Poetry
Ramal Musamman Makhbun Mahzuf Maqtu'
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع- مجھ سے پہلے تجھے جس شخص نے چاہا اس نےشاید اب بھی ترا غم دل سے لگا رکھا ہوAhmad Faraz (1931–2008)
- میں کہ دو روز کا مہمان ترے شہر میں تھااب چلا ہوں تو کوئی فیصلہ کر بھی نہ سکاAhmad Faraz (1931–2008)
- بند باہر سے مری ذات کا در ہے مجھ میںمیں نہیں خود میں یہ اک عام خبر ہے مجھ میںJaun Elia (1931–2002)
- تنگ آغوش میں آباد کروں گا تجھ کوہوں بہت شاد کہ ناشاد کروں گا تجھ کوJaun Elia (1931–2002)
- دل جو اک جائے تھی دنیا ہوئی آباد اس میںپہلے سنتے ہیں کہ رہتی تھی کوئی یاد اس میںJaun Elia (1931–2002)
- ہو کا عالم ہے یہاں نالہ گروں کے ہوتےشہر خاموش ہے شوریدہ سروں کے ہوتےJaun Elia (1931–2002)
- حادثے زیست کی توقیر بڑھا دیتے ہیںاے غم یار تجھے ہم تو دعا دیتے ہیںQabil Ajmeri (1931–1962)
- آندھیاں آتی ہیں اور پیڑ گرا کرتے ہیںحادثے یہ تو یہاں روز ہوا کرتے ہیںParkash Fikri (1931–2008)
- آنکھ پتھر کی طرح عکس سے خالی ہوگیخون ناحق کی مگر جسم پہ لالی ہوگیParkash Fikri (1931–2008)
- اب نہیں کوئی مرے دل کو دکھانے والایاد آتا ہے بہت روٹھ کے جانے والاDanish Aligarhi (b. 1931)
- تم نے جب زلف پریشاں کو سنوارا ہوگاصدقۂ حسن گھٹاؤں نے اتارا ہوگاDanish Aligarhi (b. 1931)
- جیسے اس بستی سے ناراض خدا لگتا ہےاپنا ہی گاؤں مجھے آج برا لگتا ہےDanish Aligarhi (b. 1931)
- خشک آنکھوں میں بہت ہیں ابھی آنسو باقیپھول سوکھے ہیں مگر ان میں ہے خوشبو باقیDanish Aligarhi (b. 1931)
- ذرے ذرے میں مہک پیار کی ڈالی جائےبو تعصب کی ہر اک دل سے نکالی جائےDanish Aligarhi (b. 1931)
- زندگی کر گئی طوفاں کے حوالے مجھ کواے اجل کشمکش غم سے چھڑا لے مجھ کوDanish Aligarhi (b. 1931)
- اب تو جگنو بھی نہیں راہ دکھانے والاشہر میں قید ہوا گاؤں سے آنے والاZafar Naseemi (b. 1931)
- اک نیا کرب مرے دل میں جنم لیتا ہےقافلہ درد کا کچھ دیر جو دم لیتا ہےHafiz Taib (1931–2004)
- اتنا ٹھہرا ہوا ماحول بدلنا پڑ جائےباہر اپنے ہی کناروں سے اچھلنا پڑ جائےZafar Iqbal (b. 1932)
- ایک ہی بار نہیں ہے وہ دوبارہ کم ہےمیں وہ دریا ہوں جسے اپنا کنارہ کم ہےZafar Iqbal (b. 1932)
- ایک ہی نقش ہے جتنا بھی جہاں رہ جائےآگ اڑتی پھرے ہر سو کہ دھواں رہ جائےZafar Iqbal (b. 1932)
- بھول بیٹھا تھا مگر یاد بھی خود میں نے کیاوہ محبت جسے برباد بھی خود میں نے کیاZafar Iqbal (b. 1932)
- پھر کوئی شکل نظر آنے لگی پانی پرسخت مشکل میں ہوں اس طرح کی آسانی پرZafar Iqbal (b. 1932)
- جیسی اب ہے اسی حالت میں نہیں رہ سکتامیں ہمیشہ تو محبت میں نہیں رہ سکتاZafar Iqbal (b. 1932)
- خوش بہت پھرتے ہیں وہ گھر میں تماشا کر کےکام نکلا تو ہے ان کا مجھے رسوا کر کےZafar Iqbal (b. 1932)
- کبھی اول نظر آنا کبھی آخر ہونااور وقفوں سے مرا غائب و حاضر ہوناZafar Iqbal (b. 1932)
