وہ شوخ چشم اگر مجھ سے چار چشمقرباں کروں میں چشم پر اس کے ہزار چشمShah Hatim (1699–1783)
- دیکھا کسی نے ہم سے زمانے نے کیا کیااور کیا کہیں کہ یار یگانے نے کیا کیاShah Hatim (1699–1783)
- اپنا جمال مجھ کوں دکھایا رسول آجعاجز کی التماس کوں کرنا قبول آجSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- اغیار چھوڑ مجھ سیں اگر یار ہووے گاشاید کہ یار محرم اسرار ہووے گاSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- اول سیں دل مرا جو گرفتار تھا سو ہےمیرے گلے میں عشق کا زنار تھا سو ہےSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- تیری بھنووں کی تیغ کے جو روبرو ہواسب عاشقوں کی صف میں وو ہی سرخ رو ہواSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- جاناں پہ جی نثار ہوا کیا بجا ہوااس راہ میں غبار ہوا کیا بجا ہواSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- ظالم مرے جگر کوں کرے کیوں نہ پھانک پھانکسیکھا ہے وو نگہ کا پٹا اور ادا کا بانکSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- عالم کے دوستوں میں مروت نہیں رہیشرم و حیا و مہر و شفقت نہیں رہیSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- میرے جگر کے درد کا چارا کب آئے گایک بار ہو گیا ہے دوبارا کب آئے گاSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- وو زلف ہے تو حرف تتار و ختن غلطاس لب کے ہوتے نام عقیق یمن غلطSiraj Aurangabadi (1712–1764)
- آدم کا جسم جب کہ عناصر سے مل بناکچھ آگ بچ رہی تھی سو عاشق کا دل بناMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- آرام پھر کہاں ہے جو ہو دل میں جائے حرصآسودہ زیر خاک نہیں آشنائے حرصMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- اپنے کا ہے گناہ بیگانے نے کیا کیااس دل کو کیا کہوں کہ دوانے نے کیا کیاMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- اے دیدہ خانماں تو ہمارا ڈبو سکالیکن غبار یار کے دل سے نہ دھو سکاMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- بے وجہ نئیں ہے آئنہ ہر بار دیکھناکوئی دم کو پھولتا ہے یہ گل زار دیکھناMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- تجھ بن بہت ہی کٹتی ہے اوقات بے طرحجوں توں کے دن تو گزرے ہے پر رات بے طرحMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- تجھ عشق کے مریض کی تدبیر شرط ہےلیکن شفا کو گردش تقدیر شرط ہےMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- جو گل ہے یاں سو اس گل رخسار ساتھ ہےکیا گل ہے وہ کہ جس کے یہ گل زار ساتھ ہےMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- دل دار اس کو خواہ دل آزار کچھ کہوسنتا نہیں کسو کی مرا یار کچھ کہوMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- دل مت ٹپک نظر سے کہ پایا نہ جائے گاجوں اشک پھر زمیں سے اٹھایا نہ جائے گاMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- دیکھوں ہوں یوں میں اس ستم ایجاد کی طرفجوں صید وقت ذبح کے صیاد کی طرفMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- غنچے سے مسکرا کے اسے زار کر چلےنرگس کو آنکھ مار کے بیمار کر چلےMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- کرتا ہوں تیرے ظلم سے ہر بار الغیاثیک بار تیرے دل میں نہیں کار الغیاثMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- کہتے ہیں لوگ یار کا ابرو پھڑک گیاتیغا سا کچھ نظر میں ہماری سڑک گیاMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- گر تجھ میں ہے وفا تو جفاکار کون ہےدل دار تو ہوا تو دل آزار کون ہےMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- ناصح کو جیب سینے سے فرصت کبھو نہ ہودل یار سے پھٹے تو کسی سے رفو نہ ہوMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- ہر سنگ میں شرار ہے تیرے ظہور کاموسیٰ نہیں کہ سیر کروں کوہ طور کاMirza Rafi Sauda (1713–1781)
- ہندو ہیں بت پرست مسلماں خدا پرستپوجوں میں اس کسی کو جو ہو آشنا پرستMirza Rafi Sauda (1713–1781)