ہم ہوئے سارے زمانے سے خفا تیرے لیے

Hafiz Karnataki (b. 1964)

ہم ہوئے سارے زمانے سے خفا تیرے لیے

ظلم کیا کیا نہ سہے جان ادا تیرے لیے

تیرے پروانے کی جاں لے کے رہا وہ آخر

ہم نے چاہت کا جلایا جو دیا تیرے لیے

خود سے بڑھ کر بھی کبھی ہم نے تجھے چاہا ہے

لب پہ روشن رہی ہر وقت دعا تیرے لیے

رات دن ہم نے بہائے ہیں لہو کے آنسو

کی ہے منظور سسکنے کی ادا تیرے لیے

دوستی تجھ سے جو کی ہو گئی دشمن دنیا

عشق کے نام پہ کیا کیا نہ ہوا تیرے لیے

تیری ہر بات کو مانا کیے حامی بھر لی

ہم ہوئے پیکر تسلیم و رضا تیرے لیے

تیری خاطر کیا سمجھوتہ جہاں سے حافظؔ

ہم نے برداشت کی توہین انا تیرے لیے