قریب کچھ نہ ملا دور سے دھواں دیکھا

Aal-e-Raza Raza (1896–1978)

قریب کچھ نہ ملا دور سے دھواں دیکھا

قفس سے چھوٹ کے کیا خوب آشیاں دیکھا

یہی ہے سیر فقیروں کی اور یہی فریاد

زمیں پہ بیٹھ گئے سوئے آسماں دیکھا

ہوئے تمام جو سجدے تھے دور کے آداب

یہاں سے اور ہے عالم کہ آستاں دیکھا

حصار کھینچ کے اپنے ہی دل کا بیٹھ رہے

زمانے بھر کو محبت سے بد گماں دیکھا

چمن چمن تری سیریں نظر بہار بہار

چٹک چٹک پڑے غنچے جہاں جہاں دیکھا

حریم ناز پہ وہ رنگ و نور کی بارش

حریم ناز میں کیا تھا یہ پھر کہاں دیکھا

رضاؔ نے دل کو سجا کر ترے تصور سے

جہان حسن میں اک حسن دو جہاں دیکھا