مرے وجود ابھی ناتواں نہیں ہونا
Liaqat Jafriمرے وجود ابھی ناتواں نہیں ہونا
پھر اس کے بعد یہ موسم جواں نہیں ہونا
کسے خبر تھی کہ محشر کا ہوگا یہ بھی رنگ
زمیں کا ہونا مگر آسماں نہیں ہونا
ہمیں خبر ہے کہ وحشت ٹھکانے لگنی ہے
ہمارا جوش ابھی رائیگاں نہیں ہونا
وجود اپنا ہے اور آپ طے کریں گے ہم
کہاں پہ ہونا ہے ہم کو کہاں نہیں ہونا
اب اس کے بعد سکت کچھ نہیں رہی مجھ میں
اب اس سے آگے کا قصہ بیاں نہیں ہونا
ہماری بستی کا دکھ ہے ہمیں سے پوچھو میاں
کہ قبریں ہونی مگر آستاں نہیں ہونا
مقام شکر ہے میرے لئے کہ میرے مرید
یہ تیرا آج مرا قدرداں نہیں ہونا
میں خاندان کا سب سے بڑا مداری ہوں
تماشہ ہوتا رہے گا یہاں نہیں ہونا
بس اتنی دوری میسر رہے گی دونوں کو
کہ فاصلہ بھی کوئی درمیاں نہیں ہونا
عجب عذاب تھا کہ اپنے شہر ارماں میں
ہمارے واسطے جائے اماں نہیں ہونا
یہ ظلم ہے کہ منادی ہو امتحانوں کی
پھر اس کے بعد کوئی امتحاں نہیں ہونا
عجب سپردگیٔ جاں کا مرحلہ تھا علیؔ
ہمارے ہونے کا ہم کو گماں نہیں ہونا