Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Ramal Musamman Mashkul Musakkan

رمل مثمن مشکول مسکّن
Poet
Meter
Clear
  1. بھڑکے ہے دل کی آتش تجھ نیہ کی ہوا سوںشعلہ نمط جلا دل تجھ حسن شعلہ زا سوںWali Dakani (1667–1707)
  2. میں عاشقی میں تب سوں افسانہ ہو رہا ہوںتیری نگہ کا جب سوں دیوانہ ہو رہا ہوںWali Dakani (1667–1707)
  3. وہ نازنیں ادا میں اعجاز ہے سراپاخوبی میں گل رخاں سوں ممتاز ہے سراپاWali Dakani (1667–1707)
  4. عاشق بپت کے مارے روتے ہوئے جدھر جاںپانی سیں اس طرف کی راہیں تمام بھر جاںShah Mubarak Abru (1683–1733)
  5. کیا شوخ اچپلے ہیں تیرے نین ممولاجن کوں نرکھ جلے ہیں سب من ہرن ممولاShah Mubarak Abru (1683–1733)
  6. ہم نیں سجن سنا ہے اس شوخ کے دہاں ہےلیکن کبھو نہ دیکھا کیتا ہے اور کہاں ہےShah Mubarak Abru (1683–1733)
  7. خوباں کے بیچ جاناں ممتاز ہے سراپاانداز دلبری میں اعجاز ہے سراپاFaez Dehlvi (1690–1738)
  8. گفتم کہ مکھ ترا کیا گفتہ سرج سوں بہترگفتم کہ کان کا در گفتہ کہ بہہ ز اخترFaez Dehlvi (1690–1738)
  9. ہر آشنا سے اس بن بیگانہ ہو رہا ہوںمجلس میں شمع رو کی پروانہ ہو رہا ہوںFaez Dehlvi (1690–1738)
  10. تجھ پر فدا ہیں سارے حسن و جمال والےکیا صاف گال والے کیا خط و خال والےSiraj Aurangabadi (1712–1764)
  11. تجھ زلف کی شکن ہے مانند دام گویایا صبح پر ہماری آئی ہے شام گویاSiraj Aurangabadi (1712–1764)
  12. دل دار کی کشش نے اینچا ہے من ہماراہے خاک اس قدم کی شاید وطن ہماراSiraj Aurangabadi (1712–1764)
  13. یارب کہاں گیا ہے وو سرو شوخ رعناہے چوب خشک جس بن میری نظر میں طوبیٰSiraj Aurangabadi (1712–1764)
  14. باطل ہے ہم سے دعویٰ شاعر کو ہم سری کاچہرہ ترا سا کب ہے سلطان خاوری کاMirza Rafi Sauda (1713–1781)
  15. جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھےتب میں نے اپنے دل میں لاکھوں خیال باندھےMirza Rafi Sauda (1713–1781)
  16. کب دل شکست گاں سے کر عرض حال آیاہے بے صدا وہ چینی جس میں کہ بال آیاMirza Rafi Sauda (1713–1781)
  17. وے صورتیں الٰہی کس ملک بستیاں ہیںاب دیکھنے کو جن کے آنکھیں ترستیاں ہیںMirza Rafi Sauda (1713–1781)
  18. ساقی ہو اور چمن ہو مینا ہو اور ہم ہوںباراں ہو اور ہوا ہو سبزہ ہو اور ہم ہوںTaban Abdul Hai (1715–1749)
  19. ہے آرزو یہ جی میں اس کی گلی میں جاویںاور خاک اپنے سر پر من مانتی اڑاویںTaban Abdul Hai (1715–1749)
  20. شکوہ نہ بخت سے ہے نے آسماں سے مجھ کوپہنچی جو کچھ اذیت اپنے گماں سے مجھ کوQaem Chandpuri (1722–1793)
  21. قاصد کو دے نہ اے دل اس گل بدن کی پاتیچل خود ہی لے چلیں ہم اپنے سجن کی پاتیQaem Chandpuri (1722–1793)
  22. آئے ہیں میرؔ کافر ہو کر خدا کے گھر میںپیشانی پر ہے قشقہ زنار ہے کمر میںMir Taqi Mir (1723–1810)
  23. بند قبا کو خوباں جس وقت وا کریں گےخمیازہ کش جو ہوں گے ملنے کے کیا کریں گےMir Taqi Mir (1723–1810)
  24. بے یار شہر دل کا ویران ہو رہا ہےدکھلائی دے جہاں تک میدان ہو رہا ہےMir Taqi Mir (1723–1810)
