Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آندھیاں آتی ہیں اور پیڑ گرا کرتے ہیںحادثے یہ تو یہاں روز ہوا کرتے ہیںParkash Fikri (1931–2008)
  2. آنکھ پتھر کی طرح عکس سے خالی ہوگیخون ناحق کی مگر جسم پہ لالی ہوگیParkash Fikri (1931–2008)
  3. پتھر کی ہتھیلی پہ کوئی پھول اگا دےذروں کی تب و تاب سے سورج کو جلا دےParkash Fikri (1931–2008)
  4. پہاڑوں سے اترتی شام کی بے چارگی دیکھیںدرختوں پر لرز کر بجھ رہی ہیں آخری کرنیںParkash Fikri (1931–2008)
  5. جس کا بدن گلاب تھا وہ یار بھی نہیںاب کے برس بہار کے آثار بھی نہیںParkash Fikri (1931–2008)
  6. جھوٹی حقیقتوں کی طرح لوگ مر گئےلیکن دلوں پہ نقش وہ تصویر کر گئےParkash Fikri (1931–2008)
  7. چاندی جیسی جھلمل مچھلی پانی پگھلے نیلم ساشاخیں جس پر جھکی ہوئی ہیں دریا بہتے سرگم ساParkash Fikri (1931–2008)
  8. دشمنی کی اس ہوا کو تیز ہونا چاہئےاس کی کشتی کو سر ساحل ڈبونا چاہئےParkash Fikri (1931–2008)
  9. رفتہ رفتہ سب مناظر کھو گئے اچھا ہواشور کرتے تھے پرندے سو گئے اچھا ہواParkash Fikri (1931–2008)
  10. رنگین خواب آس کے نقشے جلا بھی دےجاں پہ بنی ہے روشنی اس کو بجھا بھی دےParkash Fikri (1931–2008)
  11. زرد پیڑوں پہ شام ہے گریاںجی اداسی کے دشت میں حیراںParkash Fikri (1931–2008)
  12. شبنم بھیگی گھاس پہ چلنا کتنا اچھا لگتا ہےپاؤں تلے جو موتی بکھریں جھلمل رستہ لگتا ہےParkash Fikri (1931–2008)
  13. عجیب رت ہے درختوں کو بے زباں دیکھوںدیار شام میں آہوں کا میں دھواں دیکھوںParkash Fikri (1931–2008)
  14. کالی راتوں میں فصیل درد اونچی ہو گئیاندھی گلیوں میں خموشی لاش بن کے سو گئیParkash Fikri (1931–2008)
  15. کسی کا نقش اندھیرے میں جب ابھر آیااداس چہرہ شب درد کا نکھر آیاParkash Fikri (1931–2008)
  16. کل لہکتی چاندنی نے اور بھی تنہا کیامیں اندھیرے بند کمرے میں پڑا رویا کیاParkash Fikri (1931–2008)
  17. مرے آنگن میں پیلی دھوپ جب دیوار سے اتریاندھیرے کی سیہ چادر نہ جانے اور کیوں پھیلیParkash Fikri (1931–2008)
  18. وہ رابطے بھی انوکھے جو دوریاں برتیںوہ قربتیں بھی نرالی جو لمس کو ترسیںParkash Fikri (1931–2008)
  19. ہوا سے اجڑ کر بکھر کیوں گئےوہ پتے جو سرسبز شاخوں پہ تھےParkash Fikri (1931–2008)
  20. ہوا سے زرد پتے گر رہے ہیںکتابوں کے ورق بکھرے پڑے ہیںParkash Fikri (1931–2008)
  21. یہ جو جگنو ہیں یا ستارے ہیںہم میں روشن ہیں یہ ہمارے ہیںParkash Fikri (1931–2008)
  22. جدھر دیکھو لہو بکھرا ہوا ہےنشانہ کون گولی کا بنا ہےParkash Fikri (1931–2008)
  23. لرزاں ہے کسی خوف سے جو شام کا چہرہآنکھوں میں کوئی خواب پرونے نہیں دیتاParkash Fikri (1931–2008)
  24. مجھے تو یوں بھی اسی راہ سے گزرنا تھادل تباہ کا کچھ تو علاج کرنا تھاParkash Fikri (1931–2008)
  25. مردہ پڑے تھے لوگ گھروں کی پناہ میںدریا وفور غیظ سے بپھرا تھا چار سوParkash Fikri (1931–2008)
  26. یوں تو اپنوں سا کچھ نہیں اس میںپھر بھی غیروں سے وہ الگ سا ہےParkash Fikri (1931–2008)