Poetry
- آپ جو کچھ قرار کرتے ہیںکہئے ہم اعتبار کرتے ہیںQaem Chandpuri (1722–1793)
- آتش تب نے کی ہے تاب شروعتو بھی کر دیدۂ پر آب شروعQaem Chandpuri (1722–1793)
- آج آپ مرے حال پہ کرتے ہیں تأسفاشفاق عنایات کرم مہر تلطفQaem Chandpuri (1722–1793)
- آج جی میں ہے کہ کھل کر مے پرستی کیجئےخوب سی مے پیجئے اور دیر مستی کیجئےQaem Chandpuri (1722–1793)
- آگے کچھ اس کے ذکر دل زار مت کروسب خیریت ہے اس سے کچھ اظہار مت کروQaem Chandpuri (1722–1793)
- آوے خزاں چمن کی طرف گر میں رو کروںغنچہ کرے گلوں کو صبا گر میں بو کروںQaem Chandpuri (1722–1793)
- آؤ کچھ شغل کریں بیٹھے ہیں عریاں اتنےپھاڑیں سینہ ہی گو ہاتھ آئے گریباں اتنےQaem Chandpuri (1722–1793)
- اب تو نے گل نہ گلستاں ہے یاداسی مکھڑے کی ہر زماں ہے یادQaem Chandpuri (1722–1793)
- اب کے جو یہاں سے جائیں گے ہمپھر تجھ کو نہ منہ دکھائیں گے ہمQaem Chandpuri (1722–1793)
- اٹھ جائے گر یہ بیچ سے پردہ حجاب کادریا ہی پھر تو نام ہے ہر اک حباب کاQaem Chandpuri (1722–1793)
- اس کو نہ رات کہہ تو نہ اس کو بتا غلطکیا جانے کیا سہی ہے واقع میں کیا غلطQaem Chandpuri (1722–1793)
- اک ڈھب پہ کبھو وہ بت خودکام نہ پایادیکھا میں جو کچھ صبح اسے شام نہ پایاQaem Chandpuri (1722–1793)
- ایک جاگہ پہ نہیں ہے مجھے آرام کہیںہے عجب حال مرا صبح کہیں شام کہیںQaem Chandpuri (1722–1793)
- بے شغل نہ زندگی بسر کرگر اشک نہیں تو آہ سر کرQaem Chandpuri (1722–1793)
- پاس اخلاص سخت ہے تکلیفتاکجا خاطر وضیع و شریفQaem Chandpuri (1722–1793)
- پڑھ کے قاصد خط مرا اس بد زباں نے کیا کہاکیا کہا پھر کہہ بت نامہرباں نے کیا کہاQaem Chandpuri (1722–1793)
- پھر کے جو وہ شوخ نظر کر گیاتیر سا کچھ دل سے گزر کر گیاQaem Chandpuri (1722–1793)
- پھوٹی بھلی وہ آنکھ جو آنسو سے تر نہیںکس کام ہے وہ سیپ کہ جس میں گہر نہیںQaem Chandpuri (1722–1793)
- تا چند سخن سازئ نیرنگ خراباتیاں قصد خرابی ہے نہ آہنگ خراباتQaem Chandpuri (1722–1793)
- ترک وفا گرچہ صداقت نہیںپر یہ ستم سہنے کی طاقت نہیںQaem Chandpuri (1722–1793)
- تیری زباں سے خستہ کوئی زار ہے کوئیپیارے یہ نحو و صرف یہ گفتار ہے کوئیQaem Chandpuri (1722–1793)
- ٹک تو خاموش رکھو منہ میں زباں سنتے ہواپنی ہی کہتے ہو میری بھی میاں سنتے ہوQaem Chandpuri (1722–1793)
- جاتے ہی ہو گر خواہ نخواہفبہا بہتر بسم اللہQaem Chandpuri (1722–1793)
- جس کو ہستی و عدم جانتے ہیںہے وہ کچھ اور ہی ہم جاتے ہیںQaem Chandpuri (1722–1793)
- جو کوئی در پہ ترے بیٹھے ہیںدونوں عالم سے پھرے بیٹھے ہیںQaem Chandpuri (1722–1793)
- جوں شمع دم صبح میں یاں سے سفری ہوںٹک منتظر جنبش باد سحری ہوںQaem Chandpuri (1722–1793)
