Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Ramal Musamman Makhbun Mahzuf Maqtu'

رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
Poet
Meter
Clear
  1. دیکھیے اہل محبت ہمیں کیا دیتے ہیںکوچۂ یار میں ہم کب سے صدا دیتے ہیںTabish Dehlvi (1911–2004)
  2. اے نئے سال بتا تجھ میں نیاپن کیا ہےہر طرف خلق نے کیوں شور مچا رکھا ہےFaiz Ludhianvi (1911–1995)
  3. لب جوئے بارےMeeraji (1912–1949)
  4. راز سر بستہ محبت کے زباں تک پہنچےبات بڑھ کر یہ خدا جانے کہاں تک پہنچےHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
  5. غم آفاق ہے رسوا غم دلبر بن کےتہمت عشق لگی ہم پہ سخن ور بن کےHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
  6. جلوہ بے باک ادا شوخ تماشا گستاخاٹھ گئے بزم سے آداب نظر میرے بعدHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
  7. رفتہ رفتہ دل بے تاب ٹھہر جائے گارفتہ رفتہ تری نظروں کا اثر جائے گاUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
  8. ہر قدم پر مجھے لغزش کا گماں ہوتا ہےچشم ساقی کی نوازش کا گماں ہوتا ہےUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
  9. چشم بد مست کو پھر شیوۂ دلداری دےدل آوارہ کو پیغام گرفتاری دےAli Sardar Jafri (1913–2000)
  10. شاخ گل ہے کہ یہ تلوار کھنچی ہے یاروباغ میں کیسی ہوا آج چلی ہے یاروAli Sardar Jafri (1913–2000)
  11. میں جہاں تم کو بلاتا ہوں وہاں تک آؤمیری نظروں سے گزر کر دل و جاں تک آؤAli Sardar Jafri (1913–2000)
  12. وہ مری دوست وہ ہمدرد وہ غم خوار آنکھیںایک معصوم محبت کی گنہ گار آنکھیںAli Sardar Jafri (1913–2000)
  13. ہم جو محفل میں تری سینہ فگار آتے ہیںرنگ‌ بر دوش گلستاں بہ کنار آتے ہیںAli Sardar Jafri (1913–2000)
  14. اب بھی روشن ہیں وہی دست حنا آلودہریگ صحرا ہے نہ قدموں کے نشاں باقی ہیںAli Sardar Jafri (1913–2000)
  15. اس پہ بھولے ہو کہ ہر دل کو کچل ڈالا ہےاس پہ بھولے ہو کہ ہر گل کو مسل ڈالا ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
  16. میرے دروازے سے اب چاند کو رخصت کر دوساتھ آیا ہے تمہارے جو تمہارے گھر سےAli Sardar Jafri (1913–2000)
  17. ناسزا عالم امکاں میں سزا لگتا ہےناروا بھی کسی موقع پہ روا لگتا ہےEjaz Siddiqi (1913–1978)
  18. نہ سیو ہونٹ نہ خوابوں میں صدا دو ہم کومصلحت کا یہ تقاضا ہے بھلا دو ہم کوEhsan Danish (1914–1982)
  19. جب لگیں زخم تو قاتل کو دعا دی جائےہے یہی رسم تو یہ رسم اٹھا دی جائےJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  20. حوصلہ کھو نہ دیا تیری نہیں سے ہم نےکتنی شکنوں کو چنا تیری جبیں سے ہم نےJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  21. خود بہ خود مے ہے کہ شیشے میں بھری آوے ہےکس بلا کی تمہیں جادو نظری آوے ہےJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  22. رنج و غم مانگے ہے اندوہ و بلا مانگے ہےدل وہ مجرم ہے کہ خود اپنی سزا مانگے ہےJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  23. زندگی تجھ کو بھلایا ہے بہت دن ہم نےوقت خوابوں میں گنوایا ہے بہت دن ہم نےJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  24. لوگ کہتے ہیں کہ تو اب بھی خفا ہے مجھ سےتیری آنکھوں نے تو کچھ اور کہا ہے مجھ سےJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  25. موج گل موج صبا موج سحر لگتی ہےسر سے پا تک وہ سماں ہے کہ نظر لگتی ہےJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  26. ہم سے بھاگا نہ کرو دور غزالوں کی طرحہم نے چاہا ہے تمہیں چاہنے والوں کی طرحJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  27. ہم نے کاٹی ہیں تری یاد میں راتیں اکثردل سے گزری ہیں ستاروں کی براتیں اکثرJan Nisar Akhtar (1914–1976)
