Poetry
- آب و دانہ ترا اے بلبل زار اٹھتا ہےفصل گل جاتی ہے سامان بہار اٹھتا ہےمبارک عظیم آبادی
- اب کون بات رہ گئی یہ بات بھی گئییعنی کبھی کبھی کی ملاقات بھی گئیمبارک عظیم آبادی
- بدظن ہیں اہل کعبہ مجھ دیر آشنا سےکہتے ہیں مجھ کو کافر فریاد ہے خدا سےمبارک عظیم آبادی
- بغل میں ہم نے رات اک غیرت مہتاب دیکھا ہےتمہیں اس خواب کی تعبیر ہو کیا خواب دیکھا ہےمبارک عظیم آبادی
- بکھری ہوئی ہے یوں مری وحشت کی داستاںدامن کدھر کدھر ہے گریباں کہاں کہاںمبارک عظیم آبادی
- پردے پردے میں بہت مجھ پہ ترے وار چلےصاف اب حلق پہ خنجر چلے تلوار چلےمبارک عظیم آبادی
- پوچھی تقصیر تو بولے کوئی تقصیر نہیںہاتھ جوڑے تو کہا یہ کوئی تعزیر نہیںمبارک عظیم آبادی
- پھر ملے ہم ان سے پھر یاری بڑھیاور الجھا دل گرفتاری بڑھیمبارک عظیم آبادی
- تازہ آزار کا ارمان کہاں جاتا ہےپھر ستا لے ترے قربان کہاں جاتا ہےمبارک عظیم آبادی
- تم وقت پہ کر جاتے ہو پیمان فراموشیہ بھول نہیں ہوتی مری جان فراموشمبارک عظیم آبادی
- تمہاری شرط محبت کبھی وفا نہ ہوئییہ کیا ہوئی تمہیں کہہ دو اگر جفا نہ ہوئیمبارک عظیم آبادی
- جبیں پر خاک ہے یہ کس کے در کیبلائیں لے رہا ہوں اپنے سر کیمبارک عظیم آبادی
- جو پانچ وقت مصلے پہ قبلہ رو نکلےانہیں بزرگوں کے زیر بغل سبو نکلےمبارک عظیم آبادی
- جو نگاہ ناز کا بسمل نہیںدل نہیں وہ دل نہیں وہ دل نہیںمبارک عظیم آبادی
- چتون جو قہر کی ہے تو تیور جلال کےمطلب یہ ہے کہ رکھ دے کلیجہ نکال کےمبارک عظیم آبادی
- درد دل یار رہا درد سے یاری نہ گئیزندگی ہم سے تو بے لطف گزاری نہ گئیمبارک عظیم آبادی
- دیکھے اسے ہر آنکھ کا یہ کام نہیں ہےکچھ کھیل تماشائے لب بام نہیں ہےمبارک عظیم آبادی
- ستم کرو نہ کرو اختیار باقی ہےجو ہم نہیں تو ہمارا مزار باقی ہےمبارک عظیم آبادی
- سمجھائیں کس طرح دل ناکردہ کار کویہ دوستی سمجھتا ہے دشمن کے پیار کومبارک عظیم آبادی
- عجب رنگ کی مے پرستی رہیکہ بے مے پیے مے کی مستی رہیمبارک عظیم آبادی
- عشق کی چوسر کس نے کھیلی یہ تو کھیل ہمارے ہیںدل کی بازی مات ہوئی تو جان کی بازی ہارے ہیںمبارک عظیم آبادی
- کہتے ہیں کہ دے میری بلا داد کسی کیکانوں کو مزہ دیتی ہے فریاد کسی کیمبارک عظیم آبادی
- کیوں کیا کرتے ہیں آہیں کوئی ہم سے پوچھےکر گئیں کیا وہ نگاہیں کوئی ہم سے پوچھےمبارک عظیم آبادی
- گھٹا اٹھی ہے کالی اور کالی ہوتی جاتی ہےصراحی جو بھری جاتی ہے خالی ہوتی جاتی ہےمبارک عظیم آبادی
- لگا دے سوز محبت پھر آگ سینے میںمزہ پھر آنے لگے دل جلوں کو جینے میںمبارک عظیم آبادی
- لے چلا پھر مجھے دل یار دل آزار کے پاساب کے چھوڑ آؤں گا ظالم کو ستم گار کے پاسمبارک عظیم آبادی
- محبت میں ٹھنی اکثر یہاں تککہ پہنچے معرکے تیر و کماں تکمبارک عظیم آبادی
- میرے سر سے کیا غرض سرکار کودیکھیے اپنے در و دیوار کومبارک عظیم آبادی
- ناوک کہیں سناں کہیں تلوار کیا کہیںتو ہی بتا تجھے نگۂ یار کیا کہیںمبارک عظیم آبادی
- نہ لائے تاب دید اوسان والےترے جلوے بھی ہیں کیا شان والےمبارک عظیم آبادی
- یا دور مرا حجاب کر دےیا اپنے کو بے نقاب کر دےمبارک عظیم آبادی
- یوں یہ بدلی کالی کالی جائے گیپاک بازوں میں بھی ڈھالی جائے گیمبارک عظیم آبادی
- یہاں کیا ہے وہاں کیا ہے ادھر کیا ہے ادھر کیا ہےکوئی سمجھے تو کیا سمجھے وہ نیرنگ نظر کیا ہےمبارک عظیم آبادی
- اسے سودا اسے سودا یہ دیوانہ وہ دیوانہہوا کیا موسم گل کی جنوں انگیز ہوتی ہےمبارک عظیم آبادی
- بیگانۂ وفا ترا شیوہ ہی اور ہےاہل وفا کا طور طریقہ ہی اور ہےمبارک عظیم آبادی
- تماشائی تو ہیں تماشا نہیں ہےگرا ہے وہ پردہ کہ اٹھتا نہیں ہےمبارک عظیم آبادی