Poetry
- آخر کو راہ عشق میں ہم سر کے بل گئےمشکل میں ہاتھ پاؤں ہمارے نکل گئےMunir Shikohabadi (1814–1880)
- آمد تصور بت بیداد گر کی ہےدل کی بھی لوٹ خانہ خرابی جگر کی ہےMunir Shikohabadi (1814–1880)
- آنکھیں خدا نے بخشی ہیں رونے کے واسطےدو کشتیاں ملی ہیں ڈبونے کے واسطےMunir Shikohabadi (1814–1880)
- آئینہ کے عکس سے گل سا بدن میلا ہواصبح کے پرتو سے رنگ یاسمن میلا ہواMunir Shikohabadi (1814–1880)
- ابرو کی تیری ضرب دو دستی چلی گئیجتنی کسائی سیف یہ کستی چلی گئیMunir Shikohabadi (1814–1880)
- اثر کر کے آہ رسا پھر گئیہوا صاف مطلع ہوا پھر گئیMunir Shikohabadi (1814–1880)
- اور مجھ سا جان دینے کا تمنائی نہیںاس کا شیدائی ہوں جس کا کوئی شیدائی نہیںMunir Shikohabadi (1814–1880)
- ایسی ہوئی سرسبز شکایت کی کڑی باتسبزے کی طرح کان میں اس گل کی پڑی باتMunir Shikohabadi (1814–1880)
- اے بت جو شب ہجر میں دل تھام نہ لیتےکلمہ میں بھی ہوتا تو ترا نام نہ لیتےMunir Shikohabadi (1814–1880)
- بتوں کے گھر کی طرف کعبہ کے سفر سے پھرےہزار شکر کہ جیتے خدا کے گھر سے پھرےMunir Shikohabadi (1814–1880)
- پہنچا ہے اس کے پاس یہ آئینہ ٹوٹ کےکس سے ملا ہے شیشۂ دل ہم سے پھوٹ کےMunir Shikohabadi (1814–1880)
- پیچ فقرے پر کیا جاتا نہیںکوئی دھاگا دو بٹا جاتا نہیںMunir Shikohabadi (1814–1880)
- ترچھی نظر سے دیکھیے تلوار چل گئیزخم جگر کی راہ سے حسرت نکل گئیMunir Shikohabadi (1814–1880)
- تصویر زلف و عارض گلفام لے گیامرغان قدس کے لئے گل دام لے گیاMunir Shikohabadi (1814–1880)
- تمہارے گھر سے پس مرگ کس کے گھر جاتابتاؤ آپ سے جاتا تو میں کدھر جاتاMunir Shikohabadi (1814–1880)
- تیرے ہاتھوں سے مٹے گا نقش ہستی ایک دنباڑھ رکھ دے گی چھری پر تیز دستی ایک دنMunir Shikohabadi (1814–1880)
- ثابت رہا فلک مرے نالوں کے سامنےٹھہری سپر حباب کے بھالوں کے سامنےMunir Shikohabadi (1814–1880)
- جب ہم بغل وہ سرو قبا پوش ہو گیاقمری کا طوق حلقۂ آغوش ہو گیاMunir Shikohabadi (1814–1880)
- جدائی کے صدموں کو ٹالے ہوئے ہیںچلے جاؤ ہم دل سنبھالے ہوئے ہیںMunir Shikohabadi (1814–1880)
- جلسوں میں گزرنے لگی پھر رات تمہاریاس بھیڑ میں جاتی نہ رہے بات تمہاریMunir Shikohabadi (1814–1880)
- جو ذوق ہے کہ ہو دریافت آبروئے شرابتو چشم جام سے اے شیخ دیکھ سوئے شرابMunir Shikohabadi (1814–1880)
- حال پوشیدہ کھلا سامان عبرت دیکھ کرپڑھ لیا قسمت کا لکھا لوح تربت دیکھ کرMunir Shikohabadi (1814–1880)
- حلقہ حلقہ گھر بنا لخت دل بیتاب کازلف جاناں میں ہے عالم سبحۂ سیماب کاMunir Shikohabadi (1814–1880)
- خاکساری سے جو غافل دل غماز ہواخاک کے پردے میں پوشیدہ مرا راز ہواMunir Shikohabadi (1814–1880)
- خوبان فسوں گر سے ہم الجھا نہیں کرتےجادو گروں کی زلف میں لٹکا نہیں کرتےMunir Shikohabadi (1814–1880)