- کچھ دنوں سے جو طبیعت مری یکسو کم ہےدل ہے بھر پور مگر آنکھ میں آنسو کم ہےZafar Iqbal (b. 1932)
- کچھ سبب ہی نہ بنے بات بڑھا دینے کاکھیل کھیلا ہوا یہ اس کو بھلا دینے کاZafar Iqbal (b. 1932)
- کفر سے یہ جو منور مری پیشانی ہےظاہر اس سے بھی مرا جذبۂ ایمانی ہےZafar Iqbal (b. 1932)
- لرزش پردۂ اظہار کا مطلب کیا ہےہے یہ دیوار تو دیوار کا مطلب کیا ہےZafar Iqbal (b. 1932)
- لہر کی طرح کنارے سے اچھل جانا ہےدیکھتے دیکھتے ہاتھوں سے نکل جانا ہےZafar Iqbal (b. 1932)
- یوں بھی ہوتا ہے کہ یک دم کوئی اچھا لگ جائےبات کچھ بھی نہ ہو اور دل میں تماشا لگ جائےZafar Iqbal (b. 1932)
- اب کے اس بزم میں کچھ اپنا پتہ بھی دیناپاؤں پر پاؤں جو رکھنا تو دبا بھی دیناZafar Iqbal (b. 1932)
- تجھ کو میری نہ مجھے تیری خبر جائے گیعید اب کے بھی دبے پاؤں گزر جائے گیZafar Iqbal (b. 1932)
- ایک چوراہے پہ سب لوگ چلے آتے ہیںایک چوراہے پہ ملتے ہیں گزر جاتے ہیںDaud Ghazi (1932–1963)
- شاہد دہر کی تصویر بنانے والےاپنی تصویر کی جانب بھی ذرا ایک نظرDaud Ghazi (1932–1963)
- کون جانے کہ یہ خورشید ہے نا خوب کہ خوبچاند اچھا کہ برا کون بتا سکتا ہےDaud Ghazi (1932–1963)
- میں بہت خوش ہوں کہ اس درجہ ملی دولت غماتنی دولت کہ گنی جائے نہ رکھی جائےDaud Ghazi (1932–1963)
- کیوں نہ اب دیکھ لیں ہم بے سر و ساماں ہو کرزندگی کیسے گزرتی ہے پریشاں ہو کرVaqar Siddiqui (b. 1932)
- اپنے مرکز پہ نہ پورا ہوا چکر میرااجنبی ہاتھ بدلتے رہے محور میراPartav Rohila (1932–2016)
- میں جو صحرا میں کسی پیڑ کا سایا ہوتادل زدہ کوئی گھڑی بھر کو تو ٹھہرا ہوتاPartav Rohila (1932–2016)
- وہ نہ پہچانے یہ خدشہ سا لگتا رہتا ہےرخ پہ اس کے نیا چہرہ سا لگا رہتا ہےPartav Rohila (1932–2016)
- رات کی رات بہت دیکھ لی دنیا تیریصبح ہونے کو ہے اب طرزؔ کو سو جانے دےGanesh Bihari Tarz (1932–2008)
- تھم گئے اشک بھی برسے ہوئے بادل کی طرحدل کی بیتابی وہی آج بھی ہے کل کی طرحJ. P. Saeed (b. 1932)
- آئنہ تھا تو جو چہرہ تھا مرا اپنا تھامجھ میں جو عکس بھی اترا تھا مرا اپنا تھاKaifi Wijdani (b. 1932)
- خود سے ملنے کے لیے خود سے گزر کر آیاکس قدر سخت مہم تھی کہ جو سر کر آیاKaifi Wijdani (b. 1932)
- پیار میں زیست مجھے راس کہاں آئی ہےمیرے حصے میں فقط آہ و فغاں آئی ہےHafeez Banarasi (1933–2008)
- دل کی آواز میں آواز ملاتے رہیےجاگتے رہیے زمانے کو جگاتے رہیےHafeez Banarasi (1933–2008)
- کوئی بتلائے کہ یہ طرفہ تماشا کیوں ہےآدمی بھیڑ میں رہتے ہوئے تنہا کیوں ہےHafeez Banarasi (1933–2008)
- عشق میں معرکۂ قلب و نظر کیا کہئےچوٹ لگتی ہے کہیں درد کہیں ہوتا ہےHafeez Banarasi (1933–2008)
- انس تو ہوتا ہے دیوانے سے دیوانے کوکوئی اپنا کے دکھائے کبھی انجانے کوIbrat Bahraichi (1933–2021)