Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. پھر لوٹ کے آیا ہوں تنہائی کے جنگل میںاک شہر تصور ہے احساس کے ہر پل میںChandrabhan Khayal (b. 1946)
  2. جستجو کے پاؤں اب آرام سا پانے لگےاب ہمارے پاس بھی کچھ راستے آنے لگےChandrabhan Khayal (b. 1946)
  3. چلچلاتی دھوپ سر پر اور تنہا آدمیآہ یہ خاموش پتھر اور تنہا آدمیChandrabhan Khayal (b. 1946)
  4. دولت حق مجھ کو حاصل ہو گئی ہےزندگی اب اور مشکل ہو گئی ہےChandrabhan Khayal (b. 1946)
  5. دیکھ ان چڑیوں کو چڑیا گھر نہ دیکھلوٹ مت پیچھے کو یوں مڑ کر نہ دیکھChandrabhan Khayal (b. 1946)
  6. زندگانی رنج اور غم کے سوا کچھ بھی نہیںاف کہ ہر دم سوگ و ماتم کے سوا کچھ بھی نہیںChandrabhan Khayal (b. 1946)
  7. سرد سناٹوں کی سب سرگوشیاں لے جاؤں گامیں جہاں بھی جاؤں گا دل کی زباں لے جاؤں گاChandrabhan Khayal (b. 1946)
  8. صرف اک حد نظر کو آسماں سمجھا تھا میںآسمانوں کی حقیقت کو کہاں سمجھا تھا میںChandrabhan Khayal (b. 1946)
  9. کبھی جو شب کی سیاہی سے ناگہاں گزرےہم اہل ظرف ہر اک سوچ پر گراں گزرےChandrabhan Khayal (b. 1946)
  10. کوئی دانا کوئی دیوانہ ملاشہر میں ہر شخص بیگانہ ملاChandrabhan Khayal (b. 1946)
  11. گھڑی بھر خلوتوں کو آنچ دے کر بجھ گیا سورجکسی کے درد کی لے پر کہاں تک ناچتا سورجChandrabhan Khayal (b. 1946)
  12. مجھ سے مل کر خود کو کیا پائے گا تواور تنہا ہو کے رہ جائے گا توChandrabhan Khayal (b. 1946)
  13. میں جہاں جاؤں مرے ساتھ چلے سناٹامیری آنکھوں میں لگاتار جلے سناٹاChandrabhan Khayal (b. 1946)
  14. ہو نہ ہو آس پاس ہے کوئیمیرے جتنا اداس ہے کوئیChandrabhan Khayal (b. 1946)
  15. آج پھر درد اٹھا دل کے نہاں خانے میںآج پھر لوگ ستانے کو چلے آئیں گےChandrabhan Khayal (b. 1946)
  16. آج پھر گھات میں بیٹھا ہے سمندر کا سکوتہم کو اک دوسرے سے دور ہی رہنا ہوگاChandrabhan Khayal (b. 1946)
  17. آوارہ گرد لمحے یوں بے قرار بھٹکیںجیسے پرند پیاسے دیوانہ وار بھٹکیںChandrabhan Khayal (b. 1946)
  18. اگر قریب سے دیکھو تو جان لو گی تمجہاں ہے سانپ کی صورت وجود سے لپٹاChandrabhan Khayal (b. 1946)
  19. بستی کی بیمار گلی میںشہنائی جب جب گونجی ہےChandrabhan Khayal (b. 1946)
  20. پھیل کر پھر شب تاریک ہوئی بحر سیاہقطرہ قطرہ لب تنہائی سے ٹپکے احساسChandrabhan Khayal (b. 1946)
  21. تنہا بیٹھا ہوں کمرے میں ماضی کی تصویر لیےاب تو انجانے قدموں کی آہٹ سے جی ڈرتا ہےChandrabhan Khayal (b. 1946)
  22. جنگ دھرتی پہ ستاروں کے لیے جاری ہےحیف صد حیف کہ ہر شے پہ جنوں طاری ہےChandrabhan Khayal (b. 1946)
  23. دل پہاڑوں پر چلا جائے کہ میدانوں میں ہوبھیڑ میں لوگوں کی یا خالی شبستانوں میں ہوChandrabhan Khayal (b. 1946)
  24. دلوں میں درد دماغوں میں کشمکش کا دھواںجبیں پہ خاک نگاہوں میں غم کی تاریکیChandrabhan Khayal (b. 1946)
  25. سب کچھ یاد کر رہا ہوں میںکوئی بات بھلا دینے کوChandrabhan Khayal (b. 1946)
  26. قریب صبح صدائے شکست جاں ابھریلبوں کا زہر اچانک پگھل گیا آخرChandrabhan Khayal (b. 1946)
  27. کھوکھلے سینوں میں بہتا ہے مسیحائی عذابخیر و شر کے مسئلے سب آج بھی ہم دوش ہیںChandrabhan Khayal (b. 1946)
  28. لمحہ لمحہ خونیں خنجرصدیاں جیبھیں ہیں سانپوں کیChandrabhan Khayal (b. 1946)
  29. لہو نوش لمحوں کے بیدار سائےاسے گھیر لیں گے سنانیں اٹھائےChandrabhan Khayal (b. 1946)
  30. میری پسلی میں جما ہے کئی شہروں کا سکوتجیسے سویا ہو کسی غار میں تہذیب کا بھوتChandrabhan Khayal (b. 1946)
  31. نیند کے تعاقب میںدور دور تک لا حاصلChandrabhan Khayal (b. 1946)
  32. سوختہ جاں سوختہ دلسوختہ روحوں کے گھر میںChandrabhan Khayal (b. 1946)
  33. لے گیا وہ چھین کر میری جوانیاس پہ بس یوں ہی جھپٹ کر رہ گیا میںChandrabhan Khayal (b. 1946)
  34. ملتا نہیں خود اپنے قدم کا نشاں مجھےکن مرحلوں میں چھوڑ گیا کارواں مجھےChandrabhan Khayal (b. 1946)