Poetry
- پھر لوٹ کے آیا ہوں تنہائی کے جنگل میںاک شہر تصور ہے احساس کے ہر پل میںChandrabhan Khayal (b. 1946)
- جستجو کے پاؤں اب آرام سا پانے لگےاب ہمارے پاس بھی کچھ راستے آنے لگےChandrabhan Khayal (b. 1946)
- چلچلاتی دھوپ سر پر اور تنہا آدمیآہ یہ خاموش پتھر اور تنہا آدمیChandrabhan Khayal (b. 1946)
- دولت حق مجھ کو حاصل ہو گئی ہےزندگی اب اور مشکل ہو گئی ہےChandrabhan Khayal (b. 1946)
- دیکھ ان چڑیوں کو چڑیا گھر نہ دیکھلوٹ مت پیچھے کو یوں مڑ کر نہ دیکھChandrabhan Khayal (b. 1946)
- زندگانی رنج اور غم کے سوا کچھ بھی نہیںاف کہ ہر دم سوگ و ماتم کے سوا کچھ بھی نہیںChandrabhan Khayal (b. 1946)
- سرد سناٹوں کی سب سرگوشیاں لے جاؤں گامیں جہاں بھی جاؤں گا دل کی زباں لے جاؤں گاChandrabhan Khayal (b. 1946)
- صرف اک حد نظر کو آسماں سمجھا تھا میںآسمانوں کی حقیقت کو کہاں سمجھا تھا میںChandrabhan Khayal (b. 1946)
- کبھی جو شب کی سیاہی سے ناگہاں گزرےہم اہل ظرف ہر اک سوچ پر گراں گزرےChandrabhan Khayal (b. 1946)
- کوئی دانا کوئی دیوانہ ملاشہر میں ہر شخص بیگانہ ملاChandrabhan Khayal (b. 1946)
- گھڑی بھر خلوتوں کو آنچ دے کر بجھ گیا سورجکسی کے درد کی لے پر کہاں تک ناچتا سورجChandrabhan Khayal (b. 1946)
- مجھ سے مل کر خود کو کیا پائے گا تواور تنہا ہو کے رہ جائے گا توChandrabhan Khayal (b. 1946)
- میں جہاں جاؤں مرے ساتھ چلے سناٹامیری آنکھوں میں لگاتار جلے سناٹاChandrabhan Khayal (b. 1946)
- ہو نہ ہو آس پاس ہے کوئیمیرے جتنا اداس ہے کوئیChandrabhan Khayal (b. 1946)
- آج پھر درد اٹھا دل کے نہاں خانے میںآج پھر لوگ ستانے کو چلے آئیں گےChandrabhan Khayal (b. 1946)
- آج پھر گھات میں بیٹھا ہے سمندر کا سکوتہم کو اک دوسرے سے دور ہی رہنا ہوگاChandrabhan Khayal (b. 1946)
- آوارہ گرد لمحے یوں بے قرار بھٹکیںجیسے پرند پیاسے دیوانہ وار بھٹکیںChandrabhan Khayal (b. 1946)
- اگر قریب سے دیکھو تو جان لو گی تمجہاں ہے سانپ کی صورت وجود سے لپٹاChandrabhan Khayal (b. 1946)
- بستی کی بیمار گلی میںشہنائی جب جب گونجی ہےChandrabhan Khayal (b. 1946)
- پھیل کر پھر شب تاریک ہوئی بحر سیاہقطرہ قطرہ لب تنہائی سے ٹپکے احساسChandrabhan Khayal (b. 1946)
- تنہا بیٹھا ہوں کمرے میں ماضی کی تصویر لیےاب تو انجانے قدموں کی آہٹ سے جی ڈرتا ہےChandrabhan Khayal (b. 1946)
- جنگ دھرتی پہ ستاروں کے لیے جاری ہےحیف صد حیف کہ ہر شے پہ جنوں طاری ہےChandrabhan Khayal (b. 1946)
- دل پہاڑوں پر چلا جائے کہ میدانوں میں ہوبھیڑ میں لوگوں کی یا خالی شبستانوں میں ہوChandrabhan Khayal (b. 1946)
- دلوں میں درد دماغوں میں کشمکش کا دھواںجبیں پہ خاک نگاہوں میں غم کی تاریکیChandrabhan Khayal (b. 1946)
- سب کچھ یاد کر رہا ہوں میںکوئی بات بھلا دینے کوChandrabhan Khayal (b. 1946)
- قریب صبح صدائے شکست جاں ابھریلبوں کا زہر اچانک پگھل گیا آخرChandrabhan Khayal (b. 1946)
- کھوکھلے سینوں میں بہتا ہے مسیحائی عذابخیر و شر کے مسئلے سب آج بھی ہم دوش ہیںChandrabhan Khayal (b. 1946)
- لمحہ لمحہ خونیں خنجرصدیاں جیبھیں ہیں سانپوں کیChandrabhan Khayal (b. 1946)
- لہو نوش لمحوں کے بیدار سائےاسے گھیر لیں گے سنانیں اٹھائےChandrabhan Khayal (b. 1946)
- میری پسلی میں جما ہے کئی شہروں کا سکوتجیسے سویا ہو کسی غار میں تہذیب کا بھوتChandrabhan Khayal (b. 1946)
- نیند کے تعاقب میںدور دور تک لا حاصلChandrabhan Khayal (b. 1946)
- سوختہ جاں سوختہ دلسوختہ روحوں کے گھر میںChandrabhan Khayal (b. 1946)
- لے گیا وہ چھین کر میری جوانیاس پہ بس یوں ہی جھپٹ کر رہ گیا میںChandrabhan Khayal (b. 1946)
- ملتا نہیں خود اپنے قدم کا نشاں مجھےکن مرحلوں میں چھوڑ گیا کارواں مجھےChandrabhan Khayal (b. 1946)