Poetry
- آدمی نور ہےجلوۂ طور ہےHafiz Karnataki (b. 1964)
- آنکھ کے تارے ٹوٹ گئےخواب ہمارے ٹوٹ گئےHafiz Karnataki (b. 1964)
- پھول نہیں تو کانٹا دےمجھ کو کوئی تحفہ دےHafiz Karnataki (b. 1964)
- تجھ کو سوچوں میں بسا کر شاعری کرتا ہوں میںذہن و دل کی وادیوں میں روشنی کرتا ہوں میںHafiz Karnataki (b. 1964)
- دل میں دھڑکن لب میں جنبش چاہیےزندہ رہنے کو یہ ورزش چاہیےHafiz Karnataki (b. 1964)
- دور کے ڈھول سہانے ہیںصدیوں کے افسانے ہیںHafiz Karnataki (b. 1964)
- دیکھو اپنی آنکھ مچولی ایک حقیقت ہو گئی ناتم سے مجھ کو مجھ سے تم کو آج محبت ہو گئی ناHafiz Karnataki (b. 1964)
- رات پرانی لگتی ہےبوڑھی نانی لگتی ہےHafiz Karnataki (b. 1964)
- رنج و غم لاکھ ہوں مسکراتے رہودوست دشمن سے ملتے ملاتے رہوHafiz Karnataki (b. 1964)
- عقل سے کام کردہر میں نام کرHafiz Karnataki (b. 1964)
- کئی جلوے تری پہچان کے دھوکے سے نکلے ہیںسیاست سینکڑوں چہرے ترے چہرے سے نکلے ہیںHafiz Karnataki (b. 1964)
- گھر آنگن میں پھیلی دھوپپیلے رنگ میں لپٹی دھوپHafiz Karnataki (b. 1964)
- مری وفا کی وہ پہچان بھی نہیں رکھتےصلہ تو دور ہے احسان بھی نہیں رکھتےHafiz Karnataki (b. 1964)
- ہم زمیں پر آسماں بن کر رہےبے زبانوں کی زباں بن کر رہےHafiz Karnataki (b. 1964)
- ہم نے تری طلب کو تمنا بنا لیاپڑھ پڑھ کے تیرا نام وظیفہ بنا لیاHafiz Karnataki (b. 1964)
- ہم نے سیکھا ہے محبت کرناایک اک دل پہ حکومت کرناHafiz Karnataki (b. 1964)
- ہم ہوئے سارے زمانے سے خفا تیرے لیےظلم کیا کیا نہ سہے جان ادا تیرے لیےHafiz Karnataki (b. 1964)
- یہ راز کوئی جاننے والا بھی نہیں ہےسورج کی وراثت میں اجالا بھی نہیں ہےHafiz Karnataki (b. 1964)
- یہ روشن نگاہیں چمکدار چہرےہیں باطن کی رنگت کا اظہار چہرےHafiz Karnataki (b. 1964)
- یہ مہکتے ہوئے جذبات یہ اشعار کے پھولکاش کام آئیں کسی کے مرے افکار کے پھولHafiz Karnataki (b. 1964)
- احمد ببلو بابو سلمیٰایک جماعت کے یہ بچےHafiz Karnataki (b. 1964)
- بچو سرکس آیا ہےگھر گھر اس کا چرچا ہےHafiz Karnataki (b. 1964)
- حضرت انساں کی خاطر ہی بنی ہے کہکشاںبچو لاکھوں سال پہلے سے سجی ہے کہکشاںHafiz Karnataki (b. 1964)
- درختوں پہ ہر دم چہکتے پرندےلبھاتے ہیں بچو رنگیلے پرندےHafiz Karnataki (b. 1964)
- دو ایکا دوہو ہو ہوHafiz Karnataki (b. 1964)
- راکٹ وزنی ہوتا ہےوزن خلا میں کھوتا ہےHafiz Karnataki (b. 1964)
- سخاوت ہے نیکی کا اک بہتا دریاکہ بچو بخالت ہے خود جلتا صحراHafiz Karnataki (b. 1964)
- سورج کے دم سے بچو دنیا میں ہے اجالاسورج نہ ہو تو چہرہ دنیا کا ہوگا کالاHafiz Karnataki (b. 1964)
- شاعری کی دو صنفیں ہیں نظم و غزلاردو میں ان کی شہرت ہے بچو اٹلHafiz Karnataki (b. 1964)
- غذا سے توانائی تن کو ملےہیں لمبے توانائی کے سلسلےHafiz Karnataki (b. 1964)
- فارسی عربی میں گونجی اس کی صداشان میں بادشاہوں کی لکھا گیاHafiz Karnataki (b. 1964)
- کچھ پیسوں کو جوڑو ابایس بی کھاتا کھولو ابHafiz Karnataki (b. 1964)
- کم سے کم چار مصرعے ہیں قطعہ سنولطف لے لے کے اشعار اس کے پڑھوHafiz Karnataki (b. 1964)
- گاؤں میں شیر کا اک شکاری بھی تھاکھاتا تھا دشت کی وہ ہمیشہ ہواHafiz Karnataki (b. 1964)
- گرمی کا جو موسم آیاجلنے لگی پیڑوں کی چھایاHafiz Karnataki (b. 1964)
- لفظ مثنیٰ سے یہ جو میاں ہے بنیدو کے معنی کو ظاہر کرے مثنویHafiz Karnataki (b. 1964)
- نظر کو لبھاتے ہیں پودوں کے منظرحسیں اور نازک ہیں پھولوں کے پیکرHafiz Karnataki (b. 1964)
- نظم جو مرنے والوں کے غم میں لکھیںاس کو ہم اے میاں مرثیہ ہی کہیںHafiz Karnataki (b. 1964)
- ہے رباعی ربع سے بچو سنوچار مصرعوں کو تم اس کے پہچان لوHafiz Karnataki (b. 1964)
- ہے غزل میں زندگی سے گفتگوکہتے ہیں اردو کی ہے یہ آبروHafiz Karnataki (b. 1964)
- ہے کٹھن بچو یہ جیون کا سفرہے نہایت پر خطر اک اک ڈگرHafiz Karnataki (b. 1964)
- ہے کنارے یہ جمنا کے اک شاہکاردیکھنا چاندنی میں تم اس کی بہارHafiz Karnataki (b. 1964)