Poetry
- آندھی چلی تو نقش کف پا نہیں ملادل جس سے مل گیا وہ دوبارا نہیں ملاMustafa Zaidi (1930–1970)
- اب جی حدود سود و زیاں سے گزر گیااچھا وہی رہا جو جوانی میں مر گیاMustafa Zaidi (1930–1970)
- اس قدر اب غم دوراں کی فراوانی ہےتو بھی منجملۂ اسباب پریشانی ہےMustafa Zaidi (1930–1970)
- بجھ گئی شمع حرم باب کلیسا نہ کھلاکھل گئے زخم کے لب تیرا دریچہ نہ کھلاMustafa Zaidi (1930–1970)
- بزرگو، ناصحو، فرماں رواؤہمیں تو مے کدے تک چھوڑ آؤMustafa Zaidi (1930–1970)
- بیٹھا ہوں سیہ بخت و مکدر اسی گھر میںاترا تھا مرا ماہ منور اسی گھر میںMustafa Zaidi (1930–1970)
- تری تلاش میں ہر رہنما سے باتیں کیںخلا سے ربط بڑھایا ہوا سے باتیں کیںMustafa Zaidi (1930–1970)
- تیرے چہرے کی طرح اور مرے سینے کی طرحمیرا ہر شعر دمکتا ہے نگینے کی طرحMustafa Zaidi (1930–1970)
- جب ہوا شب کو بدلتی ہوئی پہلو آئیمدتوں اپنے بدن سے تری خوشبو آئیMustafa Zaidi (1930–1970)
- جس دن سے اپنا طرز فقیرانہ چھٹ گیاشاہی تو مل گئی دل شاہانہ چھٹ گیاMustafa Zaidi (1930–1970)
- چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہہم اس کے پاس جاتے ہیں مگر آہستہ آہستہMustafa Zaidi (1930–1970)
- درد دل بھی غم دوراں کے برابر سے اٹھاآگ صحرا میں لگی اور دھواں گھر سے اٹھاMustafa Zaidi (1930–1970)
- روکتا ہے غم اظہار سے پندار مجھےمیرے اشکوں سے چھپا لے مرے رخسار مجھےMustafa Zaidi (1930–1970)
- زبان غیر سے کیا شرح آرزو کرتےوہ خود اگر کہیں ملتا تو گفتگو کرتےMustafa Zaidi (1930–1970)
- سحر جیتے گی یا شام غریباں دیکھتے رہنایہ سر جھکتے ہیں یا دیوار زنداں دیکھتے رہناMustafa Zaidi (1930–1970)
- غم دوراں نے بھی سیکھے غم جاناں کے چلنوہی سوچی ہوئی چالیں وہی بے ساختہ پنMustafa Zaidi (1930–1970)
- فن کار خود نہ تھی مرے فن کی شریک تھیوہ روح کے سفر میں بدن کی شریک تھیMustafa Zaidi (1930–1970)
- قدم قدم پہ تمنائے التفات تو دیکھزوال عشق میں سوداگروں کا ہات تو دیکھMustafa Zaidi (1930–1970)
- کبھی جھڑکی سے کبھی پیار سے سمجھاتے رہےہم گئی رات پہ دل کو لیے بہلاتے رہےMustafa Zaidi (1930–1970)
- کسی اور غم میں اتنی خلش نہاں نہیں ہےغم دل مرے رفیقو غم رائگاں نہیں ہےMustafa Zaidi (1930–1970)
- کسی تو کام زمانے کے سوگوار آئےتجھے جو پا نہ سکے زیست کو سنوار آئےMustafa Zaidi (1930–1970)
- کف مومن سے نہ دروازۂ دوراں سے ملارشتۂ درد اسی دشمن ایماں سے ملاMustafa Zaidi (1930–1970)
- کوئی رفیق بہم ہی نہ ہو تو کیا کیجےکبھی کبھی ترا غم ہی نہ ہو تو کیا کیجےMustafa Zaidi (1930–1970)
- کیا کیا نظر کو شوق ہوس دیکھنے میں تھادیکھا تو ہر جمال اسی آئینے میں تھاMustafa Zaidi (1930–1970)
- گریہ تو اکثر رہا پیہم رہاپھر بھی دل کے بوجھ سے کچھ کم رہاMustafa Zaidi (1930–1970)
- لوگوں کی ملامت بھی ہے خود درد سری بھیکس کام کی یہ اپنی وسیع النظری بھیMustafa Zaidi (1930–1970)
- نگر نگر میلے کو گئے کون سنے گا تیری پکاراے دل اے دیوانے دل! دیواروں سے سر دے مارMustafa Zaidi (1930–1970)
- وہ عہد عہد ہی کیا ہے جسے نبھاؤ بھیہمارے وعدۂ الفت کو بھول جاؤ بھیMustafa Zaidi (1930–1970)
- ہوئی ایجاد نئی طرز خوشامد کہ نہیںکل کا آئین ہے اب تک سر مسند کہ نہیںMustafa Zaidi (1930–1970)
- یوں تو وہ ہر کسی سے ملتی ہےہم سے اپنی خوشی سے ملتی ہےMustafa Zaidi (1930–1970)
- اس کو کرنوں نے دی ہے تابانیاس کو مہتاب نے سنوارا ہےMustafa Zaidi (1930–1970)
- اس کے چہرے کا عکس پڑتا ہےاس کی باتیں شروع ہوتی ہیںMustafa Zaidi (1930–1970)
- اللہ اللہ یہ لرزش مژگاںجھٹپٹے کا ہے طرفہ راز و نیازMustafa Zaidi (1930–1970)
- سن کے لوگوں کے زہر سے فقرےدیکھ کر اپنے گھر کی بربادیMustafa Zaidi (1930–1970)
- صرف کہہ دوں کہ ناؤ ڈوب گئییا بتاؤں کہ کیسے ڈوبی تھیMustafa Zaidi (1930–1970)
- کاش ہم لوگ لڑ گئے ہوتےآپ کی دوستی کا رونا ہےMustafa Zaidi (1930–1970)
- مجھ کو چپ چاپ اس طرح مت دیکھمیرے بستر کی سلوٹیں مت کھولMustafa Zaidi (1930–1970)
- مدتوں کور نگاہی دل کینور عرفاں کو ترستی رہتیMustafa Zaidi (1930–1970)
- میری آنکھوں میں نیند چبھتی ہےمیرے سینے میں جاگتے ہیں الاؤMustafa Zaidi (1930–1970)
- وقت کے ساتھ لوگ کہتے تھےزخم دل بھی تمہارے ہوں گے دورMustafa Zaidi (1930–1970)
- یوں تو اکثر خیال آتا تھامیں جو ہوں اس سے ماسوا بن جاؤںMustafa Zaidi (1930–1970)
- بزدلMustafa Zaidi (1930–1970)
- وفا کیسی؟Mustafa Zaidi (1930–1970)
- آخری بار ملو ایسے کہ جلتے ہوئے دلراکھ ہو جائیں کوئی اور تقاضہ نہ کریںMustafa Zaidi (1930–1970)
- ہم لوگMustafa Zaidi (1930–1970)
- مری پتھر آنکھیںMustafa Zaidi (1930–1970)
- تعمیرMustafa Zaidi (1930–1970)
- فرہادMustafa Zaidi (1930–1970)
- ماہ و سالMustafa Zaidi (1930–1970)
- سیاہ لہوMustafa Zaidi (1930–1970)