پردہ

Allama Iqbal (1877–1938)

بہت رنگ بدلے سِپہرِ بریں نے

خدایا یہ دُنیا جہاں تھی، وہیں ہے

تفاوُت نہ دیکھا زن و شو میں مَیں نے

وہ خَلوت نشیں ہے، یہ خَلوت نشیں ہے

ابھی تک ہے پردے میں اولادِ آدم

کسی کی خودی آشکارا نہیں ہے