Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آب و دانہ ترا اے بلبل زار اٹھتا ہےفصل گل جاتی ہے سامان بہار اٹھتا ہےمبارک عظیم آبادی
  2. اب کون بات رہ گئی یہ بات بھی گئییعنی کبھی کبھی کی ملاقات بھی گئیمبارک عظیم آبادی
  3. بدظن ہیں اہل کعبہ مجھ دیر آشنا سےکہتے ہیں مجھ کو کافر فریاد ہے خدا سےمبارک عظیم آبادی
  4. بغل میں ہم نے رات اک غیرت مہتاب دیکھا ہےتمہیں اس خواب کی تعبیر ہو کیا خواب دیکھا ہےمبارک عظیم آبادی
  5. بکھری ہوئی ہے یوں مری وحشت کی داستاںدامن کدھر کدھر ہے گریباں کہاں کہاںمبارک عظیم آبادی
  6. پردے پردے میں بہت مجھ پہ ترے وار چلےصاف اب حلق پہ خنجر چلے تلوار چلےمبارک عظیم آبادی
  7. پوچھی تقصیر تو بولے کوئی تقصیر نہیںہاتھ جوڑے تو کہا یہ کوئی تعزیر نہیںمبارک عظیم آبادی
  8. پھر ملے ہم ان سے پھر یاری بڑھیاور الجھا دل گرفتاری بڑھیمبارک عظیم آبادی
  9. تازہ آزار کا ارمان کہاں جاتا ہےپھر ستا لے ترے قربان کہاں جاتا ہےمبارک عظیم آبادی
  10. تم وقت پہ کر جاتے ہو پیمان فراموشیہ بھول نہیں ہوتی مری جان فراموشمبارک عظیم آبادی
  11. تمہاری شرط محبت کبھی وفا نہ ہوئییہ کیا ہوئی تمہیں کہہ دو اگر جفا نہ ہوئیمبارک عظیم آبادی
  12. جبیں پر خاک ہے یہ کس کے در کیبلائیں لے رہا ہوں اپنے سر کیمبارک عظیم آبادی
  13. جو پانچ وقت مصلے پہ قبلہ رو نکلےانہیں بزرگوں کے زیر بغل سبو نکلےمبارک عظیم آبادی
  14. جو نگاہ ناز کا بسمل نہیںدل نہیں وہ دل نہیں وہ دل نہیںمبارک عظیم آبادی
  15. چتون جو قہر کی ہے تو تیور جلال کےمطلب یہ ہے کہ رکھ دے کلیجہ نکال کےمبارک عظیم آبادی
  16. درد دل یار رہا درد سے یاری نہ گئیزندگی ہم سے تو بے لطف گزاری نہ گئیمبارک عظیم آبادی
  17. دیکھے اسے ہر آنکھ کا یہ کام نہیں ہےکچھ کھیل تماشائے لب بام نہیں ہےمبارک عظیم آبادی
  18. ستم کرو نہ کرو اختیار باقی ہےجو ہم نہیں تو ہمارا مزار باقی ہےمبارک عظیم آبادی
  19. سمجھائیں کس طرح دل ناکردہ کار کویہ دوستی سمجھتا ہے دشمن کے پیار کومبارک عظیم آبادی
  20. عجب رنگ کی مے پرستی رہیکہ بے مے پیے مے کی مستی رہیمبارک عظیم آبادی
  21. عشق کی چوسر کس نے کھیلی یہ تو کھیل ہمارے ہیںدل کی بازی مات ہوئی تو جان کی بازی ہارے ہیںمبارک عظیم آبادی
  22. کہتے ہیں کہ دے میری بلا داد کسی کیکانوں کو مزہ دیتی ہے فریاد کسی کیمبارک عظیم آبادی
  23. کیوں کیا کرتے ہیں آہیں کوئی ہم سے پوچھےکر گئیں کیا وہ نگاہیں کوئی ہم سے پوچھےمبارک عظیم آبادی
  24. گھٹا اٹھی ہے کالی اور کالی ہوتی جاتی ہےصراحی جو بھری جاتی ہے خالی ہوتی جاتی ہےمبارک عظیم آبادی
  25. لگا دے سوز محبت پھر آگ سینے میںمزہ پھر آنے لگے دل جلوں کو جینے میںمبارک عظیم آبادی
  26. لے چلا پھر مجھے دل یار دل آزار کے پاساب کے چھوڑ آؤں گا ظالم کو ستم گار کے پاسمبارک عظیم آبادی
  27. محبت میں ٹھنی اکثر یہاں تککہ پہنچے معرکے تیر و کماں تکمبارک عظیم آبادی
  28. میرے سر سے کیا غرض سرکار کودیکھیے اپنے در و دیوار کومبارک عظیم آبادی
  29. ناوک کہیں سناں کہیں تلوار کیا کہیںتو ہی بتا تجھے نگۂ یار کیا کہیںمبارک عظیم آبادی
  30. نہ لائے تاب دید اوسان والےترے جلوے بھی ہیں کیا شان والےمبارک عظیم آبادی
  31. یا دور مرا حجاب کر دےیا اپنے کو بے نقاب کر دےمبارک عظیم آبادی
  32. یوں یہ بدلی کالی کالی جائے گیپاک بازوں میں بھی ڈھالی جائے گیمبارک عظیم آبادی
  33. یہاں کیا ہے وہاں کیا ہے ادھر کیا ہے ادھر کیا ہےکوئی سمجھے تو کیا سمجھے وہ نیرنگ نظر کیا ہےمبارک عظیم آبادی
  34. اسے سودا اسے سودا یہ دیوانہ وہ دیوانہہوا کیا موسم گل کی جنوں انگیز ہوتی ہےمبارک عظیم آبادی
  35. بیگانۂ وفا ترا شیوہ ہی اور ہےاہل وفا کا طور طریقہ ہی اور ہےمبارک عظیم آبادی
  36. تماشائی تو ہیں تماشا نہیں ہےگرا ہے وہ پردہ کہ اٹھتا نہیں ہےمبارک عظیم آبادی