Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Ramal Musaddas Makhbun Mahzuf

رمل مسدس مخبون محذوف
Poet
Meter
Clear
  1. صحبت غیر موں جایا نہ کرودرد منداں کوں کڑھایا نہ کروWali Dakani (1667–1707)
  2. یا سجن ترک ملاقات کرویا ملو دو میں سے اک بات کروShah Mubarak Abru (1683–1733)
  3. بے سبب ہم سے جدائی نہ کرومجھ سے عاشق سے برائی نہ کروFaez Dehlvi (1690–1738)
  4. مستمنداں کو ستایا نہ کروبات کو ہم سے درایا نہ کروFaez Dehlvi (1690–1738)
  5. جس کو ہستی و عدم جانتے ہیںہے وہ کچھ اور ہی ہم جاتے ہیںQaem Chandpuri (1722–1793)
  6. کیوں کر اس بت سے رکھوں جان عزیز!کیا نہیں ہے مجھے ایمان عزیز!Mirza Ghalib (1797–1869)
  7. عشق تاثیر سے نومید نہیںجاں سپاری شجرِ بید نہیںMirza Ghalib (1797–1869)
  8. تیرے توسن کو صبا باندھتے ہیںہم بھی مضموں کی ہوا باندھتے ہیںMirza Ghalib (1797–1869)
  9. عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہیمیری وحشت تری شہرت ہی سہیMirza Ghalib (1797–1869)
  10. وہ کہاں ساتھ سلاتے ہیں مجھےخواب کیا کیا نظر آتے ہیں مجھےMomin Khan Momin (1800–1852)
  11. دل سے کہہ آہیں نہ ہر آن بھرےکچھ جگر ہو تو دم انسان بھرےPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
  12. زندگی مرگ کی مہلت ہی سہیبہر واماندہ اقامت ہی سہیQalaq Meerathi (1835–1880)
  13. دل میں ہیں وصل کے ارمان بہتجمع اس گھر میں ہیں مہمان بہتHafeez Jaunpuri (1868–1959)
  14. کچھ حساب اے ستم ایجاد تو کرکس قدر ظلم کئے یاد تو کرAziz Lakhnavi (1882–1935)
  15. اب بہت دور نہیں منزل دوستکعبے سے چند قدم اور سہیHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  16. تعارفMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  17. زندگی ایک اذیت ہے مجھےتجھ سے ملنے کی ضرورت ہے مجھےMeeraji (1912–1949)
  18. ہم کو منزل نے بھی گمراہ کیاراستے نکلے کئی منزل سےHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
  19. اب نہ پھیلاؤں گا میں دست سوالمیں نے دیکھا ہے کہ مجبور ہے توAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  20. اک سفینہ ہے تری یاد اگراک سمندر ہے مری تنہائیAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  21. آنکھ سے آنکھ ملاتا ہے کوئیدل کو کھینچے لیے جاتا ہے کوئیShakeel Badayuni (1916–1970)
  22. دل کے بہلانے کی تدبیر تو ہےتو نہیں ہے تری تصویر تو ہےShakeel Badayuni (1916–1970)
  23. بے پیے شیخ فرشتہ تھا مگرپی کے انسان ہوا جاتا ہےShakeel Badayuni (1916–1970)
  24. پھر تیری یاد دلاتے ہیں مجھےلوگ دانستہ ستاتے ہیں مجھےYadgar Husain Nashtar Khairabadi (1916–1964)
  25. اس سے پہلے کہ بچھڑ جائیں ہمدو قدم اور مرے ساتھ چلوNasir Kazmi (1925–1972)
  26. سفر منزل شب یاد نہیںلوگ رخصت ہوئے کب یاد نہیںNasir Kazmi (1925–1972)
  27. اس نے جب ہنس کے نمسکار کیامجھ کو انسان سے اوتار کیاHabib Jalib (1928–1993)
  28. کیا کرے قیدیٔ زندان خیالتاب آواز سلاسل نہ رہیGhalib Ahmad (b. 1928)
  29. لفظ سے جب نہ اٹھا بار خیالکیسے کیسے کیا اظہار خیالHafiz Taib (1931–2004)
  30. اک نئے دور کا آغاز ہوادر آشفتہ سری باز ہواDaud Ghazi (1932–1963)
  31. رات کا نام سویرا ہی سہیآپ کہتے ہیں تو ایسا ہی سہیHafeez Banarasi (1933–2008)
  32. تجھ کو اب کوئی شکایت تو نہیںیہ مگر ترک محبت تو نہیںParveen Fana Syed (1936–2010)
  33. مجھ کو تعلیم سے نفرت ہی سہیاور کھیلوں سے محبت ہی سہیKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
  34. پہلی جیسی ہی کشش آج بھی ہےکل جو تھی ان کی روش آج بھی ہےM. K. Asar (b. 1945)
  35. چار سو ہے بڑی وحشت کا سماںکسی آسیب کا سایہ ہے یہاںFahmida Riaz (1946–2018)
  36. دیکھنا چاہتا ہوں گم ہو کرکیا کوئی ڈھونڈ کے لاتا ہے مجھےVikas Sharma Raaz (b. 1973)
  37. روز یہ خواب ڈراتا ہے مجھےکوئی سایہ لیے جاتا ہے مجھےVikas Sharma Raaz (b. 1973)
  38. عشق بینائی بڑھا دیتا ہےجانے کیا کیا نظر آتا ہے مجھےVikas Sharma Raaz (b. 1973)
  39. دل سے اک یاد بھلا دی گئی ہےکسی غفلت کی سزا دی گئی ہےNadeem Bhabha (b. 1977)
  40. سر کو آواز سے وحشت ہی سہیاور وحشت میں اذیت ہی سہیAamir Suhail (b. 1977)
  41. تیرے پیاسوں کو سزا دی گئی ہےتشنگی اور بڑھا دی گئی ہےAadil Farhat (b. 1984)
  42. گھر ہے پتھر کا خدا خیر کرےاب مرے سر کا خدا خیر کرےOm Prakash Meghwanshi (b. 1991)
  43. اب وہ گلیاں وہ مکاں یاد نہیںکون رہتا تھا کہاں یاد نہیںAhmad Mushtaq
  44. نہ ہوئی صاف طبیعت ہی تو ہےرہ گئی دل میں کدورت ہی تو ہےمرزا آسمان جاہ انجم
  45. تم سے کچھ کہنے کو تھا بھول گیاہاے کیا بات تھی کیا بھول گیانظام رامپوری
  46. واں تو ملنے کا ارادہ ہی نہیںیاں وہ خواہش ہے کہ ہوتا ہی نہیںنظام رامپوری
  47. سوز سے ساز کیا چاہئے ابنے سے آواز کیا چاہئے ابکشن کمار وقار
  48. آج انکار نہ فرمائیے آپشب کی شب گھر مرے رہ جائیے آپرند لکھنوی
  49. چھپ کے گھر غیر کے جایا نہ کروربط ہر اک سے بڑھایا نہ کرورند لکھنوی
  50. اپنے قاصد کو صبا باندھتے ہیںسچ ہے شاعر بھی ہوا باندھتے ہیںسخی لکھنوی