  25. پائے خطاب کیا کیا دیکھے عتاب کیا کیادل کو لگا کے ہم نے کھینچے عذاب کیا کیاMir Taqi Mir (1723–1810)
  26. پیغام غم جگر کا گلزار تک نہ پہنچانالہ مرا چمن کی دیوار تک نہ پہنچاMir Taqi Mir (1723–1810)
  27. تلوار غرق خوں ہے آنکھیں گلابیاں ہیںدیکھیں تو تیری کب تک یہ بد شرابیاں ہیںMir Taqi Mir (1723–1810)
  28. تیرا رخ مخطط قرآن ہے ہمارابوسہ بھی لیں تو کیا ہے ایمان ہے ہماراMir Taqi Mir (1723–1810)
  29. جب رونے بیٹھتا ہوں تب کیا کسر رہے ہےرومال دو دو دن تک جوں ابر تر رہے ہےMir Taqi Mir (1723–1810)
  30. جب ہم کلام ہم سے ہوتا ہے پان کھا کرکس رنگ سے کرے ہے باتیں چبا چبا کرMir Taqi Mir (1723–1810)
  31. جنس گراں کو تجھ سے جو لوگ چاہتے ہیںوے روگ اپنے جی کو ناحق بساہتے ہیںMir Taqi Mir (1723–1810)
  32. چھاتی جلا کرے ہے سوز دروں بلا ہےاک آگ سی رہے ہے کیا جانیے کہ کیا ہےMir Taqi Mir (1723–1810)
  33. خنجر بکف وہ جب سے سفاک ہو گیا ہےملک ان ستم زدوں کا سب پاک ہو گیا ہےMir Taqi Mir (1723–1810)
  34. دامان کوہ میں جو میں ڈاڑھ مار رویااک ابر واں سے اٹھ کر بے اختیار رویاMir Taqi Mir (1723–1810)
  35. دامن وسیع تھا تو کاہے کو چشم ترسارحمت خدا کی تجھ کو اے ابر زور برساMir Taqi Mir (1723–1810)
  36. دعوے کو یار آگے معیوب کر چکے ہیںاس ریختے کو ورنہ ہم خوب کر چکے ہیںMir Taqi Mir (1723–1810)
  37. دیر و حرم سے گزرے اب دل ہے گھر ہماراہے ختم اس آبلے پر سیر و سفر ہماراMir Taqi Mir (1723–1810)
  38. ڈھونڈا نہ پائیے جو اس وقت میں سو زر ہےپھر چاہ جس کی مطلق ہے ہی نہیں ہنر ہےMir Taqi Mir (1723–1810)
  39. شکوہ کروں میں کب تک اس اپنے مہرباں کاالقصہ رفتہ رفتہ دشمن ہوا ہے جاں کاMir Taqi Mir (1723–1810)
  40. طاقت نہیں ہے جی میں نے اب جگر رہا ہےپھر دل ستم رسیدہ اک ظلم کر رہا ہےMir Taqi Mir (1723–1810)
  41. طاقت نہیں ہے دل میں نے جی بجا رہا ہےکیا ناز کر رہے ہو اب ہم میں کیا رہا ہےMir Taqi Mir (1723–1810)
  42. غیروں سے مل چلے تم مست شراب ہو کرغیرت سے رہ گئے ہم یکسو کباب ہو کرMir Taqi Mir (1723–1810)
  43. کب تک تو امتحاں میں مجھ سے جدا رہے گاجیتا ہوں تو تجھی میں یہ دل لگا رہے گاMir Taqi Mir (1723–1810)
  44. کب سے نظر لگی تھی دروازۂ حرم سےپردہ اٹھا تو لڑیاں آنکھیں ہماری ہم سےMir Taqi Mir (1723–1810)
  45. کس حسن سے کہوں میں اس کی خوش اختری کیاس ماہرو کے آگے کیا تاب مشتری کیMir Taqi Mir (1723–1810)
  46. کعبے میں جاں بہ لب تھے ہم دوریٔ بتاں سےآئے ہیں پھر کے یارو اب کے خدا کے ہاں سےMir Taqi Mir (1723–1810)
  47. کوئی ہوا نہ روکش ٹک میری چشم تر سےکیا کیا نہ ابر آ کر یاں زور زور برسےMir Taqi Mir (1723–1810)
  48. کیا کہیے کیا رکھیں ہیں ہم تجھ سے یار خواہشیک جان و صد تمنا، یک دل ہزار خواہشMir Taqi Mir (1723–1810)
  49. کیا لڑکے دلی کے ہیں عیار اور نٹ کھٹدل لیں ہیں یوں کہ ہرگز ہوتی نہیں ہے آہٹMir Taqi Mir (1723–1810)
  50. لخت جگر تو اپنے یک لخت رو چکا تھااشک فقط کا جھمکا آنکھوں سے لگ رہا تھاMir Taqi Mir (1723–1810)