Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آپ سے آپ عیاں شاہد معنی ہوگاایک دن گردش افلاک سے یہ بھی ہوگاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  2. آپ میں کیونکر رہے کوئی یہ ساماں دیکھ کرشمع عصمت کو بھری محفل میں عریاں دیکھ کرYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  3. آنکھ دکھلانے لگا ہے وہ فسوں ساز مجھےکہیں اب خاک نہ چھنوائے یہ انداز مجھےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  4. آہ بیمار کارگر نہ ہوئیچرخ کانپا مگر سحر نہ ہوئیYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  5. اپنی ہستی خود ہم آغوش فنا ہو جائے گیموج دریا آب ساحل آشنا ہو جائے گیYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  6. اداسی چھا گئی چہرے پہ شمع محفل کےنسیم صبح سے شعلے بھڑک اٹھے دل کےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  7. ادب نے دل کے تقاضے اٹھائے ہیں کیا کیاہوس نے شوق کے پہلو دبائے ہیں کیا کیاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  8. اگر اپنی چشم نم پر مجھے اختیار ہوتاتو بھلا یہ راز الفت کبھی آشکار ہوتاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  9. برگشتہ اور وہ بت بے پیر ہو نہ جائےالٹی کہیں دعاؤں کی تاثیر ہو نہ جائےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  10. بیٹھا ہوں پاؤں توڑ کے تدبیر دیکھنامنزل قدم سے لپٹی ہے تقدیر دیکھناYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  11. پالا امید و بیم سے ناگاہ پڑ گیادل کا بنا بنایا گھروندا اجڑ گیاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  12. پچھلے کو اٹھ کھڑا نہ ہو درد جگر کہیںپہنچے نہ اڑتے اڑتے کہیں سے خبر کہیںYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  13. ٹھوکریں کھلوائیں کیا کیا پائے بے زنجیر نےگردش تقدیر نے جولانی تدبیر نےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  14. جب تک خلش درد خدا داد رہے گیدنیا دل ناشاد کی آباد رہے گیYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  15. جب حسن بے مثال پر اتنا غرور تھاآئینہ دیکھنا تمہیں پھر کیا ضرور تھاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  16. جو دل نہیں رکھتا کوئی مشکل نہیں رکھتامشکل نہیں رکھتا کوئی جو دل نہیں رکھتاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  17. چراغ زیست بجھا دل سے اک دھواں نکلالگا کے آگ مرے گھر سے میہماں نکلاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  18. چلتا نہیں فریب کسی عذر خواہ کادل ہے بغل میں یا کوئی دفتر گناہ کاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  19. چلے چلو جہاں لے جائے ولولہ دل کادلیل راہ محبت ہے فیصلہ دل کاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  20. حسن پر فرعون کی پھبتی کہیہاتھ لانا یار کیوں کیسی کہیYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  21. خدا کی مار وہ ایام شور و شر گزرےوہ جن سوار تھا سر پر کہ سر سے در گزرےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  22. خدا معلوم کیسا سحر تھا اس بت کی چتون میںچلے جاتی ہیں اب تک چشمکیں شیخ و برہمن میںYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  23. خداؤں کی خدائی ہو چکی بسخدارا بس دہائی ہو چکی بسYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  24. خزاں کے جور سے واقف کوئی بہار نہ ہوکسی کا پیرہن حسن تار تار نہ ہوYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  25. خودی کا نشہ چڑھا آپ میں رہا نہ گیاخدا بنے تھے یگانہؔ مگر بنا نہ گیاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  26. دامن قاتل جو اڑ اڑ کر ہوا دینے لگےکیا بتاؤں زخم دل کیا کیا دعا دینے لگےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  27. درد دل روئیں کس امید پہ بیگانے سےصبح ہونے کی نہیں یاس اس افسانے سےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  28. دل بے تاب کو کب وصل کا یارا ہوتاشادیٔ دولت دیدار نے مارا ہوتاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  29. دل عجب جلوۂ امید دکھاتا ہے مجھےشام سے یاسؔ سویرا نظر آتا ہے مجھےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  30. دل لگانے کی جگہ عالم ایجاد نہیںخواب آنکھوں نے بہت دیکھے مگر یاد نہیںYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  31. دنیا کا چلن ترک کیا بھی نہیں جاتااس جادۂ باطل سے پھرا بھی نہیں جاتاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  32. دیتی ہے وحشت دل پھر مجھے تعبیر بہارجلوہ گر خواب میں رہنے لگی تصویر بہارYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  33. دیتی ہے وحشت دل فصل بہاراں کی خبراب کہاں وحشیوں کو جیب و گریباں کی خبرYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  34. روشن تمام کعبہ و بت خانہ ہو گیاگھر گھر جمال یار کا افسانہ ہو گیاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  35. رہے دنیا میں محکوم دل بے مدعا ہو کرخوشا انجام اٹھے بھی تو محروم دعا ہو کرYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  36. زمانہ خدا کو خدا جانتا ہےیہی جانتا ہے تو کیا جانتا ہےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  37. زمانے پر نہ سہی دل پہ اختیار رہےدکھا وہ زور کہ دنیا میں یادگار رہےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  38. سایہ اگر نصیب ہو دیوار یار کاکیا مرتبہ بلند ہو اپنے مزار کاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  39. سلامت رہیں دل میں گھر کرنے والےاس اجڑے مکاں میں بسر کرنے والےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  40. سلسلہ چھڑ گیا جب یاسؔ کے افسانے کاشمع گل ہو گئی دل بجھ گیا پروانے کاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  41. شکوۂ درد جگر اے مہرباں کیوں کر کریںآپ سن کیوں کر سکیں اور ہم بیاں کیوں کر کریںYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  42. غضب کی دھوم شبستان روزگار میں ہےکشش بلا کی تماشائے ناگوار میں ہےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  43. فکر انجام نہ آغاز کا کچھ ہوش رہاچار دن تک تو جوانی کا عجب جوش رہاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  44. قصہ کتاب عمر کا کیا مختصر ہوارخ داستان غم کا ادھر سے ادھر ہواYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  45. قفس کو جانتے ہیں یاسؔ آشیاں اپنامکان اپنا زمین اپنی آسماں اپناYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  46. قفس نصیبوں کو تڑپا گئی ہوائے بہارچھری سی دل پہ چلی جب چلی ہوائے بہارYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  47. قیامت ہے شب وعدہ کا اتنا مختصر ہونافلک کا شام سے دست و گریبان سحر ہوناYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  48. کارگاہ دنیا کی نیستی بھی ہستی ہےاک طرف اجڑتی ہے ایک سمت بستی ہےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  49. کام دیوانوں کو شہروں سے نہ بازاروں سےمست ہیں عالم ایجاد کے نظاروں سےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  50. کچھ زرد زرد پتے نشاں جو خزاں کے ہیںنیرنگ دل فریب یہ سب آسماں کے ہیںYaas Yagana Changezi (1884–1956)