Poetry
- آشوب حسن کی بھی کوئی داستاں رہےمٹنے کو یوں مٹیں کہ ابد تک نشاں رہےAsghar Gondvi (1884–1936)
- آلام روزگار کو آساں بنا دیاجو غم ہوا اسے غم جاناں بنا دیاAsghar Gondvi (1884–1936)
- اسرار عشق ہے دل مضطر لیے ہوئےقطرہ ہے بے قرار سمندر لیے ہوئےAsghar Gondvi (1884–1936)
- اک عالم حیرت ہے فنا ہے نہ بقا ہےحیرت بھی یہ حیرت ہے کہ کیا جانیے کیا ہےAsghar Gondvi (1884–1936)
- ایک ایسی بھی تجلی آج مے خانے میں ہےلطف پینے میں نہیں ہے بلکہ کھو جانے میں ہےAsghar Gondvi (1884–1936)
- پاتا نہیں جو لذت آہ سحر کو میںپھر کیا کروں گا لے کے الٰہی اثر کو میںAsghar Gondvi (1884–1936)
- پاس ادب میں جوش تمنا لئے ہوئےمیں بھی ہوں اک حباب میں دریا لئے ہوئےAsghar Gondvi (1884–1936)
- ترے جلووں کے آگے ہمت شرح و بیاں رکھ دیزبان بے نگہ رکھ دی نگاہ بے زباں رکھ دیAsghar Gondvi (1884–1936)
- تو ایک نام ہے مگر صدائے خواب کی طرحمیں ایک حرف ہوں مگر نشان آب کی طرحAsghar Gondvi (1884–1936)
- جان نشاط حسن کی دنیا کہیں جسےجنت ہے ایک خون تمنا کہیں جسےAsghar Gondvi (1884–1936)
- جینے کا نہ کچھ ہوش نہ مرنے کی خبر ہےاے شعبدہ پرداز یہ کیا طرز نظر ہےAsghar Gondvi (1884–1936)
- خدا جانے کہاں ہے اصغرؔ دیوانہ برسوں سےکہ اس کو ڈھونڈھتے ہیں کعبہ و بت خانہ برسوں سےAsghar Gondvi (1884–1936)
- ذوق سرمستی کو محو روئے جاناں کر دیاکفر کو اس طرح چمکایا کہ ایماں کر دیاAsghar Gondvi (1884–1936)
- رقص مستی دیکھتے جوش تمنا دیکھتےسامنے لا کر تجھے اپنا تماشا دیکھتےAsghar Gondvi (1884–1936)
- سامنے ان کے تڑپ کر اس طرح فریاد کیمیں نے پوری شکل دکھلا دی دل ناشاد کیAsghar Gondvi (1884–1936)
- صرف اک سوز تو مجھ میں ہے مگر ساز نہیںمیں فقط درد ہوں جس میں کوئی آواز نہیںAsghar Gondvi (1884–1936)
- عشق ہے اک کیف پنہانی مگر رنجور ہےحسن بے پردا نہیں ہوتا مگر دستور ہےAsghar Gondvi (1884–1936)
- عشوؤں کی ہے نہ اس نگہ فتنہ زا کی ہےساری خطا مرے دل شورش ادا کی ہےAsghar Gondvi (1884–1936)
- عکس کس چیز کا آئینۂ حیرت میں نہیںتیری صورت میں ہے کیا جو میری صورت میں نہیںAsghar Gondvi (1884–1936)
- کون تھا اس کے ہوا خواہوں میں جو شامل نہ تھااب ہوا معلوم مجھ کو دل بھی میرا دل نہ تھاAsghar Gondvi (1884–1936)
- کوئی محمل نشیں کیوں شاد یا ناشاد ہوتا ہےغبار قیس خود اٹھتا ہے خود برباد ہوتا ہےAsghar Gondvi (1884–1936)
- گرم تلاش و جستجو اب ہے تری نظر کہاںخون ہے کچھ جما ہوا قلب کہاں جگر کہاںAsghar Gondvi (1884–1936)
- گم کر دیا ہے دید نے یوں سر بہ سر مجھےملتی ہے اب انہیں سے کچھ اپنی خبر مجھےAsghar Gondvi (1884–1936)
- متاع زیست کیا ہم زیست کا حاصل سمجھتے ہیںجسے سب درد کہتے ہیں اسے ہم دل سمجھتے ہیںAsghar Gondvi (1884–1936)
- مجاز کیسا کہاں حقیقت ابھی تجھے کچھ خبر نہیں ہےیہ سب ہے اک خواب کی سی حالت، جو دیکھتا ہے سحر نہیں ہےAsghar Gondvi (1884–1936)
- مستی میں فروغ رخ جاناں نہیں دیکھاسنتے ہیں بہار آئی گلستاں نہیں دیکھاAsghar Gondvi (1884–1936)
- موجوں کا عکس ہے خط جام شراب میںیا خون اچھل رہا ہے رگ ماہتاب میںAsghar Gondvi (1884–1936)
- مے بے رنگ کا سو رنگ سے رسوا ہوناکبھی میکش کبھی ساقی کبھی مینا ہوناAsghar Gondvi (1884–1936)
- نہ کھلے عقد ہائے ناز و نیازحسن بھی راز اور عشق بھی رازAsghar Gondvi (1884–1936)
- نہ یہ شیشہ نہ یہ ساغر نہ یہ پیمانہ بنےجان مے خانہ تری نرگس مستانہ بنےAsghar Gondvi (1884–1936)
- وہ نغمہ بلبل رنگیں نوا اک بار ہو جائےکلی کی آنکھ کھل جائے چمن بیدار ہو جائےAsghar Gondvi (1884–1936)
- ہے دل ناکام عاشق میں تمہاری یاد بھییہ بھی کیا گھر ہے کہ ہے برباد بھی آباد بھیAsghar Gondvi (1884–1936)
- یوں نہ مایوس ہو اے شورش ناکام ابھیمیری رگ رگ میں ہے اک آتش بے نام ابھیAsghar Gondvi (1884–1936)
- یہ عشق نے دیکھا ہے یہ عقل سے پنہاں ہےقطرہ میں سمندر ہے ذرہ میں بیاباں ہےAsghar Gondvi (1884–1936)
- یہ کیا کہا کہ غم عشق ناگوار ہوامجھے تو جرعۂ تلخ اور سازگار ہواAsghar Gondvi (1884–1936)
- یہ ننگ عاشقی ہے سود و حاصل دیکھنے والےیہاں گمراہ کہلاتے ہیں منزل دیکھنے والےAsghar Gondvi (1884–1936)
- جو نقش ہے ہستی کا دھوکا نظر آتا ہےپردے پہ مصور ہی تنہا نظر آتا ہےAsghar Gondvi (1884–1936)
- حسن کو وسعتیں جو دیں عشق کو حوصلہ دیاجو نہ ملے نہ مٹ سکے وہ مجھے مدعا دیاAsghar Gondvi (1884–1936)
- شکوہ نہ چاہیئے کہ تقاضا نہ چاہیئےجب جان پر بنی ہو تو کیا کیا نہ چاہیئےAsghar Gondvi (1884–1936)