Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آشوب حسن کی بھی کوئی داستاں رہےمٹنے کو یوں مٹیں کہ ابد تک نشاں رہےAsghar Gondvi (1884–1936)
  2. آلام روزگار کو آساں بنا دیاجو غم ہوا اسے غم جاناں بنا دیاAsghar Gondvi (1884–1936)
  3. اسرار عشق ہے دل مضطر لیے ہوئےقطرہ ہے بے قرار سمندر لیے ہوئےAsghar Gondvi (1884–1936)
  4. اک عالم حیرت ہے فنا ہے نہ بقا ہےحیرت بھی یہ حیرت ہے کہ کیا جانیے کیا ہےAsghar Gondvi (1884–1936)
  5. ایک ایسی بھی تجلی آج مے خانے میں ہےلطف پینے میں نہیں ہے بلکہ کھو جانے میں ہےAsghar Gondvi (1884–1936)
  6. پاتا نہیں جو لذت آہ سحر کو میںپھر کیا کروں گا لے کے الٰہی اثر کو میںAsghar Gondvi (1884–1936)
  7. پاس ادب میں جوش تمنا لئے ہوئےمیں بھی ہوں اک حباب میں دریا لئے ہوئےAsghar Gondvi (1884–1936)
  8. ترے جلووں کے آگے ہمت شرح و بیاں رکھ دیزبان بے نگہ رکھ دی نگاہ بے زباں رکھ دیAsghar Gondvi (1884–1936)
  9. تو ایک نام ہے مگر صدائے خواب کی طرحمیں ایک حرف ہوں مگر نشان آب کی طرحAsghar Gondvi (1884–1936)
  10. جان نشاط حسن کی دنیا کہیں جسےجنت ہے ایک خون تمنا کہیں جسےAsghar Gondvi (1884–1936)
  11. جینے کا نہ کچھ ہوش نہ مرنے کی خبر ہےاے شعبدہ پرداز یہ کیا طرز نظر ہےAsghar Gondvi (1884–1936)
  12. خدا جانے کہاں ہے اصغرؔ دیوانہ برسوں سےکہ اس کو ڈھونڈھتے ہیں کعبہ و بت خانہ برسوں سےAsghar Gondvi (1884–1936)
  13. ذوق سرمستی کو محو روئے جاناں کر دیاکفر کو اس طرح چمکایا کہ ایماں کر دیاAsghar Gondvi (1884–1936)
  14. رقص مستی دیکھتے جوش تمنا دیکھتےسامنے لا کر تجھے اپنا تماشا دیکھتےAsghar Gondvi (1884–1936)
  15. سامنے ان کے تڑپ کر اس طرح فریاد کیمیں نے پوری شکل دکھلا دی دل ناشاد کیAsghar Gondvi (1884–1936)
  16. صرف اک سوز تو مجھ میں ہے مگر ساز نہیںمیں فقط درد ہوں جس میں کوئی آواز نہیںAsghar Gondvi (1884–1936)
  17. عشق ہے اک کیف پنہانی مگر رنجور ہےحسن بے پردا نہیں ہوتا مگر دستور ہےAsghar Gondvi (1884–1936)
  18. عشوؤں کی ہے نہ اس نگہ فتنہ زا کی ہےساری خطا مرے دل شورش ادا کی ہےAsghar Gondvi (1884–1936)
  19. عکس کس چیز کا آئینۂ حیرت میں نہیںتیری صورت میں ہے کیا جو میری صورت میں نہیںAsghar Gondvi (1884–1936)
  20. کون تھا اس کے ہوا خواہوں میں جو شامل نہ تھااب ہوا معلوم مجھ کو دل بھی میرا دل نہ تھاAsghar Gondvi (1884–1936)
  21. کوئی محمل نشیں کیوں شاد یا ناشاد ہوتا ہےغبار قیس خود اٹھتا ہے خود برباد ہوتا ہےAsghar Gondvi (1884–1936)
  22. گرم تلاش و جستجو اب ہے تری نظر کہاںخون ہے کچھ جما ہوا قلب کہاں جگر کہاںAsghar Gondvi (1884–1936)
  23. گم کر دیا ہے دید نے یوں سر بہ سر مجھےملتی ہے اب انہیں سے کچھ اپنی خبر مجھےAsghar Gondvi (1884–1936)
  24. متاع زیست کیا ہم زیست کا حاصل سمجھتے ہیںجسے سب درد کہتے ہیں اسے ہم دل سمجھتے ہیںAsghar Gondvi (1884–1936)
  25. مجاز کیسا کہاں حقیقت ابھی تجھے کچھ خبر نہیں ہےیہ سب ہے اک خواب کی سی حالت، جو دیکھتا ہے سحر نہیں ہےAsghar Gondvi (1884–1936)
  26. مستی میں فروغ رخ جاناں نہیں دیکھاسنتے ہیں بہار آئی گلستاں نہیں دیکھاAsghar Gondvi (1884–1936)
  27. موجوں کا عکس ہے خط جام شراب میںیا خون اچھل رہا ہے رگ ماہتاب میںAsghar Gondvi (1884–1936)
  28. مے بے رنگ کا سو رنگ سے رسوا ہوناکبھی میکش کبھی ساقی کبھی مینا ہوناAsghar Gondvi (1884–1936)
  29. نہ کھلے عقد ہائے ناز و نیازحسن بھی راز اور عشق بھی رازAsghar Gondvi (1884–1936)
  30. نہ یہ شیشہ نہ یہ ساغر نہ یہ پیمانہ بنےجان مے خانہ تری نرگس مستانہ بنےAsghar Gondvi (1884–1936)
  31. وہ نغمہ بلبل رنگیں نوا اک بار ہو جائےکلی کی آنکھ کھل جائے چمن بیدار ہو جائےAsghar Gondvi (1884–1936)
  32. ہے دل ناکام عاشق میں تمہاری یاد بھییہ بھی کیا گھر ہے کہ ہے برباد بھی آباد بھیAsghar Gondvi (1884–1936)
  33. یوں نہ مایوس ہو اے شورش ناکام ابھیمیری رگ رگ میں ہے اک آتش بے نام ابھیAsghar Gondvi (1884–1936)
  34. یہ عشق نے دیکھا ہے یہ عقل سے پنہاں ہےقطرہ میں سمندر ہے ذرہ میں بیاباں ہےAsghar Gondvi (1884–1936)
  35. یہ کیا کہا کہ غم عشق ناگوار ہوامجھے تو جرعۂ تلخ اور سازگار ہواAsghar Gondvi (1884–1936)
  36. یہ ننگ عاشقی ہے سود و حاصل دیکھنے والےیہاں گمراہ کہلاتے ہیں منزل دیکھنے والےAsghar Gondvi (1884–1936)
  37. جو نقش ہے ہستی کا دھوکا نظر آتا ہےپردے پہ مصور ہی تنہا نظر آتا ہےAsghar Gondvi (1884–1936)
  38. حسن کو وسعتیں جو دیں عشق کو حوصلہ دیاجو نہ ملے نہ مٹ سکے وہ مجھے مدعا دیاAsghar Gondvi (1884–1936)
  39. شکوہ نہ چاہیئے کہ تقاضا نہ چاہیئےجب جان پر بنی ہو تو کیا کیا نہ چاہیئےAsghar Gondvi (1884–1936)