Poetry
Khafif Musaddas Makhbun Mahzuf Maqtu'
خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع- عشق معشوق کا ہے پیدائیعاشقی نے یہ شکل دکھلائیPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- ہوئے بے خود تو بے خودی آئیخود شناسی ہوئی خود آرائیPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- مجھ کو اپنی خودی سے نفرت ہےاپنی ہستی سے ہی عداوت ہےMaharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)
- تیری رنگت بہار سے نکلیپھوٹ کر لالہ زار سے نکلیMuztar Khairabadi (1865–1927)
- حوصلہ امتحان سے نکلاجان کا کام جان سے نکلاMuztar Khairabadi (1865–1927)
- رخ کسی کا نظر نہیں آتاکوئی آتا نظر نہیں آتاMuztar Khairabadi (1865–1927)
- عمر کاٹی بتوں کی آڑوں میںبن کے پتھر رہا پہاڑوں میںMuztar Khairabadi (1865–1927)
- فصل گل بھی ترس کے کاٹی ہےعمر کانٹوں میں بس کے کاٹی ہےMuztar Khairabadi (1865–1927)
- بن ترے کیا کروں جہاں لے کریہ زمیں اور یہ آسماں لے کرJaleel Manikpuri (1866–1946)
- چال ایسی وہ شوخ چلتا ہےحشر کا جس پہ دم نکلتا ہےJaleel Manikpuri (1866–1946)
- حسن میں آفت جہاں تو ہےچال میں خنجر رواں تو ہےJaleel Manikpuri (1866–1946)
- دل گیا دل لگی نہیں جاتیروتے روتے ہنسی نہیں جاتیJaleel Manikpuri (1866–1946)
- دل ہے اپنا نہ اب جگر اپناکر گئی کام وہ نظر اپناJaleel Manikpuri (1866–1946)
- سخت نازک مزاج دلبر تھاخیر گزری کہ دل بھی پتھر تھاJaleel Manikpuri (1866–1946)
- عشق اب میری جان ہے گویاجان اب میہمان ہے گویاJaleel Manikpuri (1866–1946)
- غیر الفت کا راز کیا جانےلطف ناز و نیاز کیا جانےJaleel Manikpuri (1866–1946)
- ہاں جسے عاشقی نہیں آتیلذت زندگی نہیں آتیJaleel Manikpuri (1866–1946)
- دل پر اس کاکل رسا کی چوٹقہر کی چوٹ ہے بلا کی چوٹJaleel Manikpuri (1866–1946)
- وقت پر آتے ہیں نہ جاتے ہیںروز اقرار بھول جاتے ہیںParveen Umm-e-Mushtaq (b. 1866)
- آپ ہی سے نہ جب رہا مطلبپھر رقیبوں سے مجھ کو کیا مطلبHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- منہ مرا ایک ایک تکتا تھااس کی محفل میں میں تماشا تھاHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- وہ حسیں بام پر نہیں آتاچاند اپنا نظر نہیں آتاHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- حال میرا بھی جائے عبرت ہےاب سفارش رقیب کرتے ہیںHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- آج بے آپ ہو گئے ہم بھیآپ کو پا کے کھو گئے ہم بھیArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- دل مکدر ہے آئینہ رو کانہ ملا رنگ سے پتا بو کاArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- وہ سر بام کب نہیں آتاجب میں ہوتا ہوں تب نہیں آتاArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- دیکھیں محشر میں ان سے کیا ٹھہرےتھے وہی بت وہی خدا ٹھہرےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- کلکتہZafar Ali Khan (1873–1956)
- آپ نے قدر کچھ نہ کی دل کیاڑ گئی مفت میں ہنسی دل کیHasrat Mohani (1875–1951)
- چھپ کے اس نے جو خود نمائی کیانتہا تھی یہ دل ربائی کیHasrat Mohani (1875–1951)
- روگ دل کو لگا گئیں آنکھیںاک تماشا دکھا گئیں آنکھیںHasrat Mohani (1875–1951)
- دل لیا جان لی نہیں جاتیآپ کی دل لگی نہیں جاتیBedam Warsi (1876–1936)
- ایک گائے اور بکریAllama Iqbal (1877–1938)
- عقل و دلAllama Iqbal (1877–1938)
- سیر فلکAllama Iqbal (1877–1938)
- شیخ مکتب سےAllama Iqbal (1877–1938)
- رات مچھّر نے کہہ دیا مجھ سےماجرا اپنی ناتمامی کاAllama Iqbal (1877–1938)
- تیرے انداز و ناز میں کیا ہےلطف راز و نیاز میں کیا ہےFaheemuddin Ahmad Faheem (1877–1922)
- فتنۂ روزگار کی باتیںایسی ہیں جیسے یار کی باتیںChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
- ہندی ہندوستانیChandar Bhan Kaifi Dehelvi (1878–1941)
- یوں تو کیا کیا نظر نہیں آتاکوئی تم سا نظر نہیں آتاAmjad Hyderabadi (1878–1961)
- آنکھ اٹھائی ہی تھی کہ کھائی چوٹبچ گئی آنکھ دل پہ آئی چوٹFani Badayuni (1879–1941)
- جذب دل جب بروئے کار آیاہر نفس سے پیام یار آیاFani Badayuni (1879–1941)
- قصۂ زیست مختصر کرتےکچھ تو اپنی سی چارہ گر کرتےFani Badayuni (1879–1941)
- قطرہ دریائے آشنائی ہےکیا تری شان کبریائی ہےFani Badayuni (1879–1941)
- کیا چھپاتے کسی سے حال اپناجی ہی جب ہو گیا نڈھال اپناFani Badayuni (1879–1941)
- مایۂ ناز راز ہیں ہم لوگمحرم راز ناز ہیں ہم لوگFani Badayuni (1879–1941)
- مجھ پہ رکھتے ہیں حشر میں الزامآ نہ جائے زباں پہ تیرا نامFani Badayuni (1879–1941)
- جا لڑی یار سے ہماری آنکھدیکھو کر بیٹھی فوجداری آنکھAagha Akbarabadi (b. 1879)
- آہ شب نالۂ سحر لے کرنکلے ہم توشۂ سفر لے کرWahshat Kalkatvi (1881–1956)