Poetry
Ramal Musamman Makhbun Mahzuf Maqtu'
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع- دیکھیے اہل محبت ہمیں کیا دیتے ہیںکوچۂ یار میں ہم کب سے صدا دیتے ہیںTabish Dehlvi (1911–2004)
- اے نئے سال بتا تجھ میں نیاپن کیا ہےہر طرف خلق نے کیوں شور مچا رکھا ہےFaiz Ludhianvi (1911–1995)
- لب جوئے بارےMeeraji (1912–1949)
- راز سر بستہ محبت کے زباں تک پہنچےبات بڑھ کر یہ خدا جانے کہاں تک پہنچےHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
- غم آفاق ہے رسوا غم دلبر بن کےتہمت عشق لگی ہم پہ سخن ور بن کےHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
- جلوہ بے باک ادا شوخ تماشا گستاخاٹھ گئے بزم سے آداب نظر میرے بعدHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
- رفتہ رفتہ دل بے تاب ٹھہر جائے گارفتہ رفتہ تری نظروں کا اثر جائے گاUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
- ہر قدم پر مجھے لغزش کا گماں ہوتا ہےچشم ساقی کی نوازش کا گماں ہوتا ہےUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
- چشم بد مست کو پھر شیوۂ دلداری دےدل آوارہ کو پیغام گرفتاری دےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- شاخ گل ہے کہ یہ تلوار کھنچی ہے یاروباغ میں کیسی ہوا آج چلی ہے یاروAli Sardar Jafri (1913–2000)
- میں جہاں تم کو بلاتا ہوں وہاں تک آؤمیری نظروں سے گزر کر دل و جاں تک آؤAli Sardar Jafri (1913–2000)
- وہ مری دوست وہ ہمدرد وہ غم خوار آنکھیںایک معصوم محبت کی گنہ گار آنکھیںAli Sardar Jafri (1913–2000)
- ہم جو محفل میں تری سینہ فگار آتے ہیںرنگ بر دوش گلستاں بہ کنار آتے ہیںAli Sardar Jafri (1913–2000)
- اب بھی روشن ہیں وہی دست حنا آلودہریگ صحرا ہے نہ قدموں کے نشاں باقی ہیںAli Sardar Jafri (1913–2000)
- اس پہ بھولے ہو کہ ہر دل کو کچل ڈالا ہےاس پہ بھولے ہو کہ ہر گل کو مسل ڈالا ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- میرے دروازے سے اب چاند کو رخصت کر دوساتھ آیا ہے تمہارے جو تمہارے گھر سےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- ناسزا عالم امکاں میں سزا لگتا ہےناروا بھی کسی موقع پہ روا لگتا ہےEjaz Siddiqi (1913–1978)
- نہ سیو ہونٹ نہ خوابوں میں صدا دو ہم کومصلحت کا یہ تقاضا ہے بھلا دو ہم کوEhsan Danish (1914–1982)
- جب لگیں زخم تو قاتل کو دعا دی جائےہے یہی رسم تو یہ رسم اٹھا دی جائےJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- حوصلہ کھو نہ دیا تیری نہیں سے ہم نےکتنی شکنوں کو چنا تیری جبیں سے ہم نےJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- خود بہ خود مے ہے کہ شیشے میں بھری آوے ہےکس بلا کی تمہیں جادو نظری آوے ہےJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- رنج و غم مانگے ہے اندوہ و بلا مانگے ہےدل وہ مجرم ہے کہ خود اپنی سزا مانگے ہےJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- زندگی تجھ کو بھلایا ہے بہت دن ہم نےوقت خوابوں میں گنوایا ہے بہت دن ہم نےJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- لوگ کہتے ہیں کہ تو اب بھی خفا ہے مجھ سےتیری آنکھوں نے تو کچھ اور کہا ہے مجھ سےJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- موج گل موج صبا موج سحر لگتی ہےسر سے پا تک وہ سماں ہے کہ نظر لگتی ہےJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- ہم سے بھاگا نہ کرو دور غزالوں کی طرحہم نے چاہا ہے تمہیں چاہنے والوں کی طرحJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- ہم نے کاٹی ہیں تری یاد میں راتیں اکثردل سے گزری ہیں ستاروں کی براتیں اکثرJan Nisar Akhtar (1914–1976)
- اب تو زیبا نہیں اے رند گلہ بھی تیراجام ساقی نے سر بزم بھرا بھی تیراBahzad Fatami (b. 1914)
- ہم نشیں کچھ تو علاج دل شیدا کر دےزندگی کو نہ مری نذر تماشا کر دےBahzad Fatami (b. 1914)
- ایسے ہی بیٹھے ادھر بھیا تھے دائیں جانبان کے نزدیک بڑی آپا شبانہ کو لیےAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
- دور برگد کی گھنی چھاؤں میں خاموش و ملولجس جگہ رات کے تاریک کفن کے نیچےAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
- رات سناٹے کی چادر میں پڑی ہے لپٹیپتیاں سڑکوں کی سب جاگ رہی ہیں جیسےAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
- میرے شانوں پہ ترا سر تھا نگاہیں نمناکاب تو اک یاد سی باقی ہے سو وہ بھی کیا ہےAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
- فیض معمور فضاؤں سے لپٹ کر رو لیںپھر مدینے کی ہواؤں سے لپٹ کر رو لیںTahniyatunnisa Begam Tahniyat (b. 1915)
- آخری بار اندھیرے کے پجاری سن لیںمیں سحر ہوں میں اجالا ہوں حقیقت ہوں میںAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- اب تو شہروں سے خبر آتی ہے دیوانوں کیکوئی پہچان ہی باقی نہیں ویرانوں کیAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- اپنے ماحول سے تھے قیس کے رشتے کیا کیادشت میں آج بھی اٹھتے ہیں بگولے کیا کیاAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- اتنے بیدار زمانے میں یہ سازش بھری راتمیری تاریخ کے سینے پہ اتر آئی تھیAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- اک محبت کے عوض ارض و سما دے دوں گاتجھ سے کافر کو تو میں اپنا خدا دے دوں گاAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- تجھے کھو کر بھی تجھے پاؤں جہاں تک دیکھوںحسن یزداں سے تجھے حسن بتاں تک دیکھوںAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- تنگ آ جاتے ہیں دریا جو کہستانوں میںسانس لینے کو نکل جاتے ہیں میدانوں میںAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- تو جو بدلا تو زمانہ بھی بدل جائے گاگھر جو سلگا تو بھرا شہر بھی جل جائے گاAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- تیری محفل بھی مداوا نہیں تنہائی کاکتنا چرچا تھا تری انجمن آرائی کاAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- جب ترا حکم ملا ترک محبت کر دیدل مگر اس پہ وہ دھڑکا کہ قیامت کر دیAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گامیں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گاAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- گل ترا رنگ چرا لائے ہیں گلزاروں میںجل رہا ہوں بھری برسات کی بوچھاروں میںAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- میری محدود بصارت کا نتیجہ نکلاآسماں میرے تصور سے بھی ہلکا نکلاAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- میں کسی شخص سے بیزار نہیں ہو سکتاایک ذرہ بھی تو بیکار نہیں ہو سکتاAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- ہم کبھی عشق کو وحشت نہیں بننے دیتےدل کی تہذیب کو تہمت نہیں بننے دیتےAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)
- ایک رقاصہ تھی کس کس سے اشارے کرتیآنکھیں پتھرائی اداؤں میں توازن نہ رہاAhmad Nadeem Qasmi (1916–2006)