Poetry
Ramal Musaddas Makhbun Mahzuf
رمل مسدس مخبون محذوف- صحبت غیر موں جایا نہ کرودرد منداں کوں کڑھایا نہ کروWali Dakani (1667–1707)
- یا سجن ترک ملاقات کرویا ملو دو میں سے اک بات کروShah Mubarak Abru (1683–1733)
- بے سبب ہم سے جدائی نہ کرومجھ سے عاشق سے برائی نہ کروFaez Dehlvi (1690–1738)
- مستمنداں کو ستایا نہ کروبات کو ہم سے درایا نہ کروFaez Dehlvi (1690–1738)
- جس کو ہستی و عدم جانتے ہیںہے وہ کچھ اور ہی ہم جاتے ہیںQaem Chandpuri (1722–1793)
- کیوں کر اس بت سے رکھوں جان عزیز!کیا نہیں ہے مجھے ایمان عزیز!Mirza Ghalib (1797–1869)
- عشق تاثیر سے نومید نہیںجاں سپاری شجرِ بید نہیںMirza Ghalib (1797–1869)
- تیرے توسن کو صبا باندھتے ہیںہم بھی مضموں کی ہوا باندھتے ہیںMirza Ghalib (1797–1869)
- عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہیمیری وحشت تری شہرت ہی سہیMirza Ghalib (1797–1869)
- وہ کہاں ساتھ سلاتے ہیں مجھےخواب کیا کیا نظر آتے ہیں مجھےMomin Khan Momin (1800–1852)
- دل سے کہہ آہیں نہ ہر آن بھرےکچھ جگر ہو تو دم انسان بھرےPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
- زندگی مرگ کی مہلت ہی سہیبہر واماندہ اقامت ہی سہیQalaq Meerathi (1835–1880)
- دل میں ہیں وصل کے ارمان بہتجمع اس گھر میں ہیں مہمان بہتHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- کچھ حساب اے ستم ایجاد تو کرکس قدر ظلم کئے یاد تو کرAziz Lakhnavi (1882–1935)
- اب بہت دور نہیں منزل دوستکعبے سے چند قدم اور سہیHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- تعارفMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- زندگی ایک اذیت ہے مجھےتجھ سے ملنے کی ضرورت ہے مجھےMeeraji (1912–1949)
- ہم کو منزل نے بھی گمراہ کیاراستے نکلے کئی منزل سےHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
- اب نہ پھیلاؤں گا میں دست سوالمیں نے دیکھا ہے کہ مجبور ہے توAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- اک سفینہ ہے تری یاد اگراک سمندر ہے مری تنہائیAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- آنکھ سے آنکھ ملاتا ہے کوئیدل کو کھینچے لیے جاتا ہے کوئیShakeel Badayuni (1916–1970)
- دل کے بہلانے کی تدبیر تو ہےتو نہیں ہے تری تصویر تو ہےShakeel Badayuni (1916–1970)
- بے پیے شیخ فرشتہ تھا مگرپی کے انسان ہوا جاتا ہےShakeel Badayuni (1916–1970)
- پھر تیری یاد دلاتے ہیں مجھےلوگ دانستہ ستاتے ہیں مجھےYadgar Husain Nashtar Khairabadi (1916–1964)
- اس سے پہلے کہ بچھڑ جائیں ہمدو قدم اور مرے ساتھ چلوNasir Kazmi (1925–1972)
- سفر منزل شب یاد نہیںلوگ رخصت ہوئے کب یاد نہیںNasir Kazmi (1925–1972)
- اس نے جب ہنس کے نمسکار کیامجھ کو انسان سے اوتار کیاHabib Jalib (1928–1993)
- کیا کرے قیدیٔ زندان خیالتاب آواز سلاسل نہ رہیGhalib Ahmad (b. 1928)
- لفظ سے جب نہ اٹھا بار خیالکیسے کیسے کیا اظہار خیالHafiz Taib (1931–2004)
- اک نئے دور کا آغاز ہوادر آشفتہ سری باز ہواDaud Ghazi (1932–1963)
- رات کا نام سویرا ہی سہیآپ کہتے ہیں تو ایسا ہی سہیHafeez Banarasi (1933–2008)
- تجھ کو اب کوئی شکایت تو نہیںیہ مگر ترک محبت تو نہیںParveen Fana Syed (1936–2010)
- مجھ کو تعلیم سے نفرت ہی سہیاور کھیلوں سے محبت ہی سہیKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
- پہلی جیسی ہی کشش آج بھی ہےکل جو تھی ان کی روش آج بھی ہےM. K. Asar (b. 1945)
- چار سو ہے بڑی وحشت کا سماںکسی آسیب کا سایہ ہے یہاںFahmida Riaz (1946–2018)
- دیکھنا چاہتا ہوں گم ہو کرکیا کوئی ڈھونڈ کے لاتا ہے مجھےVikas Sharma Raaz (b. 1973)
- روز یہ خواب ڈراتا ہے مجھےکوئی سایہ لیے جاتا ہے مجھےVikas Sharma Raaz (b. 1973)
- عشق بینائی بڑھا دیتا ہےجانے کیا کیا نظر آتا ہے مجھےVikas Sharma Raaz (b. 1973)
- دل سے اک یاد بھلا دی گئی ہےکسی غفلت کی سزا دی گئی ہےNadeem Bhabha (b. 1977)
- سر کو آواز سے وحشت ہی سہیاور وحشت میں اذیت ہی سہیAamir Suhail (b. 1977)
- تیرے پیاسوں کو سزا دی گئی ہےتشنگی اور بڑھا دی گئی ہےAadil Farhat (b. 1984)
- گھر ہے پتھر کا خدا خیر کرےاب مرے سر کا خدا خیر کرےOm Prakash Meghwanshi (b. 1991)
- اب وہ گلیاں وہ مکاں یاد نہیںکون رہتا تھا کہاں یاد نہیںAhmad Mushtaq
- نہ ہوئی صاف طبیعت ہی تو ہےرہ گئی دل میں کدورت ہی تو ہےمرزا آسمان جاہ انجم
- تم سے کچھ کہنے کو تھا بھول گیاہاے کیا بات تھی کیا بھول گیانظام رامپوری
- واں تو ملنے کا ارادہ ہی نہیںیاں وہ خواہش ہے کہ ہوتا ہی نہیںنظام رامپوری
- سوز سے ساز کیا چاہئے ابنے سے آواز کیا چاہئے ابکشن کمار وقار
- آج انکار نہ فرمائیے آپشب کی شب گھر مرے رہ جائیے آپرند لکھنوی
- چھپ کے گھر غیر کے جایا نہ کروربط ہر اک سے بڑھایا نہ کرورند لکھنوی
- اپنے قاصد کو صبا باندھتے ہیںسچ ہے شاعر بھی ہوا باندھتے ہیںسخی لکھنوی