  28. اب تو زیبا نہیں اے رند گلہ بھی تیراجام ساقی نے سر بزم بھرا بھی تیراBahzad Fatami (b. 1914)
  29. ہم نشیں کچھ تو علاج دل شیدا کر دےزندگی کو نہ مری نذر تماشا کر دےBahzad Fatami (b. 1914)
  30. ایسے ہی بیٹھے ادھر بھیا تھے دائیں جانبان کے نزدیک بڑی آپا شبانہ کو لیےAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  31. دور برگد کی گھنی چھاؤں میں خاموش و ملولجس جگہ رات کے تاریک کفن کے نیچےAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  32. رات سناٹے کی چادر میں پڑی ہے لپٹیپتیاں سڑکوں کی سب جاگ رہی ہیں جیسےAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  33. میرے شانوں پہ ترا سر تھا نگاہیں نمناکاب تو اک یاد سی باقی ہے سو وہ بھی کیا ہےAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
  34. فیض معمور فضاؤں سے لپٹ کر رو لیںپھر مدینے کی ہواؤں سے لپٹ کر رو لیںTahniyatunnisa Begam Tahniyat (b. 1915)
  35. آخری بار اندھیرے کے پجاری سن لیںمیں سحر ہوں میں اجالا ہوں حقیقت ہوں میںAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  36. اب تو شہروں سے خبر آتی ہے دیوانوں کیکوئی پہچان ہی باقی نہیں ویرانوں کیAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  37. اپنے ماحول سے تھے قیس کے رشتے کیا کیادشت میں آج بھی اٹھتے ہیں بگولے کیا کیاAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  38. اتنے بیدار زمانے میں یہ سازش بھری راتمیری تاریخ کے سینے پہ اتر آئی تھیAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  39. اک محبت کے عوض ارض و سما دے دوں گاتجھ سے کافر کو تو میں اپنا خدا دے دوں گاAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  40. تجھے کھو کر بھی تجھے پاؤں جہاں تک دیکھوںحسن یزداں سے تجھے حسن بتاں تک دیکھوںAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  41. تنگ آ جاتے ہیں دریا جو کہستانوں میںسانس لینے کو نکل جاتے ہیں میدانوں میںAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  42. تو جو بدلا تو زمانہ بھی بدل جائے گاگھر جو سلگا تو بھرا شہر بھی جل جائے گاAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  43. تیری محفل بھی مداوا نہیں تنہائی کاکتنا چرچا تھا تری انجمن آرائی کاAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  44. جب ترا حکم ملا ترک محبت کر دیدل مگر اس پہ وہ دھڑکا کہ قیامت کر دیAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  45. کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گامیں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گاAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  46. گل ترا رنگ چرا لائے ہیں گلزاروں میںجل رہا ہوں بھری برسات کی بوچھاروں میںAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  47. میری محدود بصارت کا نتیجہ نکلاآسماں میرے تصور سے بھی ہلکا نکلاAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  48. میں کسی شخص سے بیزار نہیں ہو سکتاایک ذرہ بھی تو بیکار نہیں ہو سکتاAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  49. ہم کبھی عشق کو وحشت نہیں بننے دیتےدل کی تہذیب کو تہمت نہیں بننے دیتےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
  50. ایک رقاصہ تھی کس کس سے اشارے کرتیآنکھیں پتھرائی اداؤں میں توازن نہ رہاAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)