Poetry
Mujtass Musamman Makhbun Mahzuf Musakkan
مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن- جو خود نہ اپنے ارادے سے بد گماں ہوتاقدم اٹھاتے ہی منزل پہ کارواں ہوتاAal-e-Raza Raza (1896–1978)
- قریب کچھ نہ ملا دور سے دھواں دیکھاقفس سے چھوٹ کے کیا خوب آشیاں دیکھاAal-e-Raza Raza (1896–1978)
- ہمیں نے ان کی طرف سے منا لیا دل کووہ کرتے عذر تو یہ اور بھی گراں ہوتاAal-e-Raza Raza (1896–1978)
- اگر ہو چشم حقیقت تو دیکھ کیا ہوں میںفنا کے رنگ میں اک جوہر بقا ہوں میںGawwas Qureshi (b. 1898)
- کبھی زمیں پہ کبھی آسماں پہ چھائے جااجاڑنے کے لیے بستیاں بسائے جاHafeez Jalandhari (1900–1982)
- جو حق سے دور ہے وہ حق سمجھ نہیں سکتاسوائے ذق ذق و بق بق سمجھ نہیں سکتاZaheen Shah Taji (1902–1978)
- خدا کو خود پہ جو غالب سمجھ نہیں سکتاوہ علم حق کے مطالب سمجھ نہیں سکتاZaheen Shah Taji (1902–1978)
- مری زبان سے تیرا بیان مشکل ہےہزار کوس کی دوری زبان سے دل ہےZaheen Shah Taji (1902–1978)
- حضور یار بھی آنسو نکل ہی آتے ہیںکچھ اختلاف کے پہلو نکل ہی آتے ہیںM. D. Taseer (1902–1950)
- چمن چمن سے گلوں کا یہی پیام آیاوہی حسیں ہے جو دنیا میں شاد کام آیاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- حسین خواب نہیں کوئی زندگی کی طرحکوئی سراب جہاں میں نہیں خوشی کی طرحJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- کبھی طویل کبھی مختصر بھی ہوتی ہےہر ایک رات کی لیکن سحر بھی ہوتی ہےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- جہاں میں غم بھی ہے روشن تریں ستاروں میںدکھاتا راہ ہے ظلمت کے خارزاروں میںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- کہاں گیا وہ زمانہ کہ جس کی یاد میں آجبھلائے بیٹھا ہوں خود کو پتا نہیں ملتاJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- جہاں حسیں ہے محبت کی دل نوازی سےمگر یہ راز کوئی خال خال ہی جانےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- جہاں کہیں بھی کوئی دل فگار ہوتا ہےوہیں پہ سایۂ پروردگار ہوتا ہےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- دل و دماغ کو رو لوں گا آہ کر لوں گاتمہارے عشق میں سب کچھ تباہ کر لوں گاAkhtar Shirani (1905–1948)
- زمان ہجر مٹے دور وصل یار آئےالٰہی اب تو خزاں جائے اور بہار آئےAkhtar Shirani (1905–1948)
- نہ بھول کر بھی تمنائے رنگ و بو کرتےچمن کے پھول اگر تیری آرزو کرتےAkhtar Shirani (1905–1948)
- نہ چھیڑ زاہد ناداں شراب پینے دےشراب پینے دے خانہ خراب پینے دےAkhtar Shirani (1905–1948)
- وقت کی قدرAkhtar Shirani (1905–1948)
- بنارسAkhtar Shirani (1905–1948)
- کہو بتوں سے کہ ہم طبع سادہ رکھتے ہیںپھر ان سے عرض وفا کا ارادہ رکھتے ہیںAbid Ali Abid (1906–1971)
- یہ کیا طلسم ہے دنیا پہ بار گزری ہےوہ زندگی جو سر رہ گزار گزری ہےAbid Ali Abid (1906–1971)
- کسی کی عشوہ گری سے بہ غیر فصل بہارسبھی کا چاک گریباں ہے دیکھیے کیا ہوAbid Ali Abid (1906–1971)
- ٹٹولنے پہ بھی دل کا نشاں نہیں ملتاغضب خدا کا جہاں کا جہاں نہیں ملتاFaiyaz Gwaliari (1906–1980)
- بڑھے چلو کہ زمانے کو یہ دکھانا ہےجہاں ہمارے قدم ہیں وہیں زمانہ ہےKaif Moradaabadi (1907–1976)
- جنون عشق کسی کو بھی یوں نہ راس آئےوہ میرے پاس تو آئے مگر اداس آئےKaif Moradaabadi (1907–1976)
- ہوس پرست ادیبوں پہ حد لگے کوئیتباہ کرتے ہیں لفظوں کی عصمتیں کیا کیاSaba Akbarabadi (1908–1991)
- جبیں نواز کسی کی فسوں گری کیوں ہےسرشت حسن میں اس درجہ دل کشی کیوں ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- جو کام کرنے ہیں اس میں نہ چاہئے تاخیرکبھی پیام اجل ناگہاں بھی آتا ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- نہیں کہ اپنی تباہی کا رازؔ کو غم ہےتمہاری زحمت عہد کرم کا ماتم ہےRaaz Yazdani (1908–1963)
- اگر گناہ کے قصے بھی کہہ دیئے تجھ سےگناہ گار کو یا رب ثواب کیا ہوگاRaaz Yazdani (1908–1963)
- وہ سامنے سر منزل چراغ جلتے ہیںجواب پاؤں نہ دیتے تو میں کہاں ہوتاRaaz Yazdani (1908–1963)
- جو بے ثبات ہو اس سر خوشی کو کیا کیجےیہ زندگی ہے تو پھر زندگی کو کیا کیجےNoon Meem Rashid (1910–1975)
- رہی ہے حضرت یزداں سے دوستی میریرہا ہے زہد سے یارانہ استوار مراNoon Meem Rashid (1910–1975)
- نظر ہے جلوۂ جاناں ہے دیکھیے کیا ہوشکست عشق کا امکاں ہے دیکھیے کیا ہوQamar Moradabadi (1910–1987)
- تری امید ترا انتظار جب سے ہےنہ شب کو دن سے شکایت نہ دن کو شب سے ہےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- تم آئے ہو نہ شب انتظار گزری ہےتلاش میں ہے سحر بار بار گزری ہےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیںکسی بہانے تمہیں یاد کرنے لگتے ہیںFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- شفق کی راکھ میں جل بجھ گیا ستارۂ شامشب فراق کے گیسو فضا میں لہرائےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- کسی گماں پہ توقع زیادہ رکھتے ہیںپھر آج کوئے بتاں کا ارادہ رکھتے ہیںFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- گرانئ شب ہجراں دو چند کیا کرتےعلاج درد ترے دردمند کیا کرتےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- نہ اب رقیب نہ ناصح نہ غم گسار کوئیتم آشنا تھے تو تھیں آشنائیاں کیا کیاFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- وہیں ہیں دل کے قرائن تمام کہتے ہیںوہ اک خلش کہ جسے تیرا نام کہتے ہیںFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- ہمیں تو ساحل دریا کی پیاس ہونا تھاسکوت ہجر کا اک غم شناس ہونا تھاFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- یہ کس خلش نے پھر اس دل میں آشیانہ کیاپھر آج کس نے سخن ہم سے غائبانہ کیاFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- خدا وہ وقت نہ لائے کہ سوگوار ہو توسکوں کی نیند تجھے بھی حرام ہو جائےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- گزر رہے ہیں شب و روز تم نہیں آتیںریاض زیست ہے آزردۂ بہار ابھیFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاںچلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)