Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Mujtass Musamman Makhbun Mahzuf Musakkan

مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن
Poet
Meter
Clear
  1. جو خود نہ اپنے ارادے سے بد گماں ہوتاقدم اٹھاتے ہی منزل پہ کارواں ہوتاAal-e-Raza Raza (1896–1978)
  2. قریب کچھ نہ ملا دور سے دھواں دیکھاقفس سے چھوٹ کے کیا خوب آشیاں دیکھاAal-e-Raza Raza (1896–1978)
  3. ہمیں نے ان کی طرف سے منا لیا دل کووہ کرتے عذر تو یہ اور بھی گراں ہوتاAal-e-Raza Raza (1896–1978)
  4. اگر ہو چشم حقیقت تو دیکھ کیا ہوں میںفنا کے رنگ میں اک جوہر بقا ہوں میںGawwas Qureshi (b. 1898)
  5. کبھی زمیں پہ کبھی آسماں پہ چھائے جااجاڑنے کے لیے بستیاں بسائے جاHafeez Jalandhari (1900–1982)
  6. جو حق سے دور ہے وہ حق سمجھ نہیں سکتاسوائے ذق ذق‌ و بق بق سمجھ نہیں سکتاZaheen Shah Taji (1902–1978)
  7. خدا کو خود پہ جو غالب سمجھ نہیں سکتاوہ علم حق کے مطالب سمجھ نہیں سکتاZaheen Shah Taji (1902–1978)
  8. مری زبان سے تیرا بیان مشکل ہےہزار کوس کی دوری زبان سے دل ہےZaheen Shah Taji (1902–1978)
  9. حضور یار بھی آنسو نکل ہی آتے ہیںکچھ اختلاف کے پہلو نکل ہی آتے ہیںM. D. Taseer (1902–1950)
  10. چمن چمن سے گلوں کا یہی پیام آیاوہی حسیں ہے جو دنیا میں شاد کام آیاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  11. حسین خواب نہیں کوئی زندگی کی طرحکوئی سراب جہاں میں نہیں خوشی کی طرحJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  12. کبھی طویل کبھی مختصر بھی ہوتی ہےہر ایک رات کی لیکن سحر بھی ہوتی ہےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  13. جہاں میں غم بھی ہے روشن تریں ستاروں میںدکھاتا راہ ہے ظلمت کے خارزاروں میںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  14. کہاں گیا وہ زمانہ کہ جس کی یاد میں آجبھلائے بیٹھا ہوں خود کو پتا نہیں ملتاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  15. جہاں حسیں ہے محبت کی دل نوازی سےمگر یہ راز کوئی خال خال ہی جانےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  16. جہاں کہیں بھی کوئی دل فگار ہوتا ہےوہیں پہ سایۂ پروردگار ہوتا ہےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
  17. دل و دماغ کو رو لوں گا آہ کر لوں گاتمہارے عشق میں سب کچھ تباہ کر لوں گاAkhtar Shirani (1905–1948)
  18. زمان ہجر مٹے دور وصل یار آئےالٰہی اب تو خزاں جائے اور بہار آئےAkhtar Shirani (1905–1948)
  19. نہ بھول کر بھی تمنائے رنگ و بو کرتےچمن کے پھول اگر تیری آرزو کرتےAkhtar Shirani (1905–1948)
  20. نہ چھیڑ زاہد ناداں شراب پینے دےشراب پینے دے خانہ خراب پینے دےAkhtar Shirani (1905–1948)
  21. وقت کی قدرAkhtar Shirani (1905–1948)
  22. بنارسAkhtar Shirani (1905–1948)
  23. کہو بتوں سے کہ ہم طبع سادہ رکھتے ہیںپھر ان سے عرض وفا کا ارادہ رکھتے ہیںAbid Ali Abid (1906–1971)
  24. یہ کیا طلسم ہے دنیا پہ بار گزری ہےوہ زندگی جو سر رہ گزار گزری ہےAbid Ali Abid (1906–1971)
  25. کسی کی عشوہ گری سے بہ غیر فصل بہارسبھی کا چاک گریباں ہے دیکھیے کیا ہوAbid Ali Abid (1906–1971)
  26. ٹٹولنے پہ بھی دل کا نشاں نہیں ملتاغضب خدا کا جہاں کا جہاں نہیں ملتاFaiyaz Gwaliari (1906–1980)
