ہم نے تری طلب کو تمنا بنا لیا
Hafiz Karnataki (b. 1964)ہم نے تری طلب کو تمنا بنا لیا
پڑھ پڑھ کے تیرا نام وظیفہ بنا لیا
ہموار کر لی پہلے ترے دل کی سرزمیں
اور پھر یہاں پہ اپنا ٹھکانہ بنا لیا
جس کے کنارے بیٹھ کے کرتا تھا تم سے بات
میں نے تو اس ندی سے بھی رشتہ بنا لیا
ہم تو ہمارے دل کو نہ اپنا بنا سکے
لیکن بنانے والوں نے کیا کیا بنا لیا
ہر سانس پہ ہے موت کا دھڑکا لگا ہوا
قاتل کو زندگی نے مسیحا بنا لیا
ہم شاطروں کے شہر میں بے مول بک گئے
ہم کو سیاسی لوگوں نے مہرا بنا لیا
خوشبو سے روز خط لکھا حافظؔ ہوا کے نام
پتوں کو موڑ دے کے لفافہ بنا لیا