- جوں عبرت کور جلوہ گر ہوںالبتہ کچھ ہوں میں پر کدھر ہوںQaem Chandpuri (1722–1793)
- جہاں کو وہ لب مے گوں خراب رکھتے ہیںخدا خبر کہ یہ کیسی شراب رکھتے ہیںQaem Chandpuri (1722–1793)
- جیا بہ کام کب اس بخت ارجمند سے میںپھنسا قفس میں جو چھوٹا چمن کے بند سے میںQaem Chandpuri (1722–1793)
- جی تلک آتش ہجراں میں سنبھالا نہ گیاگھر میں سب کچھ تھا پہ ہم سے تو نکالا نہ گیاQaem Chandpuri (1722–1793)
- جی میں چہلیں تھیں جو کچھ سو تو گئیں یار کے ساتھسر پٹکنا ہی پڑا اب در و دیوار کے ساتھQaem Chandpuri (1722–1793)
- چاہیں ہیں یہ ہم بھی کہ رہے پاک محبتپر جس میں یہ دوری ہو وہ کیا خاک محبتQaem Chandpuri (1722–1793)
- چھوڑ ماوائے ذقن زلف پریشاں میں پھنسامثل یوسف میں نکل چاہ سے زنداں میں پھنساQaem Chandpuri (1722–1793)
- خط کے آتے ہی وہ مکھڑے کی صفائی کیا ہوئیوہ منش کیدھر گئے وہ میرزائی کیا ہوئیQaem Chandpuri (1722–1793)
- دل پا کے اس کی زلف میں آرام رہ گیادرویش جس جگہ کہ ہوئی شام رہ گیاQaem Chandpuri (1722–1793)
- دل مرا دیکھ دیکھ جلتا ہےشمع کا کس پہ دل پگھلتا ہےQaem Chandpuri (1722–1793)
- دل میں اپنے نہیں کوئی جز یارلیس فی الدار غیرہ دیارQaem Chandpuri (1722–1793)
- دن رات کس کی یاد تھی کیسا ملال تھاصدقے میں کچھ تو بول تو کیا تجھ پہ حال تھاQaem Chandpuri (1722–1793)
- دن ہی ملئے گا یا شب آئیے گابندہ خانہ میں پھر کب آئیے گاQaem Chandpuri (1722–1793)
- دیکھا کبھو نہ اس دل ناشاد کی طرفکرتا رہا تو اپنی ہی بیداد کی طرفQaem Chandpuri (1722–1793)
- دیکھا ہے آج راہ میں ہم اک حریر پوشپر یار کچھ نہ پوچھ کہ کیا چھب چہ بر چہ دوشQaem Chandpuri (1722–1793)
- رہنے دے شب اپنے پاس مجھ کواوروں سا نہ کر قیاس مجھ کوQaem Chandpuri (1722–1793)
- زاہد در مسجد پہ خرابات کی تو نےجی بھی یوں ہی چاہے تھا کرامات کی تو نےQaem Chandpuri (1722–1793)
- شب جو دل بیقرار تھا کیا تھاکسی کا انتظار تھا کیا تھاQaem Chandpuri (1722–1793)
- شب کس سے یہ ہم جدا رہے ہیںتا صبح نپٹ خفا رہے ہیںQaem Chandpuri (1722–1793)
- شکوہ نہ بخت سے ہے نے آسماں سے مجھ کوپہنچی جو کچھ اذیت اپنے گماں سے مجھ کوQaem Chandpuri (1722–1793)
- صحرا پہ گر جنوں مجھے لاوے عتاب میںکھینچوں ہر ایک خار کو پائے حساب میںQaem Chandpuri (1722–1793)
- عبث ہیں ناصحا ہم سے ز خود رفتوں کی تدبیریںرکے ہے بحر کب گو موج سے ہوں لاکھ زنجیریںQaem Chandpuri (1722–1793)
- قاصد کو دے نہ اے دل اس گل بدن کی پاتیچل خود ہی لے چلیں ہم اپنے سجن کی پاتیQaem Chandpuri (1722–1793)
- قتل پہ تیرے مجھے کد چاہئےخوب ہے یہ اپنے کا بد چاہئےQaem Chandpuri (1722–1793)