Poetry
Mutaqarib Musamman Salim
متقارب مثمن سالم- نہ صورت کہیں شادمانی کی دیکھیبہت سیر دنیائے فانی کی دیکھیHasrat Mohani (1875–1951)
- وہ چپ ہو گئے مجھ سے کیا کہتے کہتےکہ دل رہ گیا مدعا کہتے کہتےHasrat Mohani (1875–1951)
- ہمیں وقف غم سر بسر دیکھ لیتےوہ تم کچھ نہ کرتے مگر دیکھ لیتےHasrat Mohani (1875–1951)
- کہاں ہم کہاں وصل جاناں کی حسرتؔبہت ہے انہیں اک نظر دیکھ لیناHasrat Mohani (1875–1951)
- وفا تجھ سے اے بے وفا چاہتا ہوںمری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوںHasrat Mohani (1875–1951)
- عشق اور موتAllama Iqbal (1877–1938)
- نہ آتے، ہمیں اس میں تکرار کیا تھیمگر وعدہ کرتے ہوئے عار کیا تھیAllama Iqbal (1877–1938)
- ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوںمری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوںAllama Iqbal (1877–1938)
- دریوزہ خلافتAllama Iqbal (1877–1938)
- ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیںابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیںAllama Iqbal (1877–1938)
- طارق کی دعاAllama Iqbal (1877–1938)
- دین وسیاستAllama Iqbal (1877–1938)
- محبتAllama Iqbal (1877–1938)
- سنیماAllama Iqbal (1877–1938)
- پردہAllama Iqbal (1877–1938)
- دِگرگُوں جہاں اُن کے زورِ عمل سےبڑے معرکے زندہ قوموں نے مارےAllama Iqbal (1877–1938)
- کسی پر طبیعت کا آنا غضب ہےغضب ہے غضب دل لگانا غضب ہےFaheemuddin Ahmad Faheem (1877–1922)
- وہ پہلی سی چشم مروت نہیں ہےوہ اگلی سی مجھ پر عنایت نہیں ہےFaheemuddin Ahmad Faheem (1877–1922)
- زباں مدعا آشنا چاہتا ہوںدل اب زندگی سے خفا چاہتا ہوںFani Badayuni (1879–1941)
- نگاہوں میں اقرار سارے ہوئے ہیںہم ان کے ہوئے وہ ہمارے ہوئے ہیںAagha Akbarabadi (b. 1879)
- محبت میں کیا کیا نہ کچھ جور ہوگاابھی کیا ہوا ہے ابھی اور ہوگاKaifi Hyderabadi (1880–1920)
- لگاؤ نہ جب دل تو پھر کیوں لگاوٹنہیں مجھ کو بھاتی تمہاری بناوٹWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- جگنو اور بچہSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- زمانہ خدا کو خدا جانتا ہےیہی جانتا ہے تو کیا جانتا ہےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- سلامت رہیں دل میں گھر کرنے والےاس اجڑے مکاں میں بسر کرنے والےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- نہ رکتے ہیں آنسو نہ تھمتے ہیں نالےکہو کوئی کیسے محبت چھپا لےQamar Jalalvi (1887–1968)
- یہ رستے میں کس سے ملاقات کر لیکہاں رہ گئے تھے بڑی رات کر لیQamar Jalalvi (1887–1968)
- ذرا روٹھ جانے پہ اتنی خوشامدقمرؔ تم بگاڑو گے عادت کسی کیQamar Jalalvi (1887–1968)
- مجھے میرے مٹنے کا غم ہے تو یہ ہےتمہیں بے وفا کہہ رہا ہے زمانہQamar Jalalvi (1887–1968)
- برابر سے بچ کر گزر جانے والےیہ نالے نہیں بے اثر جانے والےJigar Moradabadi (1890–1960)
- محبت میں یہ کیا مقام آ رہے ہیںکہ منزل پہ ہیں اور چلے جا رہے ہیںJigar Moradabadi (1890–1960)
- نگاہوں کا مرکز بنا جا رہا ہوںمحبت کے ہاتھوں لٹا جا رہا ہوںJigar Moradabadi (1890–1960)
- حسیں تیری آنکھیں حسیں تیرے آنسویہیں ڈوب جانے کو جی چاہتا ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
- جو درد جگر میں کمی ہو تو جانوںقیامت اگر ملتوی ہو تو جانوںNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
- نظام طبیعت سے گھبرا گیا دلطبیعت کی اب برہمی چاہتا ہوںHadi Machlishahri (1890–1961)
- دکھا دل بھی ٹکڑے جگر ہوتے ہوتےادھر بھی اٹھا درد ادھر ہوتے ہوتےShad Lakhnavi (d. 1892)
- ذرا دیکھنا خاکساری ہماریملی خاک میں خاک ساری ہماریShad Lakhnavi (d. 1892)
- سنا ہم کو آتے جو اندر سے باہرپھرے الٹے پیروں باہر سے باہرShad Lakhnavi (d. 1892)
- نہ سوچا نہ سمجھا نہ سیکھا نہ جانامجھے آ گیا خود بہ خود دل لگاناQadeer Lakhnavi (1898–1969)
- اگر موج ہے بیچ دھارے چلا چلوگرنہ کنارے کنارے چلا چلHafeez Jalandhari (1900–1982)
- مجھے شاد رکھنا کہ ناشاد رکھنامرے دیدہ و دل کو آباد رکھناHafeez Jalandhari (1900–1982)
- وفاداریاں سخت نادانیاں ہیںکہ ان کے نتیجے پشیمانیاں ہیںHafeez Jalandhari (1900–1982)
- مری شاعری ہے نظاروں کی دنیایہ نغمہ سرا جوئباروں کی دنیاHafeez Jalandhari (1900–1982)
- مرے ڈوب جانے کا باعث نہ پوچھوکنارے سے ٹکرا گیا تھا سفینہHafeez Jalandhari (1900–1982)
- نظر لوٹ کر دل میں آئے تو کیا ہوجو دیکھا ہے دل میں دکھائے تو کیا ہوZaheen Shah Taji (1902–1978)
- نہ الفاظ پہنچیں نہ معنی وہاں تککہوں حسن کی حد کہاں سے کہاں تکZaheen Shah Taji (1902–1978)
- فلک سے ہوئے ہیں یہ پیہم اشارےزمیں سے نہیں دور یہ چاند تارےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- کسی در پہ جانے کو جی چاہتا ہےوفا آزمانے کو جی چاہتا ہےJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- محبت کی دنیا میں مشہور کر دوںمری سادہ دل تجھ کو مغرور کر دوںAkhtar Shirani (1905–1948)
- وہ کہتے ہیں رنجش کی باتیں بھلا دیںمحبت کریں خوش رہیں مسکرا دیںAkhtar Shirani (1905–1948)