  27. بڑھے چلو کہ زمانے کو یہ دکھانا ہےجہاں ہمارے قدم ہیں وہیں زمانہ ہےKaif Moradaabadi (1907–1976)
  28. جنون عشق کسی کو بھی یوں نہ راس آئےوہ میرے پاس تو آئے مگر اداس آئےKaif Moradaabadi (1907–1976)
  29. ہوس پرست ادیبوں پہ حد لگے کوئیتباہ کرتے ہیں لفظوں کی عصمتیں کیا کیاSaba Akbarabadi (1908–1991)
  30. جبیں نواز کسی کی فسوں گری کیوں ہےسرشت حسن میں اس درجہ دل کشی کیوں ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  31. جو کام کرنے ہیں اس میں نہ چاہئے تاخیرکبھی پیام اجل ناگہاں بھی آتا ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  32. نہیں کہ اپنی تباہی کا رازؔ کو غم ہےتمہاری زحمت عہد کرم کا ماتم ہےRaaz Yazdani (1908–1963)
  33. اگر گناہ کے قصے بھی کہہ دیئے تجھ سےگناہ گار کو یا رب ثواب کیا ہوگاRaaz Yazdani (1908–1963)
  34. وہ سامنے سر منزل چراغ جلتے ہیںجواب پاؤں نہ دیتے تو میں کہاں ہوتاRaaz Yazdani (1908–1963)
  35. جو بے ثبات ہو اس سر خوشی کو کیا کیجےیہ زندگی ہے تو پھر زندگی کو کیا کیجےNoon Meem Rashid (1910–1975)
  36. رہی ہے حضرت یزداں سے دوستی میریرہا ہے زہد سے یارانہ استوار مراNoon Meem Rashid (1910–1975)
  37. نظر ہے جلوۂ جاناں ہے دیکھیے کیا ہوشکست عشق کا امکاں ہے دیکھیے کیا ہوQamar Moradabadi (1910–1987)
  38. تری امید ترا انتظار جب سے ہےنہ شب کو دن سے شکایت نہ دن کو شب سے ہےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  39. تم آئے ہو نہ شب انتظار گزری ہےتلاش میں ہے سحر بار بار گزری ہےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  40. تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیںکسی بہانے تمہیں یاد کرنے لگتے ہیںFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  41. شفق کی راکھ میں جل بجھ گیا ستارۂ شامشب فراق کے گیسو فضا میں لہرائےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  42. کسی گماں پہ توقع زیادہ رکھتے ہیںپھر آج کوئے بتاں کا ارادہ رکھتے ہیںFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  43. گرانئ شب ہجراں دو چند کیا کرتےعلاج درد ترے دردمند کیا کرتےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  44. نہ اب رقیب نہ ناصح نہ غم گسار کوئیتم آشنا تھے تو تھیں آشنائیاں کیا کیاFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  45. وہیں ہیں دل کے قرائن تمام کہتے ہیںوہ اک خلش کہ جسے تیرا نام کہتے ہیںFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  46. ہمیں تو ساحل دریا کی پیاس ہونا تھاسکوت ہجر کا اک غم شناس ہونا تھاFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  47. یہ کس خلش نے پھر اس دل میں آشیانہ کیاپھر آج کس نے سخن ہم سے غائبانہ کیاFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  48. خدا وہ وقت نہ لائے کہ سوگوار ہو توسکوں کی نیند تجھے بھی حرام ہو جائےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  49. گزر رہے ہیں شب و روز تم نہیں آتیںریاض زیست ہے آزردۂ بہار ابھیFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  50. نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاںچلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)