نہ سوچا نہ سمجھا نہ سیکھا نہ جانا
Qadeer Lakhnavi (1898–1969)نہ سوچا نہ سمجھا نہ سیکھا نہ جانا
مجھے آ گیا خود بہ خود دل لگانا
ذرا دیکھ کر اپنا جلوہ دکھانا
سمٹ کر کہیں آ نہ جائے زمانا
زباں پر لگی ہیں وفاؤں کی مہریں
خموشی مری کہہ رہی ہے فسانا
گلوں تک رسائی تو آساں ہے لیکن
ہے دشوار کانٹوں سے دامن بچانا
کرو لاکھ تم ماتم نوجوانی
قدیرؔ اب نہیں آئے گا گزرا زمانا