ہم زمیں پر آسماں بن کر رہے
Hafiz Karnataki (b. 1964)ہم زمیں پر آسماں بن کر رہے
بے زبانوں کی زباں بن کر رہے
جن کا کوئی گھر نہ تھا اور چھت نہ تھی
ان کے سر پر سائباں بن کر رہے
ہل جنہوں نے جوتے دہقاں کی طرح
سرحدوں پر وہ جواں بن کر رہے
ہم جہاں پر تھے وہاں پر عمر بھر
بانیٔ امن و اماں بن کر رہے
جن کے اندر گم ہوئیں ندیاں کئی
ہم وہ بحر بیکراں بن کر رہے
آج تو ان کا فضاؤں پر ہے راج
کل تلک جو سارباں بن کر رہے
نیک اولادوں کی خواہش ہے تو پھر
ماں سے کہہ دو وہ بھی ماں بن کر رہے