- دشمن کی ملامت بلا ہےیہ موم کا سانپ کاٹتا ہےMunir Shikohabadi (1814–1880)
- دل تو پژمردہ ہے داغ گلستاں ہوں تو کیاآنکھیں روتی ہیں دہان زخم خنداں ہوں تو کیاMunir Shikohabadi (1814–1880)
- راہ کر کے اس بت گمراہ نے دھوکا دیاگر پڑے اندھے کنوئیں میں چاہ نے دھوکا دیاMunir Shikohabadi (1814–1880)
- راہ میں صورت نقش کف پا رہتا ہوںہر گھڑی بننے بگڑنے کو پڑا رہتا ہوںMunir Shikohabadi (1814–1880)
- روز دلہائے مے کشاں ٹوٹےاے خدا جام آسماں ٹوٹےMunir Shikohabadi (1814–1880)
- زخمی نہ بھول جائیں مزے دل کی ٹیس کےللہ چھڑکے جاؤ نمک پیس پیس کےMunir Shikohabadi (1814–1880)
- سبزہ تمہارے رخ کے لئے تنگ ہو گیاطوطی کا عکس آئنے میں زنگ ہو گیاMunir Shikohabadi (1814–1880)
- سخت جانی کا سہی افسانہ ہےشاہد تیغ زباں دندانہ ہےMunir Shikohabadi (1814–1880)
- شب کے ہیں ماہ مہر ہیں دن کےروپ دیکھے بتان کمسن کےMunir Shikohabadi (1814–1880)
- عمر باقی راہ جاناں میں بسر ہونے کو ہےآج اپنی سخت جانی سنگ در ہونے کو ہےMunir Shikohabadi (1814–1880)
- غم سہتے ہیں پر غمزۂ بے جا نہیں اٹھتامرتے ہیں مگر ناز مسیحا نہیں اٹھتاMunir Shikohabadi (1814–1880)
- فصل بہار آئی ہے پیمانہ چاہئےبلبل کے ساتھ نعرۂ مستانہ چاہئےMunir Shikohabadi (1814–1880)
- قیدی ہوں سر زلف گرہ گیر سے پہلےپابند ہوں پیدائش زنجیر سے پہلےMunir Shikohabadi (1814–1880)
- کچھ نہیں حاصل سپر کو چیر کو یا تلوار توڑہے اگر طاقت تو میرے آنسوؤں کا تار توڑMunir Shikohabadi (1814–1880)
- کرتا ہے باغ دہر میں نیرنگیاں بسنتآیا ہے لاکھ رنگ سے اے باغباں بسنتMunir Shikohabadi (1814–1880)
- کیوں کر شکار حسن نہ کھیلیں یہاں کے لوگپریوں کو پھانس لیتے ہیں ہندوستاں کے لوگMunir Shikohabadi (1814–1880)
- میری شمع انجمن میں گل ہے گل میں خاک ہےداغ سینہ کے چمن میں گل ہے گل میں خاک ہےMunir Shikohabadi (1814–1880)
- میں روتا ہوں آہ رسا بند ہےبرستا ہے پانی ہوا بند ہےMunir Shikohabadi (1814–1880)
- نشہ میں سہواً کر لی توبہایسی بھولی الٰہی توبہMunir Shikohabadi (1814–1880)
- وہ زلف ہوا سے مجھے برہم نظر آئیاڑتی ہوئی ناگن قد آدم نظر آئیMunir Shikohabadi (1814–1880)
- ہاتھ ملواتی ہیں حوروں کو تمہاری چوڑیاںپیاری پیاری ہے کلائی پیاری پیاری چوڑیاںMunir Shikohabadi (1814–1880)
- ہماری روح جو تیری گلی میں آئی ہےاجل کے صدقے میں یہ راہ دیکھ پائی ہےMunir Shikohabadi (1814–1880)
- ہے عید لاؤ مے لالہ فام اٹھ اٹھ کرگلے لگاتے ہیں شیشوں کو جام اٹھ اٹھ کرMunir Shikohabadi (1814–1880)
- اپنے آقا کی ہر گھڑی یاد میں ہوںہر وقت منیرؔ آہ و فریاد میں ہوںMunir Shikohabadi (1814–1880)
- بے فائدہ رکھتا نہیں سر ہاتھوں پرسر پر جو ہے ہاتھ اس میں ہے لطف دگرMunir Shikohabadi (1814–1880)